خبر لیجے زباں بگڑی۔۔۔ زبان کی نزاکتیں۔۔۔ تحریر: اطہر علی ہاشمی
پٹھانوں سے ہمیشہ جَرگہ ہی سنا ہے۔ لغات کے مطابق ’’جرگہ آنا‘‘ محاورہ ہے جس کا مطلب ہے پٹھانوں کی جماعت، گروہ یا وفد کا کسی کام کے لیے کسی افسر کے پاس آنا۔ جرگہ بٹھانا، جرگہ بلانا، جرگہ بندی، جرگے میں بھیجنا وغیرہ محاورے ہیں۔
گزشتہ دنوں ایک وفاقی وزیر نے فرمایا کہ عید کے بعد جھاڑو پھرے گا اور خود قرنطینہ میں چلے گئے۔ عید تو کب کی گزر چکی لیکن عرض یہ ہے کہ جھاڑو مذکر نہیں مونث ہے۔ یہ پھرتا نہیں، پھرتی ہے۔ ’’جھاڑو پھر گئی‘‘ محاورہ ہے۔ البتہ ایک بڑی سی جھاڑو جس کی دُم میں ایک بڑا سا ڈنڈا لگا ہوتا ہے اور خاکروب اس سے سڑکوں کی صفائی کرتے ہیں اُس کی جسامت دیکھ کر اُسے مذکر کہا جاسکتا ہے۔ جھاڑو کا کوئی تعلق جھاڑ یا جھاڑی سے نہیں ہے۔ جھاڑ مذکر ہے اور جھاڑی مونث۔ ’’تاڑ کا جھاڑ‘‘ بھی ایک مثل ہے، کسی لمبے چوڑے شخص کو کہتے ہیں۔ جھاڑ فانوس کو بھی کہتے ہیں۔ عام طور پر جھاڑ فانوس ایک ساتھ آتے ہیں۔ مینہ کی جھڑی کو بھی جھاڑ کہتے ہیں، اور جھاڑ پھونک بھی کی جاتی ہے۔ ’’جھاڑ باندھنا‘‘ کا مطلب ہے لگاتار بولے جانا۔ یہ منظر ٹی وی چینلوں کے پروگراموں میں دیکھا جاسکتا ہے جب اینکر بار بار بات کاٹنے کی کوشش کرتا ہے۔ ’’جھاڑ بسانا‘‘ بھی محاورہ ہے جس کا مطلب ہے لڑائی جھگڑا مول لینا۔ لیکن جھاڑ باندھنا، یا جھاڑ بسانا کا استعمال اب بول چال میں نہیں آتا، البتہ جھاڑ پونچھ ضرور گھروں میں نظر آتی ہے۔ ایک ’’جھاڑ کا کانٹا‘‘ بھی ہوتا ہے۔ ’’جھاڑو پھرے‘‘ یا ’’جھاڑو مارے‘‘ عورتوں کے محاورے ہیں۔ جھاڑ پر ایک تک بندی سن لیجیے:۔