سچی باتیں ۔۔۔ قبوں سے زیادہ اہم اسلام کی حفاظت۔۔۔ از: مولانا عبد الماجد دریا بادی

Bhatkallys

Published in - Other

04:18PM Fri 11 Oct, 2019

1925-09-11

آپ کو یاد ہے ، کہ سرور کائناتﷺ کی روحِ پاک نے جب جسد عنصری سے اپنے مرکز اصلی کی جانب پرواز کی ہے تواس کے فورًا بعد اکثر اجل صحابہ کرام کس شغل میں مشغو ل ہوگئے تھے؟ حضرت صدیقؓ ، حضرت فاروقؓ، اور جماعت مہاجرین وانصار کے اکثر فدایان رسولؐ معًا کس کام میںلگ گئے تھے؟ کیا حضورؐ کی تجہیز وتکفین میں؟ کیا جسم مبارک کے غسل دینے میں؟ کیا دفن ونماز جنازہ میں؟ سیرت نبوی کی کوئی سی بھی کتاب اُٹھا کر دیکھ لیجئے، تو معلوم ہوگا ، کہ اکثر صحابہؓ ان میں سے کسی کام میں مشغول نہ ہوئے، بلکہ تجہیز وتکفین کا کام حضورؐ کے خاص عزیزوں (حضرت عباسؓ، حضرت علیؓوغیرہما کی ایک مختصر جماعت کو سونپ کے، خود سقیفہ بنی ساعدہ میں جاکر رسول خداؐ کی خلافت وجانشینی کا تصفیہ کرنے لگے تھے، اور اس مسئلہ کے سلجھانے میں اتنی دیر ہوئی ، کہ اس کی وجہ سے جسم اطہر کے زیر خاک کرنے میں بھی تاخیر ہوئی۔

کیا (نعوذ باللہ) شیدایان اسلام کا یہ فعل تعلیم اسلام کے برخلاف تھا؟ کیا صدیقؓ وفاروقؓ کا یہ عمل محبت رسول کے منافی تھا؟ کیا یہ حضرات ؓ رسول خدا ﷺ کی تکفین وتدفین سے کوئی دلچسپی نہیں رکھتے تھے؟ کیا ان بزرگترین اصحاب رسولؐ کے نزدیک کسی مسلمان، اور پھر صاحبِ شریعت علیہ الصلاۃ والسلام کی تجہیز وتکفین کوئی اہم وضروری شے نہ تھی؟ کیا (نعوذ باللہ ) ان مقدس ہستیوں کو ان کی ذاتی غرض مندیاں جسد مبارک سے زیادہ عزیز تھیں؟ کیا (نعوذ باللہ) صحابہ کرام، اور پھر ان میں بھی بہترین صحابہ کرام کے دلوں میں رسول کریم ﷺ کی اتنی بھی محبت وعقیدت نہ تھی جتنی آج عمومًا ہر کلمہ گو کے دل میں ہے؟ کیا کوئی مسلمان ان میں سے کسی سوال کا جواب اثبات میں دینے کی جرأت کرسکتاہے؟

شمع رسالت کے ان پروانوں کو جسدِ انور کا ذرّہ ذرّہ دنیا کی تمام لذتوں اور مسرتوں سے زیادہ عزیز ومحبوب تھا، اُن کی نظر میں خاکپائے مبارک روئے زمین کے تمام خزانوں سے زیادہ قیمتی تھی، یہ سب کچھ تھا، عشق وشیفتگی میں ایک ذرّہ کمی نہ تھی، لیکن ایک شے جسدِ محمدؐ سے بڑھ کر عزیز ومحبوب تھی، اور وہ حقیقتِ محمدیؐ تھی۔ اُن کی نظر، لفظ سے زیادہ معنی پر تھی، پوست سے زیادہ مغز پر، ظاہر سے زیادہ باطن پر، عرض سے زیادہ جوہرپر، فانی سے زیادہ باقی پر، قالب سے زیادہ روح پر، مادّہ سے زیادہ جان پر، اور بشر مثلکم سے زیادہ یُوحی الیّ پر۔ رسولؐ کی جسمانیت انھیں بہت عزیز تھی، لیکن رسولؐ کی روحانیت اس سے بھی زیادہ عزیز تھی۔ رسولؐ کا نام انھیں بہت پیاراتھا لیکن رسول کا کام اس سے بھی بڑھ کر پیاراتھا۔ رسولؐ کی بشریت انھیں محبوب تھی، لیکن رسولؐ کی رسالت اس سے کہیں زائد محبوب تھی۔ وہ قرآن میں پڑھ چکے تھے ، کہ رسولؐ کی رسالت، جس کا دامن ’’وجہ الٰہی‘‘ سے بندھا ہواہے، کبھی فنا نہیں ہوسکتی (ویبقی وجہ ربّک ذو الجلال والاکرام) اس لئے اُنھوں نے جسد اطہر کی تدفین سے زیادہ اہم ومقدم رسول کی خلافت وجانشینی کے مسئلہ کو سمجھا، جس پراسلام کے سارے آئندہ نظام کا دارومدار تھا۔ اوراپنے اس طرز عمل سے امت اسلامیہ کے سامنے ہمیشہ کے لئے ایک روشن نظیر قائم کرگئے۔

صحابہ کرامؓ کے اس زبردست نظیر کو سامنے رکھ کر ، حضرت صدیقؓ ، وحضرت فاروقؓ اور ان جیسے صدہا نامور صحابیوں کے اس طرزِ عمل کو پیش نظر رکھ کر، اپنے دل سے سوال کیجئے، کہ آج کون جماعت سنت صدیقی کو اپنی دلیلِ راہ بنائے ہوئے ہے، اور سنتِ فاروقی کی پیروی کررہی ہے؟ آیا وہ گروہ، جو چندمزارات کے قبّوں کو محفوظ وبرقرار رکھنا چاہتاہے، یا وہ جماعت جو دنیائے اسلام کو نظامِ خلافت کے ماتحت لانا چاہتی ہے؟ آیا وہ فرقہ، جو اِن قبوں کے گرد طواف کرنا اور ان سے حاجت چاہنا جزء ایمان سمجھے ہوئے ہے، یا وہ طبقہ جو اپنی عزت ، دولت، جان سب کچھ نظامِ خلافت کے از سر نو قائم ہونے کے لئے نثار کررہاہے؟ آیا وہ جماعت ، جو قبروں پر اینٹ اور چونے کی عمارت کھڑی کرنا ذریعہ نجات قرار دئیے ہوئے ہے ، یا وہ گروہ جو اسلام کی عزت وحرمت، اور نظام اسلام کے قیام کے لئے سرفروشی پرآمادہ ہے؟ آج وقت قبّوں کی حفاظت کاہے، یا خود اسلام کی حفاظت کا؟ خلافت کمیٹیوں کا نام ممکن ہے نیا ہو، لیکن کیا اُن کا کام بھی نیاہے؟ کیا یہ وہی کام نہیں، جسے دنیا کے سب سے بڑے شیدایان رسولؐ، اور جماعتِ صحابہ کرام کے پیشواؤں نے جسدِ نبویؐ کی تدفین تک پر مقدم رکھاتھا؟