دہلی فسادات: پولیس کی چارج شیٹ میں یوگیندر، یچوری اور اپوروانند کے نام شامل
12:11PM Sun 13 Sep, 2020
اس سال فروری میں دہلی کے شمال مشرقی علاقہ میں کئی روز تک ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات میں پولیس کے ذریعہ داخل کی گئی سپلیمنٹری چارج شیٹ میں کچھ ایسے نام شامل کئے گئے ہیں جن پر سماج کا ایک بڑا طبقہ حیرت زدہ ہے۔ دہلی پولیس نے جن لوگوں کے نام اس چارج شیٹ میں شامل کئے ہیں ان میں سی پی ایم کے جنرل سیکریٹری سیتارام یچوری،سوراج ابھیان کے رہنما یوگیندر یادو، معروف ماہر اقتصادیات جیتی گھوش، دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر اپوروا نند اور ڈاکیومینٹری فلم ساز راہل رائے سمیت کئی سماجی کارکنان شامل ہیں، ان سبھی پر دنگوں کی ساز رچنے کا الزام ہے۔
نوجیون انڈیامیں شائع خبر کے مطابق دہلی پولیس نے دہلی کے جعفرآباد تشدد معاملہ میں پنجرا توڑ تنظیم کی دیوانگنا کالیتا،نتاشا ناروال اور گلفشاں فاطمیٰ کے خلاف ایف آئ آر درج کر کے انہیں گرفتار کیاتھا۔اسی معاملہ میں اپنی چارج شیٹ میں ملزمین کےبیانوں کی بنیاد پر سی پی ایم رہنما اوردیگر لوگوں کے ناموں کو سازش رچنے کے الزام میں شامل کیا گیا ہے۔
نوجیون میں شائع خبر کے مطابق چارج شیٹ میں پولیس کا دعوی ہے کہ جعفرآباد تشدد سے جڑے معاملہ میں گرفتار دیوانگنا کالیتا اور نتاشا ناروال نے نہ صرف فساد میں اپنے کردار کا اعتراف کیا ہے بلکہ کہا ہے کہ شہریت ترمیمی قانون یعنی سی اے اے مخالف مظاہروں میں اپوروانند ، راہل رائے اور جیتی گھوش نے ان کی رہنمائی کی۔دونوں نے اعتراف کیا کہ دسمبر میں دریا گنج میں اور فروری میں جعفرآباد میں ان مظاہروں کو منظم کرنے کا کام ان تینوں کے کہنے پر کیا۔
شائع خبر کے مطابق پنجرا توڑ کی ایک دیگر رکن گلفشاں نے اپنے بیان میں مبینہ طور پر سی پی ایم کے جنرل سیکریٹری سیتارام یچوری ، بھیم آرمی کے چندرشیکھر آزاد، سوراج ابھیان کے یوگیندر یادو، معروف وکیل محمود پراچا، عمر خالد اور مسلم سماج کے کئی رہنما جن میں اوکھلا کے رکن اسمبلی امانت اللہ خان کے شامل ہونے کا اعتراف کیا ہے۔
واضح رہے اس معاملہ میں دیونگنا کالیتا اور نتاشا ناروال کو مئی میں گرفتار کیا تھا جبکہ گلفشاں کو جولائی میں گرفتار کیا تھا۔