عزیز بلگامی کی غزل

05:26PM Sun 10 Mar, 2013

لفظ کی دْنیا میں۔۔۔ شائستہ ہنر میرابھی ہے اِس خرابے میں تماشہ سربسر میرا بھی ہے میں بھی لُٹ جاؤں گا شاید، آپ جیسے لُٹ گیے راہ میں اک راہبرشوریدہ سرمیرا بھی ہے مجھ کو۔۔۔معیارِ وفا کی۔۔۔ اِس لیے ہے جستجو قافلہ۔۔۔ شہر وفا سے۔۔۔ دربدر میرا بھی ہے سائباں کی چھاؤں ۔۔۔ہر سر کو ۔۔۔میسر آگئی ’’آسماں اک چاہیے مجھ کو کہ سر میرا بھی ہے‘‘ آندھیو!مجھ کو بھی دے دو میزبانی کاشرف دشت میں ایک ریت کا چھوٹا سا گھر میرا بھی ہے راز کے اِفشاء میں دونوں ہی ہوئے شامل عزیزؔ تیرا قاصد ہی نہیں ہے، نامہ بر میرا بھی ہے