مینگلورو میں ہندو مہاسبھا نے اکشے کمار کی نئی فلم 'لکشمی بم' پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا
01:21PM Tue 27 Oct, 2020
مینگلورو: 27 اکتوبر، 20 (بھٹکلیس نیوز بیورو) ہندو ماہسبھا کرناٹکا یونٹ نے آج مینگلورو میں منقعد ایک اخباری کانفرنس میں ہندی فلم 'لکشمی بم' پر ہندوؤں کے مذہبی جذبات کو بھڑکانے کا الزام لگاتے ہوئے اس فلم پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
اکھل بھارتیہ ہندو مہاسبھا کے ریجنل سکریٹری دھرمیندر نے اس اخباری کانفرنس میں کہا کہ یہ فلم 9 نومبر کو تھیٹر میں ریلیز ہونے والی ہے جس میں لو جہاد کو دکھاتے ہوئے ہندو مذہب کے ماننے والوں کے جذؓبات سے کھلواڑ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس فلم کا نام لکشمی دیوی کے نام پر جان بوجھ کر رکھا گیا ہے اور دیوالی تہوار کے موقع پر اس کو ریلیز کیا جارہا ہے جو کہ فلم بنانے والوں کی سوچی سمجھی سازش ہے۔
انہوں نے کہا کہ فلم میں کاسٹ ہونے والے اداکار کا نام مسلم ہے اور اداکارہ کا نام ہندو ہے۔ ان دونوں کے درمیان پیار دکھا کر اس فلم کے ذریعے لو جہاد کو بڑھاوا دیا جارہا ہے جو کہ ہمیں قطعاً منظور نہیں ہے۔
موصوف نے کہا کہ جب 'لپ اسٹک انڈر مائی برقعہ' اور 'دی دا ونک کوڈ' جیسی فلموں پر مسلمانوں اور عیسائیوں کے جذبات مجروح ہونے پر روک لگائی گئی تھی تو اس طرح کی فلم پر بھی روک لگانی چاہئے۔
ہندو مہاسبھا کے ریاستی کنوینر جگن کمار نے اس موقع پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی تنظیم یہ جاننا چاہتی ہے کہ کیا فلم بنانے والے اس کا نام 'فاطمہ بم' یا 'نسیمہ بم' رکھنا پسند کریں گے؟ اور کیا اس کو عید پر ریلیز کرنا چاہیں گے؟۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس فلم کے خلاف کارروائی نہیں کی جاتی ہے تو پھر ہندو مہاسبھا دوسری ہندو تنظیموں کے ساتھ مل کر اس نا انصافی کے خلاف احتجاج کرے گی اور اس کو روکنے کی کوشش کرے گی۔
اس کانفرنس میں ہندو مہاسبھا کے عہدیدار اور کارکن موجود تھے۔
واضح رہے کہ اس فلم میں لیڈ اداکار کے طور پر اکشے کمار اور کیارا اڈوانی کام کر رہے ہیں۔