قاضی جماعت المسلمین مولانا اقبال ملا رحمت اللہ علیہ کے سانحہ ارتحال پر تعزیتی پیغامات

01:31PM Thu 16 Jul, 2020

بھٹکل: 16 جولائ 20 (بھٹکلیس نیوز بیورو) سابق چیف قاضی مرحوم مولانا اقبال ملا ندوی کے سانحہ ارتحال کے بعد سے مختلف تنظیموں اور اداروں کی طرف سے تعزیتی پیغامات اور آڈیوز موصول ہورہے ہیں۔ ان سب کو شائع کرنا یہاں ممکن نہیں ہے اس لیے ان میں سے چند یہاں شائع کیے جارہے ہیں۔ 1 مجلس اصلاح و تنظیم بھٹکل سچ ہے کہ ہر ذی روح کو موت کے مرحلے سے گزرنا لازمی ہے. مگر بعض شخصیات کی جدائی ایک نسل اور زمانے کو متاثر کر جاتی ہے. آج حضرت مولانا محمد اقبال ملا ندوی علیہ الرحمہ کی رحلت کا جو سانحہ پیش آیا ہے وہ ایک شہر کا نہیں بلکہ پوری قوم و ملت کا زبردست خسارہ ہے. مولانا مرحوم کی شخصیت علم و فضل اور تدبر و دانشمندی کا ایک ایسا شجر سایہ دار تھی جس سے فیض یاب ہونا نعمت خداوندی کے مصداق تھا. اصلاح معاشرہ کے ساتھ اجتماعیت اور اتحاد ملت کے راستے میں مجلس اصلاح و تنظیم بھٹکل کے لئے آپ کی سرپرستی اور رہنمائی بے مثال تھی. آپ کی رحلت سے آج پوری قوم ایک بیدار مغز اور زندہ دینی و سماجی رہنما سے محروم ہو گئی ہے. اللہ سے دعا ہے کہ وہ مولانا مرحوم کی بال بال مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے سرفراز فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے. ساتھ ساتھ قوم و ملت کو آپ کے بہتر نعم البدل سے نوازے. آمین قوم کے غم میں شریک اور دعا گو عبدالرقیب ایم جے جنرل سیکرٹری، دیگر عہدیداران و مجلس انتظامیہ مجلس اصلاح و تنظیم بھٹکل   2 انڈین نوائط فورم  موت سے کسی کو رستگاری ہے آج وہ، کل ہماری باری ہے موت ایک ایسی چیز ہے جواٹل ہے اس سے کسی کو مفر نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں موت سے پہلے موت کی تیاری کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔ اس دنیا میں بعض ایسے نفوس ہوتے ہیں جن کو موت کے بعد مدرتوں یاد کرتے ہیں، انہیں میں سے ایک ایک شہر بھٹکل واطراف کی معروف دینی وعلمی شخصیت محترم المقام چیف قاضی جماعت المسلمین بھٹک وصدر جامعہ اسلامیہ بھٹکل حضرت مولانا ملا محمد اقبال صاحب ندوی رحمۃ اللہ علیہ ہیں۔ جو آج 15 جولائی 2020ء عصر کے وقت اپنی حیات مستعار کو ختم فرماکر داعی اجل کی دعوت کو لبیک کہتے ہوئے فانی دنیا سے ابدی دنیا کی طرف رختِ سفر باندھ کر راہی جنت ہوگئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون حضرت مولانا رحمۃ اللہ علیہ نے ابتدائی تعلیم انجمن میں حاصل کی پھر جب جامعہ کا قیام ہوا تو دینی تعلیم کے حصول کے لئے آپ علیہ الرحمہ نے جاعہ میں اپنی تعلیم جاری رکھی۔ عا  لمیت او رپھر ندوۃ العلماء لکھنو سے فراغت کے بعد جامعہ میں بحیثیت استاد مقرر ہوئے۔ آپ نے علی گڑھ مسلم یونیورٹسی سے ادیب کامل کا امتحان بھی پاس کیا۔ فقہ شافعی پر خصوصی مہارت تھی، کئی سالوں تک فاروقی مسجد بھکل میں اامت کی ذمہ داری بحسن وخوبی انجام دی۔ آٖ دیگر علماء کے ساتھ مل کر بھٹکل سے بدعات کو ختم کرنے کی بھرپور پوکششیں کییں۔ آپ کو دینی علم کے ساتھ ساتھ سماوی علم اور سائنی علم پر بھی خاص ملکہ حاصل تھا۔ بھٹکل کے اوقات الصلوٰۃ کو بھی اپ نے ہی ترتیب دیا۔ بے حد نیک، ملنسار، خوش اخلاق انسان تھے۔ ہر اداروں سے محبت سے پیش آنا آپ کا وصف خاص تھا۔ پوری قوم کے لئے ایک سرپرست تھے جو آج شمع بزم سے رخصت ہگئے۔ اللہ غریق رحمت کرے۔ آمین محکمہ شرعیہ میں فیصلے کے وقت انصاف کے ساتھ پیش آتے تھے۔ سابق قاضی محترم احمد خطیبی علیہ الرحمہ کے بعد آپ نے قاضی کے عہدہ پر فائز رہ کر اپنے عہدہ کا حق ادا کیا۔ الہ ان کی پوری قوم کی طرف سے اجر عظیم عطا فرمائے۔ آمین حضرت مولانا علیہ الرحمہ چند دن منگلور اسپتال میں زیر علج رہے اور آج اپنے مالک حقیقی سے جا ملے جو ہم سب کے لئے ایک عظیم خسارہ ہے۔ ہندوستان میں مقیم آٹھ بھٹکلی جماعتوں کا وفاق ادارہ انڈین نوائط فورم حضرت مولانا کے انتقالر اپنے گہرے رن وغم کا اظہار کرتا ہے اور آپ تماموں ے غم میں برابر کا شریک ہے اور دعا کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ قاضی شہر کی بال بال مغفرت فرمائے۔، ان کی قبر کو جنت کا باغ بنائے، ان کے درجات کو بلند فرمائے۔ جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام نصیب فرمائے، ان کے گھر والوں اور پوری قم کو صبر جمیل سے نوازے اور جلد از جلد ان کا صحیح نعم البدل ہمیں نصیب فرمائے۔ آمین فقط والسلا م معاذ جوکاکو جنرل سکریٹری انڈین نوائط فورم 3 بھٹکل مسلم جماعت ممبئی آسمان تری لحدپر شبنم آفشانی کرے۔۔ سبزہ نورستہ تیرے گھر کی نگہبانی کرے۔انسان کا دنیا میں آنے کے بعد دنیا سے جانا  یقینی ہے "كل نفس ذائقة الموت"  لیکن بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیکہ جن کی رحلت پوری قوم وملت کیلئے عظیم خسارہ ہوتی ہے، ان ہی میں حضرت مولانا اقبال ملا ندوی علیہ الرحمہ ہے، جو قاضی جماعت المسلمین بھٹکل و جامعہ اسلامیہ بھٹکل کے منصب صدارت عہدے  پر فائز ہوکر اپنی عظیم خدمات انجام دے رہے  تھے، محترم مولانا اقبال ملا ندوی صاحب (رح) علوم دینیہ کے ساتھ علم فلکیات میں ماہر تھے۔۔۔مولانا قومی اور ملی بہت سے اداروں کے سرپرست کے علاوہ جامعہ اسلامیہ بھٹکل اور  جامعة الصالحات میں لمبے عرصہ تک تدریسی خدمت انجام دے چکے ہیں، مولانا وقتا فوقتا اپنے علاج کیلئے ممبئی تشریف لاتے تھے ممبئی میں موجود بھٹکلی احباب و بھٹکل مسلم جماعت ممبئی کے انتظامیہ اراکین ان کی آمد پر زیارت وملاقات سے سرفراز ہوتے تھے، اور مولانا کے قیمتی نصائح سے مستفید ہوتے تھے۔ بھٹکل مسلم جماعت ممبئی کی تمام اراکین انتظامیہ عموما تمام اہلیان بھٹکل کی خدمت میں اور خصوصا ان کے  اہل خانہ   وجماعت المسلمین بھٹکل کی انتظامیہ وجامعہ اسلامیہ بھٹکل کی شوری کی خدمت میں تعزیت پیش کرتے ہیں۔اللہ سے دعاکرتے ہے۔ اللہ ان کی مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے اور قوم کو ان کا نعم البدل نصیب فرمائے، امین ثم امین منجانب بھٹکل مسلم جماعت ممبئی 4 5 6 7 8 9 10  11  12 13 14 15