بھٹکل کے لوگوں کو کورونا کی تعداد سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ عوام کوڈ جانچ کے لیے انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں: ڈپٹی کمشنر
01:53PM Tue 14 Jul, 2020
بھٹکل: 14 جولائی،20 (بھٹکلیس نیوز بیورو) "بھٹکل میں کورونا مریضوں کی تعداد سے عوام کو ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ اس تعداد کو مزید بڑھنے سے روکنے کے لیے علامت پائے جانے والے عوام کوڈ جانچ کے لیے خود سے آگے آئیں"۔ ان خیالات کا اظہار اتر کینرا کے ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر ہریش کمار نے کیا وہ آج یہاں بھٹکل میں حالات کا جائزہ لینے کے بعد اخباری نمائندوں سے مخاطب تھے۔
انہوں نے کہا کہ اکثر لوگ بخار، کھانسی کی علامت ہونے کے باوجود علامت کو چھپاتے ہوئے دوسروں کو بھی کورونا پھیلانے کا سبب بن رہے ہیں اور آخر وقت پر آکسیجن کے لیے در بدر پھرکر اپنی جان بھی جوکھم میں ڈالتے ہیں جو کہ اس شہر کے لیے بہت تشویشناک بات ہے۔
انہوں نے کہا کہ انتطامیہ کی طرف سے جانچ کرنے کا مقصد ہی یہی کہ کوئی شخص جانچ سے چھوٹ کر موت کے منہ میں نہ چلا جائے۔
ڈاکٹر ہریش کمار نے عوام کو مطمئن رہنے کی گزارش کرتے ہوئے کہا کہ یہاں اکثر لوگ ایسے ہیں جن میں علامت نہیں ہے اس لیے ان کو یہاں ویمن سینٹر (کویڈ کیر سینٹر) میں رکھا جارہا ہے جہاں صرف ڈاکٹروں کے ذریعہ ان کی تھرمل اسکیننگ اور پلس کی جانچ ہوتی ہے۔ وہاں سے لوگ سات یا دس دنوں میں صحت یاب ہوکر آتے ہیں۔
انہوں نے آگے بتایا کہ اگر یہاں کسی کو آکسیجن کی کمی نظر آتی ہے تو ان کو سرکاری اسپتال (کوڈ ہیلتھ سینٹر) میں رکھ کر علاج کیا جارہا ہے۔ ان کو چھوڑ کر جن کو کورونا کے ساتھ دوسری بیماریاں بھی ہیں ان کو مزید علاج کے لیے کاروار لے جایا جارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھٹکل میں بہت سے لوگ سرکار کی طرف سے جانچ کو لے کر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں اس کے لیے اگر نجی اسپتال میں بھی کورونا کی جانچ کرنے کی اجازت طلب کی جاتی ہے اور وہاں پر بھی جانچ کی جاتی ہے تو اس کی بھی اجازت دی جائے گی۔
ڈپٹی کمشنر نے بھٹکل میں اگلے چند دنوں میں گھر گھر جاکر سروے کیے جانے اور ریپڈ ٹیسٹ کرنے کی خبر دی اور اس کے لیے عوام سے تعاون کی اپیل کی۔
لاک ڈاؤن کے سلسلہ میں انہوں نے کہا کہ بھٹکل میں 02:00 بجے سے صبح تک جاری یہ لاک ڈاؤن اسی طرح سے جاری رہے گا اور آگے حالات کو دیکھتے ہوئے حالات صحیح ہونے کے بعد ہی یہاں لاک ڈاؤن میں نرمی دی جائے گی۔
کورونا سے مرنے والوں کی آخری رسومات کے تعلق سے وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عوام میں اس سلسلہ میں بہت سی غلط افواہیں پھیلائی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میت کی آخری رسومات کے لیے اس کے مذہبی طریقہ پر ادا کرنے کی اجازت طلب کی جاتی ہے تو انتظامیہ کی طرف سے اہل خانہ کو اس کی اجازت دی جائے گی لیکن لوگوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے سرکاری نمائندے بھی ساتھ میں رہیں گے۔
انہوں نے اس موقع پر صحافیوں کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے کوڈ معاملات کی جانچ میں تیزی لانے اور اس سلسلہ میں مزید آسانیاں پیدا کرنے کی یقین دہانی کی۔