کورونا مہاماری کے دوران آئی اس عید قرباں کے لیے تنظیم کی طرف سے ضروری ہدایات: حکومت کی ہدایات اور احکام شریعت کا پاس و لحاظ رکھنے کی تاکید

06:11AM Thu 30 Jul, 2020

بھٹکل: 30 جولائی 20 (بھٹکلیس نیوز بیورو) "اس سے قبل جو عیدیں گزری ہیں وہ بالکل ہی آزادانہ ماحول میں منائی جاتی تھیں، لیکن کورونا کی مہاماری کی وجہ سے ملک بھر میں پابندیاں لاگو ہیں اس لیے یہ عید بھی کچھ مختلف ہوگئی ہے۔ لہٰذا اس کو نعمت سمجھیں اور موقع کو غنیمت سمجھ کر احتیاط کے ساتھ عید منائیں تاکہ اگلی عیدوں میں ہمیں تکلیف کا سامنا نہ کرنا پڑے"۔ ان خیالات کا اظہار جنرل سکریٹری مجلس اصلاح و تنظیم جناب عبدالرقیب ایم جے ندوی نے کیا وہ کل بعد نماز مغرب یہاں تنظیم دفتر میں منعقد اخباری کانفرنس میں میڈیا کے توسط سے عوام کو عیدقرباں کے تعلق سے ضروری ہدایات دے رہے تھے۔ موصوف نے اس موقع پر حکومت کی طرف سے جاری تمام باتوں کی رعایت کرتے ہوئے عیدالاضحی منانے کی ترغیب دی۔ تنظیم لیگل کمیٹی کے کنوینر عمران لنکا صاحب نے اس موقع پر کہا کہ جمعہ کی نماز میں جس طرح سے احتیاط کی جاتی ہے اسی طرح عید کی دوگانہ میں بھی احتیاط برتنی چاہئے۔ انہوں نے قربانی کے ایام میں کسی طرح کا شور شرابہ نہ کرنے اور گھر پر دوسروں کو نہ جمع کرنے کی بھی تاکید کی۔ ایڈوکیٹ عمران لنکا نے اس موقع پر خاص کر دوسرے مذاہب کے لوگوں کا خیال رکھنے کی بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا دین ہمیں کسی کو تکلیف دینے سے منع کرتا ہے اس لیے ہم قربانی کے دوران کوئی ایسا کام نہ کریں جس سے دوسرے مذہب کے ماننے والوں کو تکلیف ہو۔ سیاسی پینل کے کنوینر ڈاکٹر محمد حنیف شباب صاحب نے بھی ان ایام کو غنیمت سمجھنے اور ان نامساعد حالات میں بھی تمام آزمائشوں پر کھرا اترنے کی ترغیب دی۔ انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں ہمیں عید منانے کا جو موقع ملا ہے اس پر ہمیں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہئے اور اس کو رب کی نعمت سمجھ کر قربانی کے روح کو باقی رکھنا چاہئے۔ موصوف نے یہ بھی کہا کہ حالات کے پیش نظر امسال چمڑے جمع کرنے کے لیے الگ الگ اداروں کے لوگ نہیں آئیں گے بلکہ تنظیم کی جانب سے ہی جو لوگ مقرر ہیں ان ہی کو جانوروں کی دیگر اشیاء کے ساتھ چمڑے بھی دینے ہونگے۔ ڈاکٹر شباب صاحب نے کہا کہ امسال یہ ذمہ داری الہلال ایسوسی ایشن مخدوم کالونی کو دی گئی ہے انہوں نے عوام سے درخواست کی کہ جانور کی بچی ہوئی چیزیں اور چمڑا ان کے حوالہ کریں اور بڑے جانور کے ساتھ ان کو 500 روپئے اور بکرے کے لیے 150 روپئے  ادا کریں۔ انہوں نے قصائی کو دینے والی اجرت کے بارے میں کہا کہ سابقہ سال کی طرح امسال بھی قصائی کے لیے تنظیم کی طرف سے بڑا جانور بڑے سائز کے لیے 4000 روپئے، بڑا جانور چھوٹے سائز کے لیے 3000 روپئے، بڑے بکرے کے لیے 500 روپئےاور چھوٹے بکرے کے لیے 300 روپئے مقرر کیے گئے ہیں۔ نائب صدر تنظیم عتیق الرحمٰن منیری صاحب نے بھی اس موقع پر احتیاطی تدابیر کو اپنانے کی ترغیب دی اور گھروں پر لوگوں کو جمع نہ کرنے کی درخواست کرتے ہوئے امن کے ساتھ عید منانے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے قربانی کے دوران ویڈیو گرافی، تصاویر اور پیغامات کی ترسیل سے بھی گریز کرنے کی بھی تاکید کی تاکہ اس کی وجہ سے آگے چل کر کوئی مشکل نہ ہو۔ سماجی امور کے سکریٹری جناب جیلانی شابندری صاحب نے اس موقع پر میڈیا اور حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔