بھٹکل کے موجودہ حالات پر علماء کرام کے وفد کی سرکاری افسران سے ملاقات: مختلف مسائل پر کی گئی بات چیت

09:11AM Sun 19 Jul, 2020

بھٹکل: 19 جولائ 20 (بھٹکلیس نیوز بیورو) مجلس اصلاح و تنظیم سے مشورہ کے بعد بھٹکل کے قاضی صاحبان اور دیگر معزز علماء کرام پر مشتمل ایک وفد نے بھٹکل کے مختلف مسائل کو حل کرنے کے لیے دو دن قبل بھٹکل تعلقہ کے اعلی افسران سے ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات میں علماء کرام کے ذریعے افسران سے عوام میں علاج کو لے کر ہورہی تشویش کا تذکرہ کرتے ہوئے موسمی بخار اور کھانسی وغیرہ کا نجی اسپتالوں اور فیمیلی ڈاکٹروں کے پاس علاج کی سہولت دینے کا مطالبہ کیا گیا اور اس جیسے مختلف امور پر گفتگو کی گئی۔ میڈیا کے نمائندوں سے آج بات کرتے ہوئے چیف قاضی مرکزی خلیفہ جماعت المسلمین مولانا خواجہ معین الدین اکرمی مدنی نے کہا کہ اس ملاقات کے بعد افسران نے اس بات کی اجازت دی ہے کہ عام حالات میں اپنے فیمیلی ڈاکٹروں سے رجوع کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حالات بگڑجائیں اور ڈاکٹر آگے جانے کا مشورہ دیں تو اس صورت میں آگے علاج ضروری کرایا جائے۔ مولانا نے اللہ پر بھروسہ رکھنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسے حالات میں نہ گھبرانے کی ضرورت ہے اور نہ ہی بے احتیاطی کی ضرورت ہے۔ بلکہ علامت پائے جانے احتیاطی تدابیر اختیا کرنا چاہئے اور اپنی جانچ کرانی چاہئے تاکہ دوسرے بھی اس سے بچ سکیں۔ نائب قاضی جماعت المسلمین جناب مولانا عبدالرب خطیبی ندوی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مرض کا علاج ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے حدیث کے حوالہ سے فرمایا کہ صحت اور فراغت ایسی چیزیں ہیں جس کے تعلق سے کبھی بھی غفلت نہیں برتنا چاہئے۔ مولانا نے تعلقہ میں ہورہی اموات کی تعداد پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سلسلہ میں بے احتیاطی نہیں کرنی چاہئے۔ مولانا نے سرکاری افسران اور تنظیم کے ذمہ داران کی طرف سے دی گئی ہدایات پر عمل کرنے کی گزارش کی۔ مولانا الیاس جاکٹی ندوی نے اس موقع پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پچھلے کچھ دنوں سے بھٹکل جیسے چھوٹے قصبے میں اموات کی شرح میں اضافہ ہورہا جو تشویش کا سبب ہے۔ انہوں نے عوام کو مشورہ دیا کہ کورونا کے آثار پائے جانے پر اس کو چھپا کر نہ رکھیں بلکہ اپنی جانچ ضرور کروائیں۔ مولانا محترم نے کہا کہ آثار کا مطلب عام بخار یا کھانسی نہیں ہے بلکہ سانس میں تکلیف یا پھر گلے میں مسلسل خراش اور بخار کا مسلسل تیز ہونا ہے۔ مولانا نے کہا کہ اگر ایسی علامت پائی جاتی ہے تو پہلی فرصت میں سرکاری اسپتال جاکر اپنی جانچ کروائیں۔ مولانا نے کہا کہ افسران نے کہا ہے کہ اگر کوئی گھر میں کورنٹائن ہونا چاہتا ہے تو اس کی بھی اجازت دی جائے گی۔ اس موقع کورنا سے مرنے والوں کی تدفین اہل خانہ کے ذریعے کرنے کی اجازت مانگی گئی اور افسران سے یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ مینگلور کی طرح یہاں پر بھی رپورٹ پوزیٹیو آنے پر گھر میں رہ کر علاج کرانے کی اجازت دی جائے۔ اس پر افسران نے اعلیٰ افسران سے تبادلہ خیال کے بعد ہی آگے بڑھنے کی خبر دی۔ مولانا الیاس صاحب ندوی نے اس موقع پر خصوصی طور پر عوام سے درخواست کی کہ کوئی مسئلہ پیش آنے پر وہ تنظیم اور اس کے ذمہ داران کے خلاف سوشیل میڈیا وغیرہ میں بات نہ کریں اور اس کو عوامی بنا کر کام کرنے والوں کی ہمت پست نہ کریں۔ اگر کوئی مخلص ہے تو وہ تنظیم دفتر جاکر یا بذریعے فون ذمہ داران سے بات کریں۔ اس وفد میں مذکورہ حضرات کے علاوہ مولانا عبدالعظیم قاضیا ندوی، مولانا انصار خطیب مدنی، مولانا مقبول کوبٹے ندوی، مولانا اسامہ صدیقی ندوی، مولانا عبدالعلیم خطیب ندوی وغیرہ موجود تھے۔