کورونا کی دوسری لہر پر قابو پانے کے  لیے ریاست میں لگائے جائیں گے  سخت قوانین: فی الحال کرناٹک میں لاک ڈاؤن کی نہیں ہے ضرورت: وزیر صحت ڈاکٹر سدھاکر کا بیان

03:19PM Mon 22 Mar, 2021

بینگلورو: 22 مارچ ، 2021 (ذرائع/بھٹکلیس نیوز بیورو) ریاستی حکومت کرناٹک میں کورونا کویڈ ۔19 کی دوسری لہر پر قابو پانے اور اس کے انفیکشن کو روکنے کے لیے سخت قوانین نافذ کر رہی ہے  ، تاہم ریاست میں فی الحال آدھے یا مکمل لاک ڈاؤن کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ یہ وضاحت آج بینگلور میں وزیر صحت ڈاکٹر سدھاکر نے کی وہ یہاں اخباری نمائندوں سے مخاطب تھے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا کی دوسری لہر کو روکنے کے لیے حکومت کمر کس چکی ہے اور حکومت  پچھلی بار کی غلطی دہرانا نہیں چاہتی ہے اس لیے اس بار  کورونا کے زیادہ معاملات والی ریاستوں جیسے مہاراشٹرا اور کیرلا وغیرہ سے آنے والوں کی سختی سے جانچ کی جارہی ہے ۔یہاں سے آنے والوں کے پاس اگر کورونا منفی رپورٹ نہیں ہوتی ہے تو سرحد پر ہی ان کی جانچ کی جارہی ہے۔ وزیر صحت نے کہا کہ ماسک کو لازمی کرنے کے لیے حکومت کی طرف سے جرمانے کی قیمت میں اضافہ کرنے پر سوچا جارہا ہے۔ انہوں نے عوام کو کورونا ویکسین لینے کی بھی صلاح دی۔ ڈاکٹر سدھا کر نے کہا کہ  وزیر اعلی بی ایس یڈیورپا نے اس سلسلے میں ایک میٹنگ کی ہے۔ جس میں  طے کیا گیا کہ ابھی فی الحال کے لیے ریاست میں آدھا یا مکمل لاک ڈاؤن نہیں ڈالا جائے گا۔ لیکن شادیوں اور دیگر بھیڑ بھاڑ کی جگہوں پر ماسک نہ پہننے والوں، سماجی فاصلوں کی پابندی نہ کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔   انہوں نے کہا ، "اگر معاملات میں مزید اضافہ ہوتا ہے تو ، وزیر اعلی سے تبادلہ خیال کے بعد تعلیمی اداروں کو بند کرنے کے بارے میں فیصلہ لیا جائے گا۔"موصوف نے کہا کہ اگر عوام حکومت کے ساتھ پورا تعاون کریں  گےتو پھر آسانی کے ساتھ کورونا کی دوسری لہر کو بڑھنے سے روکا جاسکتا ہے۔