بی سی جے کی جانب سے سید عثمان ایس جے کی تہنیت
12:58PM Fri 28 Aug, 2020
جدہ: 28 اگست، 20 (بھٹکلیس نیوز بیورو) گزشتہ رات 9:30 بجے بھٹکل کمیونٹی ہال جدہ میں بھٹکل کمیونٹی جدہ (بی سی جے) کے فعال اور سرگرم رکن اور 39سال سے سعودی عربیہ جدہ میں مقیم رہ کر خدمت انجام دینے والے جناب سید عثمان ایس جے کی تہنیت کرتے ہوئے سپاس نامہ پیش کیا گیا۔
یہ اعزاز جماعت کی جانب سے انکی وطن واپسی کے وقت انکی خدمات کی قدردانی کرتے ہوئے دیا گیا۔ جناب سید عثمان ایس جے جدہ جماعت میں لمبے عرصے تک حج سکریٹری کے عہدے پر فائز رہ کر وطن عزیز سے آئے ہوئے حاجیوں کی خدمت میں پیش پیش رہتے تھے۔ اسکے علاوہ انہوں نے ائی پی ڈبلیو یف کے ساتھ جڑ کر ملکی و غیر ملکی حاجیوں کی بھی خدمات انجام دی ہیں۔ انکی اہلیہ بھی خواتین حاجیوں کی خدمت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی تھی اور ان کے بچے بھی ہر وقت انکے ساتھ حاجیوں کی خدمت و فلاحی و سماجی کاموں میں پیش پیش رہتے تھے۔
جناب سید عثمان ایس جے ویسے تو جدہ اور ینبع میں تجارت کرتے تھے مگر انکا مستقل قیام جدہ میں ہی تھا۔ جب بھی فلاحی و سماجی کام کرنے کا موقع ملتا تو ہروقت تیار رہتے۔ 2013 اپریل میں جب ملک عبداللہ بن عبدالعزیز السعود مملکت میں رہ رہے اجنبی جو عمرہ ، حج، یا وزٹ ویزہ سے آکر غیرقانونی طور پر مقیم تھے یا جن احباب کے اسپانسر کے مسائل تھے انہیں عام معافی کا اعلان کرتے وطن واپس جانے کی اجازت دی گئی تھی۔ اس دوران بھی موصوف جدہ میں موجود تنظیموں سے مل کر رات دن کونسلیٹ جنرل آف انڈیا میں اور جیلوں کے اندر تارکین وطن ہندوستانیوں کے لئے اپنی خدمات پیش کر رہے تھے۔
اس تہنیتی تقریب میں جناب محمد نعمان علی اکبرا، جناب محمد یٰسین عسکری، جناب ریحان کوبٹے، جناب قمر سعدا، جناب عبیداللہ عسکری، جناب ادریس سدی باپا ، جناب فضل الرحمن منیری، جناب عارف قاسمجی، جناب وسیم سدی باپا، جناب ارشد ائیکری، جناب فیصل دامودی، جناب سلمان کولا نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ہر ایک نے انکا وصف بیان کرتے ہوئے کہا کہ وقت کے پابند سواری نہ ہوتے ہوئے بھی وقت کا لحاظ رکھتے پروگراموں میں یا سماجی کام کے لیے پہنچ جاتے تھے۔ اپنی ذاتی مشغولیات کے باوجود حجاج کی خدمت ہو یا جماعت کی جانب سے تفویض کردہ کاموں کو نبھانے کے لئے تیار رہتے۔ جدہ جماعت میں رسوم تجارت کی ابتداء آپ ہی کی جانب سے ہوئی ہے۔ جب بھی مرکزی اداروں کے ذمہ دار یا علمائے کرام جدہ آتے تو انہیں ساتھ دینے کے لئے ہمیشہ تیار رہتے۔ اپنے ہم عمر افراد کے علاوہ نوجوانوں کے ساتھ محبت اور شفقت سے مل جل کر رہنا بھی ان کی ایک خاص خوبی ہے۔ اللہ کے بندوں کی مدد کرنا، لوگوں کو نفع پہنچانا انکا شیوہ رہا۔ ممبران نے بڑے ہی تعجب سے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ ظُلم طائف کے قریب علاقے میں جدہ سے بہت ہی دور بھٹکلی احباب کے حادثہ کی خبر ملتے ہی اپنے پاس سواری نہ ہونے کے باوجود ٹیکسی سے جائے حادثہ پر پہنچ کرجدہ جماعت کے ذمہ داران کے ساتھ زخمیوں کو اسپتال منتقل کرنے میں بھی پیش پیش تھے۔ ہمیشہ جماعت کے کام اور مفاد کو مقدم رکھا۔ مقررین نے یہ بھی کہا کہ جماعتی زندگی کا رحجان اور قومی خدمت آپ کے اندر شروع سے ہی پائی جاتی تھی۔ ہمیشہ انہوں نے ملازمت سے زیادہ تجارت کی ترغیب دی۔ آپ کی کامیابی کا ثمرہ آپکی اہلیہ کو بھی جاتا ہے جو ہمیشہ آپ کے شانہ بشانہ رہیں۔ اس کے علاوہ انکو اس مقام تک پہنچانے میں جناب ایس کے جامع صاحب کا بھی اہم کردار رہا ہے۔ انہوں نے بھی ہر وقت انہیں اسطرح کے کاموں میں آگے بڑھنے اور خدمت خلق کا موقع فراہم کیا۔
جناب سید عثمان ایس جے صاحب نے اپنے تاثرات میں کہا کہ جماعت نے انہیں کام کرنے کا جو موقع عنایت کیا اس کو انہوں نے اپنی استطاعت کے مطابق مکمل کرنے کی کوشش کی اور اپنی اہلیہ و شریک کاروبار کا بھی شکریہ ادا کیا جن کی بدولت انہوں نے قومی خدمات کے لیے وقت نکالا۔ انہوں نے ممبران کو کہا کہ خدمت کرنے کے مواقع بہت ہیں، ہر وقت موقع کی تلاش میں رہیں اور آگے بڑھیں۔
ان کی خدمت میں پیش کیا گیا سپاس نامہ سکریٹری جناب نوید حسن ائیکری نے پڑھ کر سنایا۔ شال پوشی بی سی جے کے سابق صدر جناب محمد یٰسین عسکری اور جناب محمد نعمان علی اکبرا کے ہاتھوں ہوئی، میمینٹو صدر جماعت جناب عبدالسلام دامدا ابو اور نائب صدر جناب شریف اکرمی نے پیش کیا۔
پروگرام کا اغاز مولوی سید قطب برماور کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ ناظم اجلاس سکریٹری جناب نوید حسن ائیکری نے جلسہ میں تمام ممبران کا استقبال کیا۔ جلسہ کے صدر جناب عبدالسلام دامدا ابو نے صدارتی کلمات پیش کرتے ہوئے کہا کہ خدمات کا اعتراف ہر وقت ہونا چاہیے تاکہ یہ دوسروں کے لئے نمونہ ثابت ہو،اللہ کی مدد ہر وقت انکے ساتھ ہوتی ہے جو لوگوں کی خدمت میں لگے رہتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جناب ایس کے جامع کا خلوص تھا کہ انہوں نے ہر وقت سید عثمان صاحب کو خدمت خلق کا موقع دیا، جلسہ کا اختتام جناب شریف اکرمی کے شکرانہ کلمات اور جناب فضل الرحمن منیری کی دعا پر ہوا۔
جناب سید عثمان ایس جے ویسے تو جدہ اور ینبع میں تجارت کرتے تھے مگر انکا مستقل قیام جدہ میں ہی تھا۔ جب بھی فلاحی و سماجی کام کرنے کا موقع ملتا تو ہروقت تیار رہتے۔ 2013 اپریل میں جب ملک عبداللہ بن عبدالعزیز السعود مملکت میں رہ رہے اجنبی جو عمرہ ، حج، یا وزٹ ویزہ سے آکر غیرقانونی طور پر مقیم تھے یا جن احباب کے اسپانسر کے مسائل تھے انہیں عام معافی کا اعلان کرتے وطن واپس جانے کی اجازت دی گئی تھی۔ اس دوران بھی موصوف جدہ میں موجود تنظیموں سے مل کر رات دن کونسلیٹ جنرل آف انڈیا میں اور جیلوں کے اندر تارکین وطن ہندوستانیوں کے لئے اپنی خدمات پیش کر رہے تھے۔
اس تہنیتی تقریب میں جناب محمد نعمان علی اکبرا، جناب محمد یٰسین عسکری، جناب ریحان کوبٹے، جناب قمر سعدا، جناب عبیداللہ عسکری، جناب ادریس سدی باپا ، جناب فضل الرحمن منیری، جناب عارف قاسمجی، جناب وسیم سدی باپا، جناب ارشد ائیکری، جناب فیصل دامودی، جناب سلمان کولا نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ہر ایک نے انکا وصف بیان کرتے ہوئے کہا کہ وقت کے پابند سواری نہ ہوتے ہوئے بھی وقت کا لحاظ رکھتے پروگراموں میں یا سماجی کام کے لیے پہنچ جاتے تھے۔ اپنی ذاتی مشغولیات کے باوجود حجاج کی خدمت ہو یا جماعت کی جانب سے تفویض کردہ کاموں کو نبھانے کے لئے تیار رہتے۔ جدہ جماعت میں رسوم تجارت کی ابتداء آپ ہی کی جانب سے ہوئی ہے۔ جب بھی مرکزی اداروں کے ذمہ دار یا علمائے کرام جدہ آتے تو انہیں ساتھ دینے کے لئے ہمیشہ تیار رہتے۔ اپنے ہم عمر افراد کے علاوہ نوجوانوں کے ساتھ محبت اور شفقت سے مل جل کر رہنا بھی ان کی ایک خاص خوبی ہے۔ اللہ کے بندوں کی مدد کرنا، لوگوں کو نفع پہنچانا انکا شیوہ رہا۔ ممبران نے بڑے ہی تعجب سے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ ظُلم طائف کے قریب علاقے میں جدہ سے بہت ہی دور بھٹکلی احباب کے حادثہ کی خبر ملتے ہی اپنے پاس سواری نہ ہونے کے باوجود ٹیکسی سے جائے حادثہ پر پہنچ کرجدہ جماعت کے ذمہ داران کے ساتھ زخمیوں کو اسپتال منتقل کرنے میں بھی پیش پیش تھے۔ ہمیشہ جماعت کے کام اور مفاد کو مقدم رکھا۔ مقررین نے یہ بھی کہا کہ جماعتی زندگی کا رحجان اور قومی خدمت آپ کے اندر شروع سے ہی پائی جاتی تھی۔ ہمیشہ انہوں نے ملازمت سے زیادہ تجارت کی ترغیب دی۔ آپ کی کامیابی کا ثمرہ آپکی اہلیہ کو بھی جاتا ہے جو ہمیشہ آپ کے شانہ بشانہ رہیں۔ اس کے علاوہ انکو اس مقام تک پہنچانے میں جناب ایس کے جامع صاحب کا بھی اہم کردار رہا ہے۔ انہوں نے بھی ہر وقت انہیں اسطرح کے کاموں میں آگے بڑھنے اور خدمت خلق کا موقع فراہم کیا۔
جناب سید عثمان ایس جے صاحب نے اپنے تاثرات میں کہا کہ جماعت نے انہیں کام کرنے کا جو موقع عنایت کیا اس کو انہوں نے اپنی استطاعت کے مطابق مکمل کرنے کی کوشش کی اور اپنی اہلیہ و شریک کاروبار کا بھی شکریہ ادا کیا جن کی بدولت انہوں نے قومی خدمات کے لیے وقت نکالا۔ انہوں نے ممبران کو کہا کہ خدمت کرنے کے مواقع بہت ہیں، ہر وقت موقع کی تلاش میں رہیں اور آگے بڑھیں۔
ان کی خدمت میں پیش کیا گیا سپاس نامہ سکریٹری جناب نوید حسن ائیکری نے پڑھ کر سنایا۔ شال پوشی بی سی جے کے سابق صدر جناب محمد یٰسین عسکری اور جناب محمد نعمان علی اکبرا کے ہاتھوں ہوئی، میمینٹو صدر جماعت جناب عبدالسلام دامدا ابو اور نائب صدر جناب شریف اکرمی نے پیش کیا۔
پروگرام کا اغاز مولوی سید قطب برماور کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ ناظم اجلاس سکریٹری جناب نوید حسن ائیکری نے جلسہ میں تمام ممبران کا استقبال کیا۔ جلسہ کے صدر جناب عبدالسلام دامدا ابو نے صدارتی کلمات پیش کرتے ہوئے کہا کہ خدمات کا اعتراف ہر وقت ہونا چاہیے تاکہ یہ دوسروں کے لئے نمونہ ثابت ہو،اللہ کی مدد ہر وقت انکے ساتھ ہوتی ہے جو لوگوں کی خدمت میں لگے رہتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جناب ایس کے جامع کا خلوص تھا کہ انہوں نے ہر وقت سید عثمان صاحب کو خدمت خلق کا موقع دیا، جلسہ کا اختتام جناب شریف اکرمی کے شکرانہ کلمات اور جناب فضل الرحمن منیری کی دعا پر ہوا۔