وزار ت فروغ انسانی وسائل سے وزات اقلیتی امورمنتقل ہوگی مدرسہ جدید کاری اسکیم
01:43PM Mon 20 Jul, 2020
نئی دہلی: مرکزی حکومت کی وزارت برائے انسانی وسائل کی مدرسہ ماڈرنائزیشن اساتذہ اسکیم مرکزی اقلیتی وزارت کو منتقل کردی جائے گی۔ مرکزی اقلیتی وزارت یوپی سمیت دیگر ریاستوں کو خط بھیج رہی ہے۔ اترپردیش میں مدرسہ اسکیم رجسٹرار اور عہدیداروں کے ساتھ ویڈیو کانفرنسنگ میں اسکیم کو اقلیتی وزارت کو منتقل کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ اترپردیش مدرسہ کے رجسٹرار نے تصدیق کردی ہے۔ اترپردیش میں اس اسکیم کے تحت صرف 25000 اساتذہ کام کرتے ہیں۔ اس اسکیم میں تقریبا 50 ہزار اساتذہ کام کرتے ہیں۔
گزشتہ کئی مہینوں سے وزارت اقلیتی امور کے مدرسہ جدید کاری اسکیم میں دلچسپی لینے کے اشارے مل رہے تھے ۔تاہم یہ بات صاف ہوگئی ہے کہ مرکزی وزارت فروغ انسانی وسائل کے تحت چلائی جانے والی اس اسکیم کو مرکزی وزارت اقلیتی امور کے تحت لایا جائے گا ۔گزشتہ مہینوں میں اترپردیش کے اساتذہ کے تعلق سے کئی خطوط وزارت فروغ انسانی وسائل کو بھیجے گئے اور ساتھ ہی ساتھ ہر خط وزارت اقلیتی امورکو بھی بھیجا گیا تاہم دو روز قبل اترپردیش کے مدرسہ رجسٹرار اور سرکاری عہدیداروں کے ساتھ ویڈیو کانفرنسنگ میں اس بات پراتفاق ہوگیا ہے کہ اسکیم کو وزار ت اقلیتی امور کو ٹرانسفر کردیا جائے گا ۔البتہ نوٹفیکشن اور آڈر ابھی جاری نہیں کئے گئے ہیں ۔نیو ز 18ملی معلومات کی تصدیق اترپردیش کے سرکاری ذرائع سے ہوچکی ہیں ۔سرکاری ذرائع کا کہنا ہے خطوط او رلیٹر اقلیتی امور کی وزارت ضرور وبھیج رہی ہے تاہم ابھی تک ہوئی تحریری آڈر حکم نامہ نہیں آیا ہے جس سے ٹرانسفر کی بات ہو تاہم ایک ویڈیو کانفرنس ہوئی ہے۔
اساتذہ اسوسی ایشن نے بھیجا مرکز کو خط
اسکیم کے تحت کام کرنے والے اساتذہ کیلئے اب بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اگر وزارت فروغ انسانی وسائل یہ اسکیم کو اقلیتی وزارت بھیج دیا جاتا ہے تو ان کی چار سالوں کی بقایا سیلری کا کیا ہوگا ۔کیا اقلیتی امور کی وزارت گِزشتہ سالوں کی سیلری دینے کے تیا رہو گی یا پھر وزارت فروغ انسانی وسائل کے اوپر بقایا بنا رہے گا ۔ان اساتذہ کی اسوسی ایشن اسلامک مدرسہ جدیدکاری اساتذہ اسوسی ایشن آف انڈیاکی جانب سے ایک خط وزیر اعظم ، وزیرفروغ انسانی وسائل ،وزیر اقلیتی امورکے نام لکھا گیا ہے جس میں اس بات پر اصرار کیاگیا ہے کہ کرونا وائرس کے دور میں اساتذہ کی سیلری دی جانی چاہیے اور اسکیم کو ایک وزارت سے دوسری وزارت بھیجنا عجیب ہے سوال کیا گیا ہے کہ اگر دوسری وزارت گزشتہ سالوںکی سیلری دینے میں آناکانی کرتی ہے تو اس کی ذمہ داری کون لے گا۔
وزارت تعلیم سے اسکیم کی منتقلی پر سوال
ایسوسی ایشن کی جانب سے بھیجے گئے خط میں اسکیم کو وزارت تعلیم سے اقلیتی امور بھیجے جانے پر اعتراض جتایاگیا ہے اور خط میں لکھا گیا ہے کہ اسکیم مدرسوں میں جدید تعلیم دینے کیلئے لائی گئی تھی ۔وزارت تعلیم کے پاس این سی ای آر ٹی اور ایس سی ای آر ٹی جیسے عمدہ تعلیمی ادارے ہیں تعلیمی اداروں کے پاس بلاک سطح تک بنیادی ڈھانچہ موجود ہے ایسے میں صرف وزارت تعلیم ہی مدرسوںکی اسکیم کو مزید اور بہتر بناسکتی ہے۔ وزارت اقلیتی امور کو تعلیمی اسکیم چلانے کا کوئی تجربہ نہیں ہے ایسے میں اسکیم کیسے چلائی جائے گی؟ یہ ایک افسوسناک فیصلہ ہے۔
1993میں شروع ہوئی تھی اسکیماسوسی ایشن کے صدر اعجاز بتاتے ہیں کہ اسکیم کو 1993میں شروع کیا گیا تھا لیکن اس کا نام بدلتا رہا ہے۔اسکیم وزیر اعظم کے پندرہ نکاتی پروگرام میں شامل ہے ۔اسکیم کا تجزیہ این سی ای آر ٹی اور ایس سی ای آر ٹی کے ذریعہ کیا جاتا رہا ہے اساتذہ کی تربیت بھی ہوتی رہی ہے اسی کی وجہ سے مدرسوں کی تعلیم او رمعیار میں کافی اصلاح ہوئی ہے ۔لیکن جب چار سالوں سے سیلری نہیں ملی ہے۔ ایسے میں اسکیم کو متقل کرنا بہت افسوسناک ہے۔ کوئی بھی تعلیمی ماہرنہیں کہے گا کہ تعلیم کی اسکیم وزارت تعلیم کے بجائے اقلیتی امو رکی وزارت کو دے دی جائے۔ وزیر اعظم سے ہماری اپیل ہے کہ اسکیم کو وزارت فروغ انسانی وسائل کے تحت ہی رکھا جائے۔