اطالوی سفیر کے بھارت چھوڑنے پر پابندی
09:46AM Fri 15 Mar, 2013
سپریم کورٹ نے ہی دونوں ملزمان فوجیوں کو فروری میں چار ہفتے کے لیے اپنے ملک جانے کی اجازت دی تھی
بھارت کی سپریم کورٹ نے اطالوی فوجیوں کے معاملے میں ایک غیر معمولی قدم اٹھاتے ہوئے بھارت میں اٹلی کے سفیر ڈینیل مچني کو ملک نہ چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔
سپریم کورٹ نے اٹلی کے سفیر کو 18 مارچ تک اس معاملے میں جواب دینے کو بھی کہا ہے۔
بھارت کے وزیر خارجہ سلمان خورشید نے کہا ہے کہ بھارت کی حکومت نے عدالت کو اپنے موقف سے آگاہ کر دیا ہے۔
سپریم کورٹ کے حکم کے بعد سلمان خورشید نے دلی میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، ’اس معاملے میں قدم اٹھانے سے پہلے اٹلی اور بھارت کے درمیان سفارتی تعلقات کے کئی پہلوؤں پر نظر رکھنا ہوگا لیکن بھارت کے لوگوں کے جذبات سب سے زیادہ اہم ہیں۔‘
بدھ کی رات بھارتی حکومت نے اطالوی سفارت خانے کے حکام کو طلب کر اطالوی حکومت کی جانب سے اپنے فوجیوں کو بھارت واپس بھیجنے سے انکار پر اپنی کی رائے سے آگاہ کر دیا تھا۔
بھارت کے خارجہ سیکرٹری رنجن متھائي نے اس کے بعد کہا تھا ’ہم نے ان سے کہا کہ اٹلی کی حکومت کا فیصلہ ہمیں قابل قبول نہیں ہے۔ اٹلی حکومت کو اپنے وعدے کے مطابق اطالوی فوجیوں کو واپس بھارت بھیجنا چاہیے۔‘
سیکرٹری خارجہ کے مطابق اٹلی کے سفارت کاروں نے یہ پیغام اپنی حکومت تک پہنچانے کی بات کی ہے۔
اسی سلسلے میں بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ نے کہا تھا کہ وہ اس مسئلے پر اطالوی حکام سے بات کریں گے تاکہ بھارت کے دو ماہی گیروں کے قتل کے ملزم اطالوی فوجیوں کو بھارت لایا جا سکے۔
خیال رہے کہ بھارتی شہر کوچی کے سمندری ساحل پر اطالوی تیل بردار ٹینکر کی نگرانی کرنے والے دو اطالوی فوجیوں نے بھارتی ماہی گیروں کو بحری قزاق سمجھ کر ان پر گولی چلا دی تھی۔
اس حادثے میں دو ماہی گیر ہلاک ہوئے تھے اور ان دونوں اطالویوں کو گزشتہ برس حراست میں لیا گیا تھا۔
سپریم کورٹ نے ان دونوں ملزمان کو فروری میں چار ہفتے کے لیے اپنے ملک جانے کی اجازت دی تھی جس کی وجہ اطالوی عام انتخابات کے دوران ووٹ ڈالنا بتائی گئی تھی۔
یہ دونوں اسے سے قبل کرسمس کی چھٹیوں میں بھی اپنے ملک گئے تھے تاہم وقتِ مقررہ میں واپس آگئے تھے لیکن پیر کو اطالوی حکومت نے کہا تھا کہ یہ اب واپس بھارت نہیں جائیں گے اور اٹلی اس معاملے پر عالمی ثالثی کے لیے تیار ہے۔

BBC