عوامی تنقید کے بعد واٹس ایپ نے ڈیٹا شیئرنگ کی ڈیڈلائن میں توسیع کردی

03:07PM Sun 17 Jan, 2021

مینلوپارک: واٹس ایپ نے پوری دنیا سے تشویش اور عوامی تنقید کے بعد فیس بک سے ڈیٹا شیئرنگ اقدام وقتی طور پر مؤخر کردیا ہے۔ واٹس ایپ نے جمعے کے روز اپنی متازعہ پرائیویسی پالیسی کے متعلق ایک اہم بیان جاری کرتے ہوئے اسے تین ماہ کے لیے مؤخر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس سے قبل اسمارٹ فون پر آڈیو اور ویڈیو رابطے کی مشہور ایپ نے کہا تھا کہ وہ 8 فروری کے بعد سے اپنی پالیسی بدلتے ہوئے صارفین کا بہت سا ڈیٹا فیس بک سے شیئر کرے گی۔ اس اعلان کے بعد دنیا بھر میں واٹس ایپ کے دو ارب کے لگ بھگ صارفین نے پرائیویسی پالیسی پر تنقید کی تھی اور دوسری جانب لوگوں کی بڑی تعداد نے پالیسی کی دستاویز کو مسترد کرتے ہوئے دیگر ایپس کی جانب رجوع کرنا شروع کردیا تھا۔ ان ایپس میں سگنل اور ٹیلی گرام سرِ فہرست ہیں جو ایپل اور ایپ اسٹور پر سرِ فہرست آگئی تھیں۔ یہاں تک کہ بعض ممالک میں ان ایپس کو نمبر ایک ڈاؤن لوڈ ہونے والی فہرست میں شامل کیا جارہا تھا۔ واٹس ایپ نے اس متعلق اپنی ٹویٹ میں کہا ہے کہ ہم سے رابطہ کرنے والے ہر فرد کا شکریہ۔ ہم واٹس ایپ صارفین سے براہِ راست رابطہ کرکے ’غلط فہمی‘ کا ازالہ کریں گے۔ 8 فروری کو کسی کے بھی اکاؤنٹ ختم یا معطل نہیں کئے جائیں گے۔ مئی میں ہم اپنے کاروباری منصوبے کو دوبارہ پیش کریں گے۔ ایک اور ٹویٹ میں کہا گیا ہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ صارفین کو ہماری شرائط جاننے اور جائزہ لینے کا مناسب وقت مل جائے۔ ہم یقین دلاتے ہیں کہ ہم کوئی اکاؤنٹ ڈیلیٹ نہیں کریں گے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق واٹس ایپ صارفین کی بڑی تعداد دیگر ایپس پر منتقل ہونے کے بعد اور دباؤ کے تحت واٹس ایپ نے یہ فیصلہ مؤخر کیا ہے۔ واضح رہے کہ برطانیہ اور یورپی ممالک کے صارفین اس نئی پرائیویسی پالیسی میں شامل نہیں ہوں گے۔