ایم پی ضمنی انتخاب: بی جے پی میں سندھیا کے 'قد' پر چلی قینچی، برانڈ ویلو ختم!
03:20PM Sat 17 Oct, 2020
مدھیہ پردیش میں اسمبلی کی 28 سیٹوں کے لیے ہو رہے ضمنی انتخاب کے دوران گوالیر-چمبل علاقہ میں انتخابی بحث نے ایک نیا موڑ لے لیا ہے۔ اس علاقے کے ووٹر کھلے عام کہتے سنے جا رہے ہیں کہ بی جے پی میں مہاراج یعنی کانگریس چھوڑ کر آئے جیوترادتیہ سندھیا کی برانڈ ویلیو گھٹتی جا رہی ہے۔ اس کا جیتا جاگتا ثبوت بی جے پی کے ڈیجیٹل اشتہاری پوسٹروں سے سجی وہ گاڑیاں ہیں جن میں پارٹی کے اسٹار کیمپینرس سے سندھیا ندارد ہیں۔ ان پوسٹروں میں صرف وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان اور بی جے پی کے مدھیہ پردیش صدر وی جی شرما کے چہرے ہیں۔ اتنا ہی نہیں، ان پر لکھے نعرے بھی کہتے ہیں کہ "شیوراج ہے تو وِشواس ہے...۔"
ویسے یہ پہلا موقع نہیں ہے جب سندھیا گھرانے کے شہزادے کو بی جے پی نے حاشیہ پر دھکیلا یا عام بول چال میں کہیں تو سائیڈ لائن کیا ہے۔ جب سے سندھیا کانگریس چھوڑ کر اپنے حامیوں کے ساتھ بی جے پی میں آئے ہیں، تب سے ہی پارٹی لیڈر عوامی طور پر بی جے پی کے اصل کارکنان کی بے توجہی کی باتیں کر رہے ہیں۔
اندور کے سانویر علاقے میں جہاں سے سندھیا کے قریبی تلسی سلاوت انتخابی میدان میں ہیں، وہاں بھی لگے ہورڈنگ میں خصوصی طور پر پارٹی جنرل سکریٹری کیلاش وجے ورگیہ کا ہی چہرہ ہے، سندھیا کو پارٹی کے جونیئر لیڈروں اور مقامی رکن اسمبلی کیلاش وجے ورگیہ کے بیٹے آکاش کے ساتھ جگہ ملی ہے۔ اس ہورڈنگ سے سندھیا حامی جل بھن گئے ہیں۔
یوں بھی مدھیہ پردیش میں بی جے پی کے 30 اسٹار کیمپینرس کی فہرست میں سندھیا 10ویں نمبر پر ہیں جب کہ انجان سے بی جے پی لیڈر اور پارٹی نائب صدر و پارٹی کی شیڈولڈ کاسٹ سیل کے سربراہ دشینت کمار گوتم کا نام سندھیا سےاوپر ہے۔ ان کے علاوہ مرکزی وزیر نریندر سنگھ تومر، تھاور چند گہلوت اور دھرمیندر پردھان کے ساتھ ہی سابق وزیر اعلیٰ اوما بھارتی کا نام بھی جیوترادتیہ سندھیا سے اوپر ہے۔ فہرست میں پارٹی کے ریاستی صدر وی ڈی شرما اور وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان کا نمبر بالترتیب پہلے اور دوسرے مقام پر ہے۔ اس فہرست میں چار دلت اور دو قبائل لیڈر بھی شامل ہیں۔
اس فہرست کے سامنے آتے ہی کانگریس نے طعنہ بھی مارا ہے کہ جب سندھیا کانگریس میں تھے تو 2018 کے اسمبلی الیکشن میں وہ پارٹی کی انتخابی تشہیر کمیٹی کے صدر تھے۔ لیکن اس کے جواب میں بی جے پی نے کہا ہے کہ پارٹی کے اسٹار کیمپینرس کی فہرست سینئرٹی اور پارٹی میں قد کی بنیاد پر بنائی گئی ہے۔ دھیان رہے کہ جن لوگوں نے سندھیا کی مدد سے اس سال مارچ میں کمل ناتھ حکومت گرائی تھی، وہ سندھیا کو مہاراج کہہ کر بلاتے رہے ہیں۔ کانگریس نے اس پر طنز کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھیا نے اپنے قد اور سیاسی اہمیت کو پلیتہ لگا لیا ہے۔
گزشتہ سال کے لوک سبھا انتخاب میں اپنی روایتی سیٹ گُنا سے شکست کا سامنا کرنے والے جیوترادتیہ سندھیا زبردست دباؤ میں ہیں کیونکہ ان پر اس علاقے کی 16 سیٹوں پر بی جے پی کو جیت دلانے کی ذمہ داری ہے۔ حال میں وائرل ہوئے کچھ ویڈیو میں وہ خود مہاراج کہتے ہوئے دیکھے سنے گئے ہیں۔ ایک ویڈیو میں سندھیا ایک جلسہ کو خطبا کر رہے ہیں جس میں بہت معمولی بھیڑ ہے۔ وہ کہتے ہیں یہ انتخاب صرف مقامی رکن اسمبلی کے لیے نہیں بلکہ مہاراج کی عزت کے لیے ہے۔