Strait of Hormuz ship transits – two routes, two sets of rules

06:28PM Sat 20 Jun, 2026

امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے معاہدے کے بعد دنیا کے اہم ترین سمندری راستوں میں سے ایک آبنائے ہرمز میں پھر سے رونق لوٹ آئی ہے ۔ تاہم راستے کے کھلنے کے ساتھ ہی ایران نے بحری جہازوں کے لیے نئے ضوابط بھی نافذ کیے ہیں۔ اب کوئی بھی جہاز بغیر اجازت ہرمز سے نہیں گزر سکے گا۔ درخواست کم از کم 48 گھنٹے پہلے دینی ہوگی اور انہیں سفر کے دوران میری ٹائم حکام سے رابطہ میں رہنا ہوگا۔ ایران کی نئی باڈی، فارس گلف اسٹریٹ اتھارٹی (PGSA) نے نئے رہنما خطوط جاری کیے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ ہر جہاز کو اپنی سفری معلومات، منصوبہ بند راستے اور رابطے کی معلومات پہلے سے فراہم کرنی ہوں گی۔ جہاز کے آپریٹر کو بھی منظوری ملنے تک دستیاب رہنے کی ضرورت ہوگی۔

48 گھنٹے پہلے لینی ہوگی منظوری

نئے ضوابط کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام بحری جہازوں کو کم از کم 48 گھنٹے پہلے ٹرانزٹ کی درخواستیں جمع کرانی ہوں گی۔ درخواست کے لیے جہاز کا راستہ، مکمل سفری منصوبہ، اور مواصلاتی معلومات درکار ہوں گی۔ ضوابط کی تعمیل کرنے والے جہازوں کو فوری منظوری کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔

راستہ بھی بتانا ہوگا

ایران نے صاف کیا ہے کہ آبنائے ہرمز پہنچنے سے پہلے جہازوں کو اپنا منصوبہ بند راستہ اور وقت بتانا ہوگا ۔اس کی وجہ سمندر میں حساس اور ممکنہ طور پر بارودی سرنگوں سے متاثرہ علاقےبتائے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ایسا حادثات سے بچنے اور جہازوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ پی جی ایس اے نے خبردار کیا ہے کہ کوئی بھی جہاز جو تعمیل کرنے میں ناکام رہتا ہے اس کی ذمہ داری صرف جہاز کے مالک پر ہوگی۔

60 دنوں کے لیے کوئی فیس نہیں

ایران نے ایک اور بڑا ریلیف دیا ہے۔ معاہدے کی 60 دن کی مدت کے لیے، آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں سے سکیورٹی، ماحولیاتی تحفظ، حفاظتی خدمات، یا انشورنس سے متعلق کوئی ٹرانزٹ فیس نہیں لی جائے گی۔ ایرانی حکومت نے کہا ہے کہ وہ ان خدمات کے اخراجات برداشت کرے گی تاکہ سمندری تجارت معمول کی رفتار سے دوبارہ شروع ہو سکے۔

معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ میری ٹائم ٹریکنگ کمپنی AXSMarine کے مطابق جمعرات کو 25 تجارتی جہاز آبنائے سے گزرے۔ اپریل کے وسط کے بعد سے یہ سب سے زیادہ ایک دن کی ٹریفک ہے۔ مارچ کے اوائل سے جنگ کی وجہ سے روزانہ اوسطاً سات بحری جہاز یہاں سے گزر رہے تھے۔ اب ایسا لگتا ہے کہ تجارت معمول پر آ رہی ہے۔