دلی کی نمبر ایک خواتیں کیب کمپنی
02:34AM Thu 21 Feb, 2013
دلی کی نمبر ایک خواتیں کیب کمپنی
کیب سروس فار ویمن بائی ویمن نے دلی میں خواتین میں تحفظ کا احساس دلایا ہے
دنیا میں ٹیکسی چلانے کا کام عام طور پر مرد ہی کرتے ہیں۔ لیکن دلّی میں ایک ایسی کیب کمپنی ہے جس کی تمام ڈرائیور اور سواریاں خواتین ہیں۔
ان دنوں بھارت میں خواتین کے تحفظ کے حوالے سے کافی باتیں ہو رہی ہیں اس لیے ایسے ماحول میں خواتین کی یہ ٹیکسی کافی مقبول ہو رہی ہے۔
اس کیب کمپنی کے لیے کام كرنےوالي اکتیس سالہ شانتی شرما کہتی ہیں:’جب میں سڑک پر ٹیکسی چلا رہی ہوتی ہوں تو میں بہت فخر محسوس کرتی ہوں کیونکہ یہ کیب سروس عورتوں کے لیے ہے اور میں بھی ایک عورت ہوں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’ہمارے کام سے دلّی کی عورتوں کو مدد مل رہی ہے۔ ہم انہیں تحفظ فراہم کر رہے ہیں۔‘
شانتی شرماان آٹھ خواتین ڈرائیوروں میں شامل ہیں جو خواتین کے لیے مخصوص ٹیکسی سروس ’كیبس فار ويمن بائی ويمن‘ کے لیے کام کرتی ہیں۔
دلی میں گزشتہ سال دسمبر کے مہینے میں ایک بس میں طالبہ کے ساتھ اجتماعی ریپ اور قتل کے واقعہ کے بعد سے اس کیب کی تمام خواتین ڈرائیور کافی مصروف ہو گئی ہیں۔
شانتی شرما کہتی ہیں: ’اس معاملے کے بعد سے ہمارا کام کا بوجھ بڑھ گیا ہے۔ جو خواتین پہلے دوسری کیب سروسز کی خدمات لیتی تھیں وہ بھی اب ہمیں بلانے لگی ہیں۔‘
دلّی میں رہنےوالي زیادہ تر خواتین کا کہنا ہے کہ آئے دن انہیں چھیڑ چھاڑ اور جنسی اذیتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور پبلک ٹرانسپورٹ پر تو ایسے واقعات کافی ہوتے ہیں۔
لیکن خواتین کیب ڈرائیوروں کے لیے بھی زندگی بہت آسان نہیں۔ ان میں سے کئی تو اس نوکری سے پہلے کار میں بیٹھی بھی نہیں تھیں، چلانے کی بات تو دور کی ہے۔
اس کام کے لیے منتخب کیے جانے کے بعد انہیں کئی ماہ تک تربیت دی جاتی رہی جس میں کار چلانے سے لے کر سڑک سے متعلق قوانین، فرسٹ ایڈ یا ابتدائی طبی تربیت اور ذاتی حفاظت کی تربیت شامل تھی۔
ایک با جب اس کیب سروس کی ایک خاتون ڈرائیور اپنی گاڑی میں پٹرول ڈلوا رہی تھی تو ایک ناراض مرد کیب ڈرائیور نے ان پر حملہ کر دیا۔
بائیس سالہ ٹیکسی ڈرائیور چاندی ایک سڑ کے کنارے انتظار میں
ایک دوسری خاتون کیب ڈرائیور کے ساتھ ایک امیر میاں بیوی نے صرف اس لیے مارپیٹ کی کیونکہ اس نے ان کی کار کو آگے جانے کے لیے جگہ نہیں دی تھی۔
شانتی شرما تین بیٹیوں کی ماں ہیں اور اکیلے ان کی پرورش کررہی ہیں۔ دو ہزار گیارہ میں کیب کمپنی کے قیام کے بعد سے ہی وہ ٹیکسی چلا رہی ہیں اور اس کام نے ان کی زندگی بدل کر رکھ دی ہے۔ ان کی زندگی میں ایسا پہلی بار ہوا جب انہوں کسی مہینے میں دس ہزار روپے تنخواہ ملی ہے۔
شانتی کہتی ہیں کہ عورت ہونے کی وجہ سے انہیں کچھ مسائل سے بھی دو - چار ہونا پڑتا ہے کیونکہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ گاڑی کہیں کھڑی کرنے پر مرد ڈرائیور تو اپنے چار - پانچ دوستوں کے ساتھ بات چیت کرنے لگتے ہیں لیکن ایک عورت ہونے کی وجہ سے انہیں کار میں ہی بیٹھا رہنا پڑتا ہے۔
وہ کہتی ہیں: 'کئی بار پارکنگ ایریا میں میں اکیلی عورت ہوتی ہوں، اس لیے کار کے اندر ہی رہتی ہوں۔ اگر ایک اور خاتون ڈرائیور ہوتی تو کم سے کم ان سے بات ہی کر سکتی تھی۔'
شانتی کہتی ہیں کہ سڑک پر گاڑی چلاتے ہوئے حالت کچھ اچھی نہیں ہے کیونکہ دوسرے مرد کار ڈرائیور انہیں پریشان کرتے ہیں۔
"کئی خواتین جو پہلی بار بھارت آ رہی ہوتی ہیں انہوں نے خواتین کے ساتھ ہونے والے ظلم کی کہانیاں سن رکھی ہوتی ہیں اور وہ شہر کے بارے میں بھی کچھ نہیں جان رہی ہوتی ہیں۔ ایسی خواتین کے لیے سكھا کافی مدد گار ثابت ہوتی ہے اور وہ سلامتی کے ساتھ دہلی درشن کر پاتی ہیں"
پرینیتا
وہ کہتی ہے: ’جیسے ہی وہ دیکھتے ہیں کہ ایک عورت کیب چلا رہی ہے تو وہ بلاوجہ ہارن بجانے لگتے ہیں۔ گاڑی آگے نکالنے کی کوشش کرنے لگتے ہیں، مجھے ہمیشہ اس بات کی فکر ہوتی ہے کہ کہیں کسی گاڑی سے ٹکر نہ ہو جائے۔‘
’کیبس فار ويمن بائی ويمن‘ کو چلانےوالي کمپنی سكھا کنسلٹنگ ونگس نے اپنی شراکت دار کمپنی آزاد فاؤنڈیشن کے ساتھ اسے شروع کرنے سے پہلے اپنے سامنے کئی اہداف رکھے تھے۔
کمپنی کی چیف ایکزیکیٹو آفیسر نين تارا جناردن بتاتی ہیں کہ پہلا مقصد تو یہی تھا کہ ٹیکسی چلانے کا موقع غریب خواتین کو دیا جائے تاکہ وہ مردوں کے برابر کما سکیں اس کے علاوہ خواتین کے لیے کام کے مواقع میں توسیع بھی ان کے اہداف میں شامل ہیں۔
آج اس کمپنی میں تقریبا پچاس خواتین ٹیکسی چلا رہی ہیں۔
نين تارا کہتی ہیں: ’ہمارے معاشرے میں ایک عجیب و غریب تصور یہ ہے کہ خواتین خراب گاڑی چلاتی ہیں۔‘
وہ کہتی ہیں کہ کئی خواتین جو اپنے بچوں کو اسکول بھیجنے اور وہاں سے لانے کے لیے مرد ڈرائیوروں کی خدمت لیتی ہیں، ان کا کہنا ہے کہ ایسا وہ اپنے بچوں کے تحفظ کو ذہن میں رکھتے ہوئے کرتی ہیں اور اسی لیے وہ خاتون ڈرائیور کو آزمانا نہیں چاہتیں۔
دلی میں خواتین کے کیب کے استعمال میں حالیہ دنوں میں چالیس فی صد اضافہ ہوا ہے
نین تارا بتاتی ہیں کہ جب کیب کمپنی میں سات خواتین ڈرائیور کام کرنے لگیں تو اس کی خدمت کے بارے میں لوگوں کی معلومات بڑھنے لگی.
آج یہ استعمال کامیاب ہے اور دہلی میں طالبہ کی موت کے بعد سے دنیا بھر سے کمپنی کو مالی مدد کے لئے فون آ رہے ہیں اور اس کے صارفین کی تعداد بھی چالیس فی صد تک بڑھ گئی ہے۔
کمپنی کی پہلی گاہکوں میں سے ایک چالیس سالہ پرينیتا سوكنيا ہیں جو ایک بین الاقوامی کمپنی میں کام کرتی ہیں اور اب بیرون ملک سے دلّی آنے والے اپنے ساتھیوں کو اسی کیب کی خدمات لینے کا مشورہ دیتی ہیں۔
پرينیتا کہتی ہیں: ’کئی خواتین جو پہلی بار بھارت آ رہی ہوتی ہیں انہوں نے خواتین کے ساتھ ہونے والے ظلم کی کہانیاں سن رکھی ہوتی ہیں اور وہ شہر کے بارے میں بھی کچھ نہیں جان رہی ہوتی ہیں۔ ایسی خواتین کے لیے سكھا کافی مدد گار ثابت ہوتی ہے اور وہ سلامتی کے ساتھ دہلی درشن کر پاتی ہیں۔‘
بہرا حال وہ ممبئی اور کولکاتہ کی اپنی ہی طرح دوسری کیب ڈرائیوروں کو پسند کرتی ہیں اور وہ اس تصور کو توڑ رہی ہیں کہ خواتین کیا کر سکتی ہیں اور کیا نہیں۔
BBC