واٹس ایپ اپنی نئی پرائیوسی پالیسی صارفین پرکررہاہےمسلط، مرکزی حکومت

02:11PM Thu 3 Jun, 2021

نئی دہلی: مرکزی حکومت نے واٹس ایپ معاملے میں دہلی ہائی کورٹ میں ایک حلف نامہ پیش کیا ہے۔ اس میں مرکز نے واٹس ایپ پر اپنی صلاحیت کا غلط استعمال کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ مرکز کا کہنا ہے کہ صارفین پر پالیسی کے لئے دباؤ ڈالا جارہا ہے۔ واٹس ایپ اپنے صارفین کو بار بار نوٹیفکیشن بھیج رہا ہے ، جو مسابقتی کمیشن آف ہندوستان کے 24 مارچ 2021 ء کے حکم کے منافی ہے۔ مرکز نے دہلی ہائی کورٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ عدالت رازداری کی نئی پالیسی کے بارے میں بھیجے جانے والے نوٹیفکیشن پر عبوری ہدایات دے۔ واٹس ایپ نے بھی جواب داخل کروایاہے ہم آپ کو بتادیں کہ واٹس ایپ کی رازداری کی پالیسی 15 مئی سے ہندوستان سمیت متعدد ممالک میں نافذ کی ہو چکی ہے۔ حکومت نے رازداری کی نئی پالیسی پر بھی اعتراضات اٹھائے ہیں ، لیکن ابھی تک اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔ اب حکومت نے واٹس ایپ کی رازداری کی پالیسی کے بارے میں دہلی ہائی کورٹ میں کہا ہے کہ واٹس ایپ اپنی نئی پالیسی صارفین پر مسلط کررہا ہے اور اسے قبول کرنے کے لئے مختلف تدبیریں اپنا رہا ہے۔ دہلی ہائی کورٹ میں مرکز کے ذریعہ دائر حلف نامے میں کہا گیا ہے کہ واٹس ایپ اپنی ڈیجیٹل قابلیت کا ناجائز استعمال کررہا ہے اور صارفین کو نئی پالیسی قبول کرنے پر مجبور کررہا ہے۔