کورونا کے بعد ’زیکا‘ کا خطرہ: جانیں اس کی علامات، علاج اور دیکھ بھال کے طریقے
02:25PM Sat 10 Jul, 2021
ملک میں ابھی کورونا کی وبا کا زور کم نہیں ہوا کہ ایک اور وبا زیکا کے پھیلنے کا خطرہ منڈلانے لگا ہے۔ کیرالہ میں اب تک 14 افراد میں زیکا وائرس کی تصدیق کی جا چکی ہے اور ریاست میں اس نئی وبا کے حوالہ سے الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ ایسے حالات میں یہ ضروری ہے کہ زیکا کی وبا کی علامات، اس کے پھیلنے کے اسباب اور علاج اور دیکھ بھال کے طریقے معلوم کئے جائیں۔
زیکا انفیکشن مچھر سے پھیلنے والی بیماری ہے اور یہ ایڈیز نسل کے مچھر کے انسان کو کاٹنے سے پھیلتا ہے۔ عموماً ’ایڈیز ایجپٹی‘ اور ’ایڈیز ایلبوپکٹس‘ نامی مچھروں کی نسلیں اس انفیکشن کو پھیلانے کے لئے ذمہ دار ہوتی ہیں۔
ایڈیز مچھر ڈینگی اور چکنگنیا کے وائرس کو بھی پھیلاتے ہیں۔ زیکا وائرس سے اگر حاملہ خواتین متاثر ہو جاتی ہیں تو اس کا اثر رحم میں موجود بچے پر ہوتا ہے اور اس کو دماغ کی ایک بیماری ہونے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بچوں میں پیدائش کے بعد قوت سماعت میں بھی دقت ہو سکتی ہے۔
زیکا وائرس کا انفیکشن پھیلانے والا ایڈیز مچھر عموماً دن کے وقت کاٹتا ہے۔ ایک مرتبہ جب کوئی شخص مچھر کے کاٹنے سے متاثر ہو جاتا ہے تو زیکا وائرس کچھ دن کے لئے یا مدت طویل کے لئے اس کے خون میں موجود رہ سکتا ہے۔ اس کے بعد جب کوئی مچھر متاثرہ شخص کو کاٹتا ہے تو یہ وائرس دوسرے انسانوں میں بھی پھیل جاتا ہے۔ زیکا وائرس دیگر ذرائع سے بھی پھیل سکتا ہے، مثلاً متاثرہ شخص سے جنسی تعلقات قائم کرنا یا متاثرہ شخص سے حاصل خون چڑھوانا۔
زیکا وائرس کی علامات: بخار، سردرد، کمزوری محسوس ہونا، بدن اور جوڑوں میں درد، آنکھوں کا سرخ ہو جانا
زیکا وائرس سے متاثر بیشتر افراد بغیر پیچیدگیوں کے شفایاب ہو جاتے ہیں۔ زیکا وائرس حاملہ خواتین کے متاثر ہونے پر بچوں میں مائیکروسیفلی اور دیگر پیدائشی امراض پیدا ہو سکتے ہیں۔ مائیکرو سیفلی ایک نایاب قسم کی بیماری ہے جس سے متاثرہ بچے کا سر توقع سے چھوٹا رہ جاتا ہے اور اس کی وجہ سے دماغ میں دقتیں پیدا ہو سکتی ہیں۔