Senior cleric Ayatollah Arafi named interim Supreme Leader after Khamenei killing
05:17PM Sun 1 Mar, 2026
آیت اللہ علی رضا اعرافی کو ایران کی قیادت کونسل کا فقیہ مقرر کر دیا گیا ہے، جس کے بعد وہ ملک میں سپریم لیڈر کے فرائض سرانجام دینے والی عبوری قیادت کا حصہ بن گئے ہیں۔ ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ کونسل عارضی طور پر اس وقت تک سپریم لیڈر کی ذمہ داریاں ادا کرے گی جب تک نئے رہبر کا باقاعدہ انتخاب عمل میں نہیں آ جاتا۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ یہ تین رکنی کونسل نہایت اہم آئینی حیثیت رکھتی ہے اور اس کا قیام ہنگامی یا عبوری حالات میں نظامِ حکومت کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے عمل میں لایا جاتا ہے۔ اس کونسل میں آیت اللہ علی رضا اعرافی بطور فقیہ شامل ہیں، جبکہ دیگر دو اراکین میں ایران کے صدر مسعود پزشکیان اور ملک کے چیف جسٹس بھی شامل ہیں۔ تینوں شخصیات مل کر اجتماعی طور پر وہ اختیارات استعمال کریں گی جو عام طور پر سپریم لیڈر کے پاس ہوتے ہیں۔ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق اس عبوری بندوبست کا مقصد ریاستی امور میں کسی بھی قسم کا خلل پیدا ہونے سے روکنا اور آئینی طریقہ کار کے مطابق نئے سپریم لیڈر کے انتخاب تک نظام کو مستحکم رکھنا ہے۔ ایران میں سپریم لیڈر کا انتخاب مجلس خبرگانِ رہبری کی ذمہ داری ہے، جو ایک بااختیار ادارہ ہے اور ملک کے اعلیٰ ترین مذہبی و سیاسی رہنما کے تقرر کا اختیار رکھتا ہے۔
میڈیا رپورٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ مجلس خبرگانِ رہبری کی جانب سے نئے سپریم لیڈر کے انتخاب تک یہی کونسل رہبر کے تمام آئینی اور انتظامی فرائض انجام دیتی رہے گی۔ اس پیش رفت کو ایران کی سیاسی صورتحال میں ایک اہم مرحلہ قرار دیا جا رہا ہے، جہاں آئینی تقاضوں کے مطابق قیادت کا تسلسل برقرار رکھنے کے لیے عبوری انتظامات کو بروئے کار لایا گیا ہے۔