دلّی گینگ ریپ کے ملزم نے ’خود کشی‘ کر لی
07:00PM Mon 11 Mar, 2013
بھارتی دارالحکومت دلّی میں ایک چلتی بس میں گینگ ریپ کے چھ ملزمان میں سے ایک رام سنگھ نے تہاڑ جیل میں ’خود کشی‘ کر لی ہے۔
رام سنگھ کے وکیل وی کے آنند نے بی بی سی کو بتایا کہ انہیں پولیس کے ذریعے اپنے موکل کی موت کی خبر ملی ہے۔
سینئیر پولیس اہلکاروں نے خبر رساں اداروں کو بتایا کہ رام سنگھ نے دلی کی تہار جیل میں ’خود کشی‘ کر لی ہے۔
تہاڑ جیل کے ترجمان سنیل گپتا نے بی بی سی کو بتایا کہ اس معاملے میں مجسٹریٹ کے ذریعے تفتیس کا حکم دے دیا گیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق رام سنگھ کو آج صبح پانچ بجے کے قریب تہاڑ کے جیل نمبر تین میں لٹکا ہوا پایا گیا۔
رام سنگھ اسی بس کا ڈرائیور تھا جس میں 23 سالہ طالبہ کے ساتھ حادثہ ہوا تھا۔
رام سنگھ کے علاوہ اس واقعہ میں ان کے بھائی مکیش اور تین دیگر افراد کے خلاف بھی مقدمہ چل رہا ہے۔ اس واقعہ میں چھٹا ملزم نابالغ ہے اور اس کا معاملہ نابالغوں کی عدالت میں چل رہا ہے۔
بی بی سی نے جب دلی پولیس کے ترجمان راجن بھگت سے اس بارے میں جاننا چاہا تو انہوں نے کہا کہ وہ تہاڑ جیل سے معلومات کا انتظار کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ جس جیل میں رام سنگھ کو رکھا گیا تھا اسے تہاڑ کی سب سے زیادہ سکیورٹی والی کہا جاتا ہے اور اسی جیل میں بھارتی پارلیمان پر حملے کے ملزم افضل گورو بھی قید تھے جنہیں گزشتہ ماہ پھانسی دي گئی تھی۔
رام سنگھ کے وکیل وی کے آنند نے بتایا کہ دلّی پولیس نے انہیں رام سنگھ کی خود کشی کے بارے میں بتایا ہے، تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اس بابت مذید معلومات کا انتظار کر رہے ہیں۔
رام سنگھ دلی گینگ ریپ کے اہم ملزمان میں سے ایک تھے۔ ان کے وکیل نے کہا ہے کہ وہ اس واقعے سے حیرت میں ہیں اور انھوں نے اس معاملے کو دلی سے باہر بھیجنے کی درخواست کی ہے۔
آنند نے رام سنگھ کے بھائی مکیش کی سکیورٹی پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ واضح رہے کہ آج رام سنگھ کو عدالت میں پیش ہونا تھا۔
دوسری جانب دلی کیس کے دوسرے ملزم پون کے وکیل وی کے شرما نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ’میرے خیال سے یہ خود کشی کا معاملہ نہیں ہے‘۔
شرما کے مطابق رام سنگھ نے گزشتہ رات پیٹ بھر کھانا کھایا تھا اور خود کشی سے قبل اس طرح کا معمول کا رویہ ناقابل فہم ہے۔
تہاڑ جیل کی سربراہ رہ چکی کرن بیدی نے کہا ہے کہ رام سنگھ جیسے ملزم سے جیل میں رہنے والے دوسرے قیدی بھی نفرت کرتے ہیں، اس طرح کے شخص کو قبول نہیں کرتے ہیں اور ان پر غصہ نکالنے کا موقع ڈھوڈھتے رہتے ہیں۔
کرن بیدی کے مطابق جیل انتظامیہ کو اس طرح کے ملزمان کو جیل کے اندر کے معاشرے سے بھی بچانے کی ذمہ داری ہوتی ہے۔
جیل میں خودکشی کے بارے میں کرن کہتی ہیں ’جیل میں ہر جگہ گرل ہوتی ہے، کپڑے ہوتے ہیں، پاجاما، اس کا ازاربند ہوتا ہے۔ اس لیے اگر آپ ٹھان لیں تو آپ کسی بھی موقع کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں‘۔
رام سنگھ کی لاش کو دین دیال اپادھیائے ہسپتال لے جایا گیا۔
واضح رہے کہ گزشتہ سولہ دسمبر کو دلی کی ایک چلتی ہوئی بس میں 23 سالہ پیرا میڈیکل طالبہ کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کی گئی تھی جس میں طالبہ بری طرح زخمی ہوئی تھیں اور بعد میں سنگاپور کے ایک ہسپتال میں علاج کے دوران ان کی موت ہو گئی۔
اس واقعہ کے بعد ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے ہوئے اور عوام کے سخت دباؤ کے بعد حکومت نے خواتین کے لیے جنسی تشدد کے قانون میں اہم تبدیلی کرتے ہوئے آرڈیننس جاری کیا۔
BBC URDU