سری نگر: پولیس کیمپ پر حملہ، سات ہلاک
09:51AM Fri 15 Mar, 2013
بھارت کے زیرِانتظام کشمیر کے دارالحکومت سری نگر کے مضافات میں قانون نافذ کرنے والے ادارے کے کیمپ پر حملے میں پانچ سکیورٹی اہلکاروں سمیت سات افراد ہلاک ہوئے جبکہ بھارت کے سیکرٹری داخلہ نے اس حملے کے لیے پاکستان سے سرحد پار کر کے آنے والے شدت پسندوں کو ذمہ دار ٹھہرایا۔
بھارت کے زیرِ اہتمام کشمیر میں یہ حملہ بدھ کی صبح بیمینا کے علاقے میں سنٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کے ایک کیمپ پر ہوا۔
کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبد اللہ نے کہا تھا کہ اس حملے میں سی آر پی ایف کے پانچ اہلکار ہلاک ہوئے۔
"بادی النظر میں یہ شدت پسند سرحد پار سے آئے تھے۔ شاید وہ پاکستان سے آئے تھے۔ ہمیں یہ اطلاعات تھیں کہ چار شدت پسند داخل ہوئے ہیں۔ ان میں سے دو تو اب ہلاک ہو چکے ہیں۔ ہم نے تمام یونٹوں کو ہوشیار کر دیا ہے۔"
آر کے سنگھ، سیکرٹری داخلہ بھارت
پولیس حکام نے بی بی سی کو بتایا کہ حملہ آوروں نے کیمپ پر دستی بم سے حملہ کیا۔ جائے حادثہ سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق سی آر پی ایف کے کئی جوان حملے میں شدید زخمی بھی ہوئے۔
سری نگر سے نامہ نگار کے مطابق پولیس نے جوابی کارروائی میں دو حملہ آوروں کی ہلاکت کا دعویٰ بھی کیا۔
واضح رہے کہ یہ گذشتہ تین برس میں بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں ہونے والا پہلا بڑا حملہ ہے۔
حملے کا نشانہ بننے والے کیمپ کے قریب ہی ریاستی پولیس اہلکار کے گھر اور ایک سکول بھی ہے۔
حملے کے فوراً بعد پورے علاقے کے آس پاس وسیع پیمانے پر تلاشی مہم بھی شروع کر دی گئی۔
بھارت کے سیکرٹری داخلہ آر کے سنگھ نے اس حملے کے لیے پاکستان کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا تھا کہ اس حملے کی پشت پر پاکستان ہے کیونکہ بظاہر شواہد اسی جانب اشارہ کرتے ہیں۔
انھوں نے کہا ’بادی النظر میں یہ شدت پسند سرحد پار سے آئے تھے۔ شاید وہ پاکستان سے آئے تھے۔ ہمیں یہ اطلاعات تھیں کہ چار شدت پسند داخل ہوئے۔ ان میں سے دو کو ہلاک کر دیا گیا‘۔
انھوں نے کہا ’جو دو شدت پسند فرار ہونے میں کامیاب ہوئے وہ بھی مبینہ طور پر پاکستان سے آئے تھے۔ ان چاروں کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ ان کا تعلق لشکر طیبہ سے ہے‘۔
خیال رہے کہ سری نگر میں گذشتہ کچھ عرصے سے اس طرح کے حملے بند تھے اور ریاست میں سی آر پی ایف قانون کے نفاذ میں ریاستی پولیس کی مدد کر رہی تھی۔
جموں و کشمیر میں گذشتہ کچھ عرصے سے دو ہزار ایک میں بھارتی پارلیمان پر حملے کے مرتکب افضل گورو کی لاش کو کشمیر لائے جانے کے مطالبے پر تحریک جاری ہے۔

BBC