RBI proposes 1 hour wait for UPI payments over ₹10000
06:36PM Mon 29 Jun, 2026
بڑھتی ڈیجیٹل ادائیگی والے اس دور میں ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) آن لائن فراڈ کو روکنے کے لیے بڑا قدم اٹھانے والا ہے۔ آربی آئی نے تجویز پیش کی ہے کہ اگر کوئی صارف 10 ہزار روپئے سے زیادہ کی آن لائن رقم منتقل کرتا ہے تو اس ادائیگی کے مکمل ہونے میں ایک گھنٹہ (کولنگ آف پیریڈ) لگ سکتا ہے۔ ملک کی بینکنگ انڈسٹری نے اس حفاظتی قدم کی حمایت کی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی عام لوگوں کی سہولت اور تکنیکی مشکلات کے بارے میں خدشات کا اظہار بھی کیا ہے۔ بینکوں کا ماننا ہے کہ اس قاعدے سے فراڈ پر لگام لگے گی لیکن عام لوگوں کو روزمرہ کے لین دین میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
آر بی آئی نے اپریل میں جاری ایک مباحثے میں مشورہ دیا تھا کہ جب بھی کوئی انفرادی صارف، پروپرائٹر یا پارٹنرشپ فرم 10 ہزار سے زیادہ کی ڈیجیٹل ادائیگی شروع کرتے ہیں تو اس لین دین کو پورا ہونے سے پہلے ایک گھنٹے کا وقفہ دیا جائے۔ یہ تاخیر صرف پیسے بھیجنے والے کی سطح پر ہوگی۔ اس اصول کا بنیادی مقصد ایسے معاملات کو روکنا ہے جہاں جعلساز لوگوں کو ڈرا کر یا بہلا پُھسلا کر فوری رقم ٹرانسفر کروا لیتے ہیں، جسے تکنیکی زبان میں ’آتھرائزڈ پُش پیمنٹ‘ (اے پی پی) فراڈ کہا جاتا ہے۔
بینکوں کا کہنا ہے کہ اس ایک گھنٹے کی تاخیرسے صارفین کو یہ سوچنے اور سنبھلنے کا موقع ملے گا کہ وہ صحیح جگہ پیسہ بھیج رہے ہیں یا نہیں۔ حالانکہ بینکنگ ماہرین نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اسے ہر طرح کے لین دین پر آنکھ بند کر کے نافذ نہیں کیا جانا چاہیے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی صارف 10 ہزار سے زیادہ کا ڈیجیٹل ٹرانزیکشن کرتا ہے تو اس کے لیے ایک ’ٹرسٹیڈ پرسن‘ (قابل اعتماد شخص) کی منظوری ضروری کرنے کی بات کہی گئی ہے۔ اس قاعدے کے تحت بزرگوں کے ذریعہ پہلے سے مقرر کئے گئے کسی قابل اعتماد شخص کو ادائیگی پوری کرنے سے پہلے اپنی اضافی منظوری دینی ہوگی۔ اگر اس قابل اعتماد شخص کو تبدیل کیا جاتا ہے تو کسی بھی ممکنہ دھوکہ دہی سے بچنے کے لیے 24 گھنٹے کا لازمی ’کولنگ آف پیریڈ‘ نافذ ہوگا۔
بینکوں نے اس حفاظتی تجویز کی تعریف کی ہے، لیکن عملی طور پر اسے نافذ کرنے میں بڑے چیلنجوں کا اندازہ ہے۔ بینکوں کا کہنا ہے کہ اگر کوئی معمر شخص اسپتال یا ڈائگنوسٹک سینٹر میں ایمرجنسی ادائیگی کر رہا ہے اور اس کا نامزد شخص (بیٹا یا بیٹی) اس وقت کسی وجہ سے دستیاب نہیں ہے، تو حقیقی اور ضروری ادائیگی میں بھی تاخیر ہو سکتی ہے، جو کسی کے لیے بھی پریشانی کا باعث بن سکتی ہے۔