مودی حکومت نے ’ٹوئٹر‘ کو بھیجا نوٹس، ’کسان قتل عام‘ والا مواد نہیں ہٹایا تو ہوگی کارروائی!
02:46PM Wed 3 Feb, 2021
مرکز کی مودی حکومت نے ’ٹوئٹر‘ کو ایک نوٹس جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وہ ’کسان قتل عام‘ سے متعلق مواد اور اکاؤنٹ کو ہٹائے۔ اس نوٹس میں حکومت نے واضح کیا ہے کہ اگر حکم کی تعمیل نہیں ہوئی تو سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ دراصل ٹوئٹر پر ’ہیش ٹیگ مودی پلاننگ فارمر جینوسائڈ‘ کے ساتھ کچھ مواد پوسٹ کیے گئے تھے جسے نفرت آمیز اور بہت غلط طریقے سے افواہ پھیلانے والا اور اشتعال انگیز بنایا گیا تھا۔ حکومت نے اس کے خلاف ٹوئٹر کو قدم اٹھانے کے لیے کہا ہے۔
ہندی نیوز پورٹل ’اے بی پی لائیو‘ پر اس سلسلے میں ایک تفصیلی رپورٹ شائع ہوئی ہے جس میں حکومت کے ذریعہ ٹوئٹر کو بھیجے گئے نوٹس اور اس میں درج باتیں بتائی گئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق نوٹس میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ مواد سماج میں غلط روش، استحصال اور کشیدگی پیدا کرنے کے لیے ترغیبی مہم تصور کیا جا سکتا ہے، یہ مہم قتل عام کو حوصلہ افزائی کرنے والی ہے اور اظہارِ رائے کی آزاد نہیں ہے۔ یہ قانون اور نظام کے لیے خطرہ پیدا کر سکتا ہے۔ دہلی نے یوم جمہوریہ پر جو تشدد دیکھا تھا، اس کو ملک دوبارہ نہیں دیکھ سکتا ہے۔ ٹوئٹر ایک ثالث ہے اور وہ حکومت کی ہدایت پر عمل کرنے کے لیے پابند ہے۔ ایسا کرنے سے انکار کرنے پر قانونی کارروائی ہوگی۔
ذرائع کے مطابق حکومت نے نوٹس میں نصف درجن سے زائد سپریم کورٹ کے فیصلوں کو، آئینی بنچوں کے فیصلوں کو بطور مثال پیش کیا ہے اور بتایا ہے کہ عوامی نظام کیا ہے اور افسران کے اختیارات کیا ہیں۔ ٹوئٹر ایک ثالث ہونے کے ناطے حکومت کی گائیڈ لائنس پر عمل کرنے کا پابند ہے، کیونکہ اشتعال انگیز مواد امن و انتظام کو متاثر کرے گا۔ نوٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ٹوئٹر عدالت کا کردار نہیں نبھا سکتا ہے اور حکم نہ ماننے کے لیے کسی بھی جواز کو صحیح ثابت نہیں کر سکتا۔ حکومتی احکام پر عمل نہیں کرنے کے لیے ٹوئٹر فیس پینل ایکشن لیا جا سکتا ہے۔