کسانوں نے مودی حکومت کو دیا جھٹکا، زرعی قوانین پر ڈیڑھ سال کی روک نامنظور!
03:36PM Thu 21 Jan, 2021
نئے زرعی قوانین کو ڈیڑھ سال تک ملتوی کرنے سے متعلق مرکزی حکومت کی تجویز کو کسان تنظیموں نے آج دیر شام خارج کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ مودی حکومت کے لیے زبردست جھٹکا تصور کیا جا رہا ہے کیونکہ مرکزی وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر اس بات کو لے کر پرامید تھے کہ کسان تنظیمیں مثبت فیصلہ لیں گی۔ سنیوکت کسان مورچہ نے کسان تنظیموں کی ہوئی میٹنگ کے بعد دیر شام بیان جاری کیا جس میں کہا کہ تینوں زرعی قوانین پوری طرح سے رد کیے جانے چاہئیں۔ سنیوکت کسان مورچہ کے ذریعہ حکومت کی طرف سے پیش کردہ تجویز کو خارج کرتے ہوئے تینوں قوانین کو رد کرنے کے ساتھ ساتھ ایم ایس پی پر قانون بنانے کے مطالبہ کو بھی دہرایا گیا۔ ساتھ ہی کسان مورچہ نے اعلان بھی کر دیا کہ 26 جنوری کو رِنگ روڈ پر ہی ٹریکٹر پریڈ کریں گے۔
پی ایم مودی کسانوں کو بے وقوف سمجھ رہے ہیں: جینت چودھری
آر ایل ڈی لیڈر جینت چودھری نے آج زرعی قوانین سے متعلق مودی حکومت کی پالیسیوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’’مودی حکومت کسانوں کے خلاف سازش تیار کر رہی ہے۔ پی ایم مودی کسانوں کو بے وقوف سمجھ رہے ہیں۔ ایسا پہلی بار ہو رہا ہے کہ کسان تحریک کے 58 دن ہو چکے ہیں اور 75-70 کسانوں کے شہید ہونے کے بعد بھی زرعی قوانین پر حکومت کچھ بھی سننے کو تیار نہیں ہے۔‘‘
روز نئے جملے اور ظلم بند کرو، سیدھے سیدھے زراعت مخالف قانون رد کرو: راہل
کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے ایک بار پھر مودی حکومت کو زرعی قوانین سے متعلق تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انھوں نے بار بار کسانوں کی میٹنگ بے نتیجہ ختم ہونے اور نئی تاریخ دیے جانے پر اعتراض ظاہر کرتے ہوئے آج ایک ٹوئٹ کیا ہے جس میں لکھا ہے کہ ’’روز نئے جملے اور ظلم بند کرو، سیدھے سیدھے زراعت مخالف قانون رد کرو۔‘‘ اس ٹوئٹ کے ساتھ ایک خبر بھی انھوں نے لنک کیا ہے جس میں 20 جنوری کو مودی حکومت اور کسان لیڈروں کے درمیان ہوئی میٹنگ بے نتیجہ ختم ہونے اور آئندہ میٹنگ 22 جنوری کو طے کیے جانے کی اطلاع دی گئی ہے۔