کسانوں کی حمایت میں آر ایل پی نے بھی چھوڑا این ڈی اے کا ساتھ
02:42PM Sat 26 Dec, 2020
راجستھان کی راشٹریہ لوک تانترک پارٹی (آر ایل پی) کے سربراہ اور رکن پارلیمنٹ ہنومان بینیوال نے آج اعلان کر دیا کہ تینوں زرعی قوانین کی مخالفت میں انھوں نے این ڈی اے سے رشتہ توڑ دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ تینوں قوانین کسان مخالف ہیں، اس لیے میں نے این ڈی اے چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔
کسانوں کے تئیں بےحسی سے دلبرداشتہ سابق ایم پی ہریندر سنگھ خالصہ بی جے پی سے مستعفیٰ
سابق رکن پارلیمنٹ ہریندر سنگھ خالصہ نے تین زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کر رہے کسانوں اور ان کے بیوی بچوں کے تئیں پارٹی لیڈران اور حکومت کی بے حسی سے دلبرداشتہ ہو کر بی جے پی سے استعفی دے دیا۔
امت شاہ کی کسانوں سے مذاکرہ کے ذریعے حل نکالنے کی پیش کش
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے آسام میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ’’کچھ لوگ زرعی شعبہ میں اصلاحات کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ میں ان سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آگے آئیں اور حکومت سے بات چیت کے ذریعے مسئلہ کا حل نکالیں۔‘‘
کسانوں نے دہلی-موہن نگر شاہراہ کو بھی بلاک کر دیا
زرعی قوانین کے خلاف مظاہرہ کر رہے کسانوں نے دہلی-موہن نگر یوپی گیٹ (دہلی-غازی آباد بارڈر) کو بلاک کر دیا ہے۔ دہلی ٹریفک پولیس نے ٹوئٹ کیا، ’’دہلی سے غازی آباد کی طرف جانے والی قومی شاہراہ-9 اور قومی شاہراہ-24 کسانوں کے مظاہرہ کے سبب بند کر دی گئی ہیں۔ لوگوں سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ غازی آباد جانے کے لئے متبادل طور پر ڈی این ڈی، آئی ٹی او اور وزیر آباد روڈ کا استعمال کریں۔‘‘
حکومت کو کسانوں کی بات سننی ہوگی: راہل
نئی دہلی: کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ زرعی قوانین کیخلاف کسان تقریبا ایک ماہ سے احتجاج ومظاہرہ کر رہے ہیں اور ان کی تحریک کو بھٹکانے کی کوششیں کی جارہی ہیں لیکن حکومت کو یہ سمجھنا چاہئے کہ وہ اس وقت تک واپس نہیں آئیں گے جب تک کسان کی بات نہ سنی جائے۔
راہل گاندھی نے ٹویٹ کرکے کہا ’’مٹی کا ذرہ ذرہ گونج رہا ہے، حکومت کو سننا پڑے گی‘‘۔ کانگریس قائد نے ایک ویڈیو بھی پوسٹ کی ہے جس میں کسانوں کے احتجاج کی متعدد جھلکیاں ہیں جس میں کسان کہہ رہے ہیں کہ حکومت کو ان کی بات سننی ہوگی اور جب تک ان کے مطالبات نہیں مانے جاتے تب تک تحریک ختم نہیں ہوگی۔