بی جے پی نے گجرات کارپوریشن الیکشن سے قبل چھیڑا ’ لو جہاد قانون ‘ کا راگ

01:51PM Fri 19 Feb, 2021

اتر پردیش اور مدھیہ پردیش میں جبری مذہب تبدیلی پر روک لگانے کے بہانے جس لو جہاد قانون کا نفاذ ہوا ہے، اب گجرات میں بھی اس قانون کو لے کر ہلچل بڑھ گئی ہے۔ گجرات میں میونسپل کارپوریشن کے انتخابات ہونے والے ہیں اس لیے بی جے پی لیڈروں کے بیانات میں ’لو جہاد قانون‘ کا استعمال بھی بڑھ گیا ہے۔ احمد آباد میونسپل کارپوریشن الیکشن کے پیش نظر انتخابی تشہیر کے دوران ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ نتن پٹیل نے بھی اب گجرات میں لو جہاد قانون جلد نافذ کیے جانے کی بات دہرائی ہے۔
نتن پٹیل نے جمعرات کو لو جہاد قانون سے متعلق اپنی بات سامنے رکھتے ہوئے کہا کہ ’’گجرات حکومت آئندہ اسمبلی اجلاس میں لو جہاد کی روک تھام کے لیے ایک قانون لائے گی۔ یہ ہندو لڑکیوں اور خواتین کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’ہمارا مذہب اور ملک محفوظ نہیں ہے تو پھر اچھی سڑکیں، اسپتال اور اسکول کس کام کے؟‘‘
نائب وزیر اعلیٰ نے ملک میں ہندو خواتین پر منڈلا رہے خطرات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی حکومت آنے کے بعد ہی ان کی سیکورٹی یقینی ہو پائی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’دیگر مذاہب کے لوگ اپنا نام بدل کر ہماری بیٹیوں کو گمراہ کرتے ہیں اور پھر انھیں لے جاتے ہیں۔ بدقسمتی سے ہماری بیٹیاں ان کے جال میں پھنس جاتی ہیں اور اپنا مذہب بدل کر ان سے شادی کر لیتی ہیں۔‘‘ نتن پٹیل نے آگے کہا کہ ’’ایسے لوگوں پر لگام لگانے کے لیے ہی بی جے پی حکومت آنے والے اسمبلی اجلاس میں لو جہاد پر قانون لانے کے لیے سنجیدگی کے ساتھ منصوبہ بنا رہی ہے۔‘‘