بات سے بات، کتابوں کی عکاسی۔۔۔۔ تحریر: عبد المتین منیری۔بھٹکل

03:50PM Wed 9 Dec, 2020

ہمارے محترم مولانا محمد طلحہ منیارصاحب کا شمارگجرات کے ماہرین قرآنیات و علوم حدیث میں ہوتا ہے، آپ کی تعلیم حرمین شریفین کے جوار میں ہوئی، لہذا عربی زبان اور ماحول سے آپ کی انسیت بہت بڑھی ہوئی ہے، گروپ پر کتابوں کی عکاسی کا تذکرہ آیا توآپ نے اس جانب متوجہ کیا عربی کتابیں تصویر کی صفائی کے باجود سائز میں کم ہوتی ہیں، اور اردو کتابوں کی عکاسی بھی غیر معیاری اور سائز میں بہت بڑھی ہوئی ہوتی ہے، مولانا نے جس جانب توجہ دلائی ہے یہ اہم ہے اور ہماری ذاتی رائے بھی یہی ہے، کہ اردو والوں کو اس جانب مزید توجہ دینے چاہئے۔

اس وقت سوشل میڈیا پر اردو کی بے تحاشا کتابیں پی ڈی یف ہوکر آرہی ہیں،اس کے لئے کئی ایک ویب سائٹ بھی مختص ہیں،ہماری نظر سے اس سلسلے کی جو سائٹس ہیں، ان میں کتاب وسنت محدث لائبریری کا  کام زیادہ معیاری ہے، اور یہ ادارہ منظم طور پر کام کررہا ہے،اس طرح معرفت لائبریری جیسے ویب سائٹ ہیں، جن کا مواد تو بہت قیمتی ہے، لیکن تصویر کا معیار بہت پست ہے، حالانکہ اس پر بھی محنت اور وقت بھی بہت زیادہ لگا ہے، جس پر بہت رنج ہوتا ہے، کچھ عرصہ پہلے پاکستان کے ایک سرکاری ادارے نے اردو لغت کبیر کی بائیس  جلدوں کی پی ڈی فائل عام کی ہے، جس کا حجم ڈیڑھ جی بی بنتا ہے، جو معیاری حجم سے دو گنا زیادہ ہے، لیکن تصویر کی کوالیٹی بہت ہی خراب ہے، غٓالبا اسے ہندوستان کے ریختہ ویب سائٹ سے پرنٹ شوٹ لے کر پی ڈیف بنایا گیا ہے،اس میں بھی ریختہ کے نسخے کی طرح صفحہ نمبر (۷۱۵) کے بعد تقریبا نصف جلد کی اسکیننگ نہیں ہوئی ہے۔ادارے کے جن ذمہ داران نے اس قیمتی کو فراہم کرنے کے لئے تگ ودو کی ہے ، وہ ہمارے شکریہ کے مستحق ہیں ، ان کی یہ کوشش قابل قدر ہیں، اس کے باوجود یہ کہنے میں حرج نہیں،یہ کام ادارے کے شایان شان نہیں،بات برسبیل تذکرہ آگئی۔ کیونکہ اس کام کو معیاری بنانے کے لئے اردو والوں کو توجہ دینی چاہئے۔

 کئی ایک احباب نے اس ناچیز سے فرمائش کی ہے کہ اس موضوع پر کچھ کہیں، حالانکہ یہ ہمارا میدان نہیں ہے، نہ میں نے کبھی کمپوٹر کا کوئی کورس ہم نے لیا ہے، نہ ہی کتابوں کی اسکیننگ کے سلسلے میں کسی نے رہنمائی کی ہے، کیونکہ یہ چیزیں عام دلچسپی کی نہیں ہیں، اب دریافت کریں تو کس سے، لیکن ضرورت کے احساس نے اپنے محدود فہم کے مطابق جو تجربات کروائے، اور اس کے نتیجے میں مختلف چیزیں خریدنے اور بنانے کے بعد محسوس ہوتا ہے، کہ اپنی ضرورت کے تحت کتابوں کی عکاسی کا کام اب تھوڑا بہت آنے لگا ہے۔

توعرض ہے کہ کتابوں کی عکاسی یا تو کتب خانوں اور اداروں کے لئے ہوتی ہے، یہ چونکہ تعداد میں زیادہ ہوتی ہے، لہذا اس کے لئے پرفیشنل آلات کی ضرورت پڑتی ہے، جن کی قیمت پچاس ہزار اور لاکھ درہم تک پہنچتی ہے، ایک درہم ہندوستانی روپئے کے حساب سے بیس روپئے، اور پاکستانی حساب سے تینتالیس روپئے بنتے ہیں۔اس وقت یہ ہماری گفتگو کا موضوع نہیں ہے، ہمارا مخاطب کتابوں سے محبت رکھنے والا وہ دوسرا طبقہ ہے جو اپنے ذاتی استعمال کے لئے یا محدود طور پر کتابوں کی اسکیننگ کی ضرورت محسوس کرتا ہے۔

کتابوں کی اسکیننگ کا جہاں تک تعلق ہے، اس کے لئے ذوق اور شوق دونوں کا ہونا ضروری ہے، ذوق سے مراد یہ ہے کے ہر ایک کی الکٹرونک آلات کے استعمالات میں دلچسپی نہیں ہوا کرتی، وہ ایسے کاموں کو بحالت مجبوری انجام دیتے ہیں ، لہذا وہ ان میں بوریت محسوس کرتے ہیں، عجلت میں کام نبٹانا چاہتے ہیں، ان کے سامنے معیار مقصود نہیں ہوتا۔ ہماری یہ باتیں ان کے لئے نہیں ہیں۔

  1. کتابوں کی جب عکاسی کی جارہی ہو تو یہ بات ذہن میں رہنی چاہئے کہ عکاسی  ایسی کی جائے کہ دوبارہ اسی کام پر وقت ضائع کرنے کی ضرورت نہ پڑے۔ اور یہ کہ Optical Character Recognition جسے عرف عام میں او سی آر کہا جاتا ہے، یہ کمپوٹر کا ایک ایسا نظام ہے جس میں تصویر شدہ عبارت کو ٹیکسٹ میں خود بخود تبدیل ہوجاتی ہے، اس سے اسکین کی ہوئی کتاب کو وورڈ فورمیٹ میں تبدیل کیا جاسکتا ہے، جس میں حروف کی تلاش کی سہولت پائی جاتی ہے ، اس صورت میں کتاب کو دوبارہ ٹائپ کرنے کی زحمت سے بچا جا سکتا ہے، کتاب جب ٹیکسٹ میں آجاتی ہے تو پھر اسے مکتبہ شاملہ اور دوسرے ای لائبریری کے سوفٹ ویرس حصہ بنایا جاسکتا ہے، اس کے لئے اب  اردو بھی آہستہ آہستہ اپنا قدم پالنے سے باہر نکال رہی ہے،آج نہیں تو کل بڑے پیمانے پر اوسی آر سسٹم کا اردو الکٹرونک کتابوں کے لئے استعمال کئے جانے کی امید ہے۔

تصویر کو او سی آر کے قابل بنانے کے لئے ضروری ہے کہ کتاب کی تصویر صاف اور واضح اور معیاری ہو، اس میں حروف پھیلے  ہوئے نہ ہوں، اور ادھر ادھر گند نہ ہو۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ کتاب کی تصویر عکاسی میں یکساں روشنی کا اہتمام ہو، ایک جگہ زیادہ دوسری جگہ کم نہ ہو، روشنی مساوی حیثیت سے ہو، اس کے لئے سورج کی روشنی سب سے زیادہ مناسب ہے، بلب کی روشنی سے بھی کام چل جاتا ہے۔ روشنی میں کہیں بھی چمک پیدا نہ ہونے پائے۔

  1. عکاسی کے وقت کتاب یا کیمرہ میں ارتعاش یا حرکت نہ ہونے پائے، وہ ثابت رہیں۔

کتاب کی عکاسی اتنا مشکل کام نہیں، تین سو صفحہ کی کتاب ایک صفحہ پر تین سکینڈ لگنے کی صورت میں ایک منٹ میں بیس صفحات کی صورت میں

دس پندرہ منٹ میں پوری کتاب کی عکاسی ہوسکتی ہے، اصل دقت کتاب کے صفحات کی کانٹ چھانٹ (کروپنگ) اور دو صفحات کو درمیان سے بانٹنے ہوتی ہے، یہ کام بھی مشکل نہیں، اگر تصویر معیاری ہے، تو پھر اس میں زیادہ وقت نہیں لگتا، اگر تصویر میں جلد بازی کی گئی توپھر صفحات کی ترتیب میں وقت بہت  ضائع ہوتا ہے۔

اب ہم کتابوں کی تصویر کے لئے ضروری آلات اور سوفٹ ویر کا تذکرہ کرتے ہیں۔

  • کوئی معیاری کیمرا یا موبائل ، جس میں تصویر کی کوالیٹی بارہ میگا پکسل سے زیادہ ہو۔ اور جس میں بلو ٹوٹھ کی سہولت ہو۔

  • فوٹو شٹر ( بلوٹوٹھ کے ذریعہ فوٹو نکالنے والا بٹن ) جو سیلفی میں استعمال ہوتا۔

  • مائک اسٹینڈ جس پر کیمرا لگا سکیں، اور کیمرہ میں جامد وساکن رہے، وہ تصویر کے وقت ہلے نہیں، فوٹو شٹر کا مقصد بھی یہی ہے کہ کیمرہ یا موبائل کو ہاتھ لگائے بغیر تصویر لے سکیں، اور زیادہ کام سے ہاتھ میں درد بھی نہ ہو۔

  • فون ہولڈر جس کے ذریعہ سے موبائل مائک اسٹیند پر مضبوطی سے بیٹھ سکے،موبائل اور فوٹوز کے جتنے آلات ہوتے ہیں، ان کا اسکرو

مائک اسٹینڈ سے کچھ چھوٹا ہوتا ہے، اسے کسی کاریگر سے موبائل کے مطابق کرنے کی ضرورت پڑتی ہے۔

  • عام طور پر عکاسی کے لئے کیم اسکینر ایپ کا استعمال کیا جاتا ہے، کتابوں کی عکاسی کے لئے اسکیننگ ایپ سمجھ کر اسے استعمال نہ کریں،اس سے تصویر کی کوالیٹی خراب ہوتی ہے، بلکہ براہ راست کیمرا موڈ کو استعمال کریں۔

  • کتاب کو ہوا سے اڑنے سے روکنے کے لئے، فابر گلاس ۔

  • جب فوٹو نکال رہے ہوں تو صفحات کی کانٹ چھانٹ وغیرہ پراپنی توجہ کو تقسیم نہ ہوں، صفحات کی ترتیب پر توجہ دیں تاکہ صفحات کی مکرر تصویر کشی نہ ہو، اور یہ کہ تصویر کشی سے صفحات چھوٹنے نہ پائیإ، یہاں پر بے اعتنائی سےآئندہ کاموں میں وقت زیادہ لگتا ہے۔

  • کتاب کی تصویر مکمل ہونے کے بعد ان تصاویر کو لیپ ٹوپ یا کمپوٹر کے مخصوص فولڈر میں جمع کریں۔

  • کمپوٹر یا لیب ٹوپ میں مخصوص فولڈر میں کیمرے سے لی گئی تصاویر اکٹھے کرنے کے بعد اصل کام شروع ہوگا، اس کے لئے آپ کو ایک سوفٹ ویر کی ضرورت ہوگی ،جس کا نام ہے اسکین ٹیلر

Scan Tailor  ، اس سوفٹ ویر کا کام درزی کا ہے، یہ فوٹو کئے گئے صفحات کو درستگی سے دو ٹکڑے کرکے آس پاس سے کاٹتا ہے، حواشی وغیرہ کو صاف کرتا ہے، اور تصویر کے پس منظر کو دودھ جیسا سفید کرتا ہے، بہت آسان سوفٹ ویر ہے، اسے استعمال کرنے میں جتنی مہارت ہوگی، اسی قدر کتاب صاف ستہرے، کم حجم میں اور معیاری ہوگی، بطور یاددہانی عرض ہے کہ لم وکتاب گروپ پر جتنی کتابیں یا مضامین ہم نے پوسٹ کئے وہ سبھی ہموبائل کے ذریعہ اسکین کئے ہوئےہیں۔

جب اسکین ٹیلر کے ذریعہ کتاب کے صفحات تیار ہوجائیں، تو پھر آپ کو ضرورت پڑے گی اڈوب پروفیشنل کی۔ تاکہ پی ڈی یف فائل تیار کی جائے۔

خوش خبری: ابھی قریب میں سیزر  کمپنی کا  سیزر اورCZUT AURA Pro  بک اسکینر مارکیٹ میں آیا ہے، قیمت ہندوستانی پندرہ ہزار کے قریب ہے، ابھی شاید ہندوستان یا پاکستان کی مارکیٹ میں آنے میں کچھ دیر لگے، اور اس قسم کے آلات کا بڑا مسئلہ اس کی حفاظت ہے، خراب ہوجائے تو پارٹس نہیں ملتے، اسی ہفتے منگوایا ہے، رکھنے اور کوئی جگہ کو مسئلہ نہیں ہے، تین چار دنوں میں دس کتابیں اسکین کردی ہیں، ابھی اس پرکچھ ہاتھ صاف ہونا باقی ہے، اسکین ٹیلر کی اور بوک مارک کے لئے اڈوب پروفیشنل کی ضرورت پھر بھی باقی رہتی ہے۔  امید کہ ہماری یہ چند باتیں کتابوں کی عکاسی کے لئے سنجیدگی سے سوچنے والوں کے لئے یہ باتیں مفید ہونگی۔

ضروری اشیاء کا خلاصہ: (۱) موبائل (۲) مائک اسٹینڈ (۳) موبائل ہولڈر (۴) لیپ ٹوپ (۵) فوٹو شٹٹر (۶) فائبر شفاف گلاس (۶) اسکین ٹیلر سوفٹ ویر(۷) اڈوب پروفیشنل۔

مطلوبہ اشیاء کی تصاویر منسلک ہیں۔

http://www.bhatkallys.com/ur/author/muniri/