’کوویکسین‘ کو لے کر کیوں ہو رہا تنازعہ، سیاستداں سے لے کر ماہرین تک اٹھا رہے انگلیاں!

03:10PM Mon 4 Jan, 2021

کورونا وائرس سے جاری جنگ کے درمیان یکم جنوری اور 2 جنوری کو ایکسپرٹ کمیٹی نے بالترتیب کووی شیلڈ اور کووویکسین کو ایمرجنسی استعمال کے لیے منظوری دے دی، اور پھر 3 جنوری کو ڈی سی جی آئی (ڈرگ کنٹرولر جنرل آف انڈیا) کی بھی منظوری ان دونوں کورونا ویکسین کو مل گئی۔ لیکن ’کوویکسن‘ کو لے کر اب تنازعہ شروع ہو گیا ہے اور کئی لوگ اس کو جلد بازی میں اور بغیر تھرڈ فیز کا نتیجہ جاری کیے منظوری دیے جانے پر انگلی اٹھا رہے ہیں۔
دراصل کوویکسین کے تیسرے مرحلہ کے ٹرائل کا ڈاٹا اب تک جاری نہیں کیا گیا ہے۔ ایسے میں سوال اٹھنا لازمی ہے کہ آخر ڈاٹا سامنے آنے سے پہلے ہی ویکسین کو منظوری کیوں دے دی گئی۔ کوویکسین کو سرکاری ادارہ آئی سی ایم آر (انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ) کے ساتھ مل کر بایوٹیک نے بنایا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ہندوستان ان ممالک کی فہرست میں شامل ہو گیا ہے جنھوں نے کورونا وائرس کی ویکسین خود بنائی ہے۔ ’بھارت بایوٹیک‘ نے امریکی بازار کے لیے ڈرگ ڈیولپر ’اوکیوجن اِنک‘ کے ساتھ شراکت داری کی ہے۔ علاوہ ازیں برازیل نے بھی یہ ویکسین خریدنے کے لیے کچھ معاہدے کیے ہیں۔
 بہر حال، کوویکسین کے پہلے اور دوسرے مرحلے کا ٹرائل 800 والنٹیرس پر کیا گیا تھا۔ بھارت بایوٹیک نے کہا کہ اس نے تیسرے مرحلہ کے ٹرائل کے لیے 23000 والنٹیرس کی بھرتی کی تھی۔ یہ ٹرائل نومبر 2020 میں شروع کیا گیا تھا جس کا ڈاٹا اب تک جاری نہیں کیا گیا ہے۔ اس وقت اسے 2021 کے فروری یا مارچ میں منظوری دیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا تھا لیکن وقت سے کافی پہلے یعنی 3 جنوری کو ہی اسے ایمرجنسی استعمال کی منظوری مل گئی۔
ٹرانسپیرنسی ایکٹیوسٹ ساکیت گوکھلے نے اس معاملہ میں اپنا نظریہ پیش کرتے ہوئے ایک ٹوئٹ کیا ہے جس میں پوچھا ہے کہ ’’کس بنیاد پر کوویکسین کو منظوری دی گئی ہے، جب کہ بھارت بایوٹیک نے تحفظ اور اثر ہونے کو لے کر مناسب ڈاٹا بھی جاری نہیں کیا ہے۔‘‘ ساکیت گوکھلے نے آر ٹی آئی قانون کے تحت ایک عرضی بھی داخل کی ہے جس میں حکومت سے کوویکسین اور کووی شیلڈ کی حفاظتی اور دیگر ڈاٹا کی جانکاریاں طلب کی گئی ہیں۔ اس درمیان سیرم انسٹی ٹیوٹ کے چیف ایگزیکٹیو افسر ادار پوناوالا نے بھی بغیر ٹرائل کے ریزلٹ جانے بغیر کوویکسین کو منظوری دیے جانے پر سوال اٹھائے ہیں۔
 کئی سیاسی لیڈران نے بھی کوویکسین کے تعلق سے سوال اٹھائے ہیں۔ سابق مرکزی وزیر اور کانگریس کے سینئر لیڈر ششی تھرو نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ ’’ویکسین کو منظوری دینا غیردانشمندانہ فیصلہ ہے اور یہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ جب تک ٹرائل مکمل نہ ہو جائے، اس کے استعمال سے بچنا چاہیے۔ تب تک ہندوستان ایسٹریجنیکا ویکسین سے شروعات کر سکتا ہے۔‘‘
 علاوہ ازیں ایمس کے ڈائریکٹر ڈاکٹر گلیریا نے کہا کہ ’’کوویکسن کا استعمال بیک اَپ کے طور پر کیا جا سکتا ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ اچانک سے کورونا انفیکشن کی تعداد میں اضافہ ہونے پر ہمیں ویکسین کی ضرورت پڑے گی، اس وقت ہم بھارت بایوٹیک کی ’کوویکسین‘ کا استعمال کر سکتے ہیں۔ ڈاکٹر گلیریا کا کہنا ہے کہ جب تک ہم یہ یقینی نہیں بنا لیتے کہ سیرم انسٹی ٹیوٹ کی ویکسین کتنی اثردار ہے، اس وقت تک اس (کوویکسین) کا استعمال بیک اَپ کے طور پر بھی کیا جا سکتا ہے۔ انھوں نے یہ بھی واضح کیا کہ شروعات میں ’کووی شیلڈ‘ کا ہی استعمال ہوگا اور ان کے پاس پہلے سے ہی ’کووی شیلڈ‘ کی 50 ملین خوراک موجود ہیں۔