کسان تحریک: آسٹریلیا کے میلبورن شہر میں ہندوستانی کسانوں کی حمایت میں مظاہرہ
02:01PM Sun 6 Dec, 2020
سرسہ: اب غیر ملکوں میں رہنے والے ہندوستانیوں نے بھی کسانوں کی تحریک کی حمایت کرتے ہوئے اپنے اپنے ملکوں میں اشتعال کا اظہار کیا۔ قبل ازیں، کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو بھی ہندوستان کسانوں کے حق میں آواز اٹھا چکے ہیں، جس پر حکومت ہند نے اعتراض ظاہر کیا ہے۔
اسی ضمن میں آسٹریلیا کے میلبورن میں ہندوستانی ہائی کمیشن کے باہر ٹیم دیسی میلبورنئے اور ہریانہ میں سرسہ ضلع کے گاؤں شیرپورا کے رہنے والے سنجیو سنور، روہتک سے رودر کھوجی اور دیگر نے ہندوستانی نژاد شہریوں کے ساتھ مل کر کسانوں کی تحریک کی حمایت کرتے ہوئے نعرے بازی کی۔
اس کے بعد فیڈریشن اسکوائر میلبورن میں پیدل احتجاجی مارچ نکالا اور کسانوں کے حق میں آواز اٹھاتے ہوئے کہا کہ ہندوستانی حکومت تینوں سیاہ زرع قواین کو فوری اثر سے واپس لے کر کسانوں کو راحت پہنچائے۔ وہیں دوسری طرف سنجیو سنور کے بڑے بھائی سندیپ سنور بھی دہلی میں کسان تحریک کی حمایت میں کسانوں کے ساتھ ڈٹے ہوئے ہیں۔
سندیپ سنور نے کہا کہ مرکزی حکومت تانہ شاہی رویہ اختیار کرکے ہر طبقے کو دبانا چاہتی ہے لیکن اب لوگ جاگ چکے ہیں اور حکومت کی چالوں کو سمجھنے لگے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مرکز اور ریاست کی بی جے پی حکومت نے دوسری اننگ میں اقتدار میں آنے بعد سے ہی تانہ شاہی رویہ اپنا رکھا ہے اور ایسی پالیسیوں کو زبردستی نافذ کیا جا رہا ہے، جس سے مفاد عامہ کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔
حکومت سرمایہ کاروں کی غلام ہوچکی ہے اور ان کے فائدے کےلئے ہی اس قسم کی پالیسیوں کو نافذ کرکے عوام کو سڑکوں پر آنے کےلئے مجبور کررہی ہے۔سنور نے کہا کہ عوام سب کچھ ہوتی ہے۔ان سیاست دانوں کو اگر عوام نے اقتدار پر قابض کیا ہے تو وہ انہیں گرانے کا دم بھی رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانونوں کو واپس نہ لینے تک وہ ملک کے کسانوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان کی ہر ممکن مدد کریں گے۔