سفر حجاز۔۔۔(ج)۔۔۔ واپسی۔۔۔ تحریر: عبد الماجد دریابادیؒ

07:11PM Thu 3 Jun, 2021

قسط: 03

واپسی

وہ جو گھر سے خالی ہاتھ گیا تھا، خالی ہاتھ گھر واپس آ گیا۔ آج سے چار ماہ قبل سینے میں خدا معلوم کتنی امیدوں اور ارمانوں کا ہجوم تھا۔ دل کن کن توقعات سے زندہ تھا اور دماغ اپنے آغوش میں کیا کیا تمنائیں اور آرزوئیں لیے ہوئے تھا۔ واپسی پر دیکھا تو اپنی تیراہ بختی سب پر غالب اور اپنی زبوں حالی سب سے بھاری۔ کریم کا دستِ کرم کوتاہ نہیں اور بخشنے والے کی جودو عطا کی حد و نہایت نہیں لیکن لینے والے کا ظرف بھی تو آخر کسی درجہ میں دیکھنے کی چیز ہے۔ موسم گل میں جب ہوائے بہار چلتی ہے تو ڈالی ڈالی جھومنے اور پتی پتی کھلنے لگتی ہے لیکن شجر بید میں پھل لگتے اور زمین شور میں سبزہ کو ہلاتے ہوئے بھی کسی نے دیکھا ہے۔

نظارے ایک سے بڑھ کر ایک بے نقاب تھے لیکن دیکھا انہیں نے جو آنکھیں رکھتے تھے۔ بٹ سب کچھ رہا تھا لیکن پایا انہیں نے جو دامن پھیلائے اور جیب کھولے ہوئے تھے۔ دوستوں نے کیا کچھ نہیں دیکھا۔ رفیقوں نے کیا کچھ نہیں پایا۔ پر ایک بد نصیب ایسا بھی تھا جس نے دیکھا تو صرف یہ کہ دوسرے دیکھ رہے تھے اور پایا تو صرف یہ کہ دوسرے پارہے ہیں۔

شاعر نے کسی زمانے میں بصد حسرت و یاس کہا تھا

ہر کس خمے کشیده در مجلس وصالش چوں دورِ خسرو آمد جام و سُبُو نماند

جام و سبو کے دور آج بھی چل رہے تھے۔ خم کے خم آج بھی لنڈھائے جارہے تھے، ساقی کی محفل آج بھی ویسے ہی گرم تھی۔ لطف و التفات کے دریا آج بھی بہہ رہے تھے پر جس کا دستِ طلب خود ہی شل اور زبان سرے سے گنگ ہو اس کی حسرت انجامیوں اور ناشادکامیوں کا علاج کیا؟ اور کس کے پاس؟

سکندر آب حیوان تک پہونچ کر بھی ناکام واپس آتا ہے۔ استسقاء کا مریض دریا کے کنارے کھڑے ہو کر بھی پیاسا ہی رہتا ہے۔ خر عیسیٰ مکہ جاتا ہے اور واپسی کے بعد خر ہی باقی رہتا ہے پر اگر کوئی ظلوم و جہول آستان پاک تک پہونچ کر بھی دولتِ دیدار سے محروم ہی رہے تو اس میں فطرت کی بخششوں کا کیا قصور؟ اور ساقی کی فیض پاشیوں کا کیا گلہ؟:

حسرت پر اس مسافر بے کس کی روئیے جو تھک گیا ہو بیٹھ کے منزل کے سامنے

جی میں آتا ہے کہ اپنی کوتاہ بختیوں کے اس مرثیے کو خوب پھیلائیے اور رو رو کر دوسروں کو بھی رلائیے لیکن قوتِ ایمانی بڑھ کر سوال کرتی ہے کہ یہ مایوسیاں کس سے اور یہ نا امیدیاں کس کی طرف سے؟ کیا اس سے جس کے ایک مقبول و برگزیدہ بندہ (علیہ الصلوة والسلام) نے انصباب ہموم کے وقت یہ تعلیم دی تھی۔

ولا تأيئسوا من روح الله انه لا يأيئس من روح الله الا القوم الكافرون (یوسف: ع 10) اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو کیونکہ اللہ کی رحمت سے تو اور کوئی مایوس نہیں ہوتا بجز کافروں کے

اور جس کے ایک دوسرے محبوب و مقبول بنده (علیہ الصلوة والسلام) کی زبان ایسے ہی ایک دوسرے موقع پر اسباب ظاہری کے انقطاع کے وقت ان الفاظ پر کھلی تھی کہ ومن يقنط من رحمۃ ربہ الا الضالون (حجر: ع 4) اپنے پروردگار کی رحمت سے اور کون مایوس ہوسکتا ہے بجز گمراہوں کے؟

اور جس رحم مطلق نے اپنے قانون عام کی ان واضح، روشن و غیر مشتبہ الفاظ میں منادی کردی ہے کہ قل یعبادی الذين اسرفوا علی انفسھم لا تقنطوا من رحمۃ اللّٰہ ان اللہ یغفر الذنوب جمیعا انہ ھو الغفور الرحیم (سورۃ زمر: 6) اے پیغمبر کہہ دو کہ اے میرے بندو جنہوں نے اپنی جانوں پراسراف کیا ہے، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں۔ اللہ سارے گناہ بخش دیتا ہے۔ اس لیے کہ وہ بخشنے والا رحم کرنے والا ہے۔

بار معاصی و ذنوب سے دبا ہوا انسان! کیا تو گناہوں کے بوجھ کا مقابلہ اللہ کے عفو و رحمت سے کرنا چاہتا ہے؟ تیرے گناہ خواہ کتنے ہی ہوں بہرحال گنے جا سکتے ہیں۔ پر خدائے رحمن و رحیم کے کرم بے حساب کی پیمائش ساری دنیا جہاں کے مہندس مل کر بھی کر سکتے ہیں؟ پھر یہ کیسی نادانی ہے کہ محدود کو غیر محدود کے مقابلہ میں لایا جائے؟ کیا وہ جو اپنے بندوں کو محض انہیں کے نوازنے اور سرفراز کرنے کے لیے اپنے در پر حاضری کے لیے بلاتا ہے، وہ صرف نیک کرداروں کو چن لے گا اور نالائقوں کو اپنے آستانہ سے دھتکار دے گا؟ اپنے خوان کرم سے اٹھا دے گا؟ یہ خیال کرنا بھی کتنی سخت گستاخی اور کیسی صریح نادانی ہے؟ اسی لئے فرمایا ہے اس بشارت دینے والے نے جس سے بڑھ کر کوئی بشیر اب تک پردہ زمین پر پیدا نہیں ہوا کہ اعظم الناس ذنبا من وقف بعرفۃ فظن ان اللہ لم یغفرلہ سب سے بڑا گنہگار وہ انسان ہے جو عرفات میں وقوف کرے اور یہ سمجھے کہ اس کی مغفرت نہیں ہوئی۔

اس پروانہ مغفرت کے بعد کیا کوئی دیوانہ ہے کہ جواپنے سفر حج کو ضائع سمجھے؟ جو جو نعمتیں اس سہ ماہہ سفر میں نازل ہوئی ہیں، جو جو نوازشیں اس درمیان میں سرفراز کرتی رہیں، کس کی زبان میں طاقت ہے کہ ان کا شکریہ ادا کر سکے، بہرحال جو کچھ پیش آیا وہ اپنی اہلیت سے کہیں بڑھ کر اور اپنے ظرف سے کہیں زائد۔

پڑھنے والے کہہ رہے ہوں گے کہ ’’اس آپ بیتی سے آخر میرا کیا تعلق؟ تم کو کچھ ملا یا نہیں ملا؟ کچھ لے کر آئے یا کچھ کھو کر آئے، اس سے کیا؟ یہ کہو کچھ ہمارے لیے بھی لائے ہو؟‘‘ جواب میں گزارش ہے کہ ہاں ایک پیام لایا ہوں ’’سچ‘‘کے ہر پڑھنے والے کے لیے، ہر مرد کے لیے، ہر عورت کے لیے، ہر چھوٹے کے لیے، ہر بڑے کے لیے ایک پیام ہے اور وہ ایک پیام ہے جو مسجد حرام سے، خانہ کعبہ سے، مسجدِ نبویﷺ سے، حجرہِ مطہرہ سے، محراب شریف سے، منبر مبارک سے، منی کی قربان گاہ سے، عرفات کے میدان سے، زمزم کے قطروں سے، خاکِ حرم کے ذروں سے، سب کہیں وہی ایک پیام ملا اور وہ پیام کُوْنُوا اَنْصَارَ اللہِ کا ہے۔ وہ پیام دین کی نصرت کا ہے۔ خداوند تعالیٰ میٹنگ اور کانفرنس نہیں چاہتا، اپنے دین کی نصرت چاہتا ہے۔ محمد رسول اللہﷺ شاعری اور قوالی نہیں چاہتے، اپنے لائے ہوئے دین کی نصرت چاہتے ہیں، ملائکہ رحمت نصرتِ دین کے مظاہروں کے اشتیاق میں ہیں، خواہ وہ معرکہ بدر کی صورت میں ہو یا واقعہ کربلا کی شکل میں! خدائے پاک نصرتِ دین کی توفیق ’’سچ‘‘ کے لکھنے والوں،سچ کے پڑھنے والوں اور سارے مسلمانوں کو مرحمت فرمائے۔

ناقل محمد بشارت نواز

https://telegram.me/ilmokitab/