حنیف آباد کراس پر گندگیوں کے ڈھیر سے پریشان ہیں علاقہ کے عوام۔ مستقل حل کے لیے عوام منتظر: پنچایت سکریٹری نے کہی یہ بات

01:58PM Sun 13 Sep, 2020

بھٹکل: 13 ستمبر، 20 (بھٹکلیس نیوز بیورو) کورونا جیسی مہاماری کے دوران جہاں حکومت صفائی ستھرائی پر بہت ہی زیادہ زور دیتے ہوئے اسے اپنی زندگی کا لازمی جز بنانے کی ترغیب دے رہی ہے وہیں بھٹکل کے ہیبلے پنچایت حدود میں آنے والے علاقے حنیف آباد کراس پر جمع ہوئے گندگی کے ڈھیر دیکھنے سے ایک الگ ہی تصویر سامنے آتی ہے جس سے عوام کافی پریشان ہیں اور وہ اپنی اور اپنے اہل خانہ کی صحت کو لے کر کافی فکر مند نظر آرہے ہیں۔ ہیبلے پنچایت حدود میں آنے والے اس علاقے میں سڑک کنارے کچروں کے ڈھیر سے ایسا لگ رہا ہے جیسے یہاں مہینوں سے صفائی ہی نہیں ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ کچرے کے قریب گھوم رہے کتے عوام کے لیے الگ سے درد سر بنے ہوئے ہیں۔ اس سلسلہ میں بھٹکلیس ڈاٹ کوم کے نمائندے نے علاقہ کے ذمہ دار سے بات کی تو انہوں نے کہا کہ کچرا پھینکنے کے لیے ہیبلے پنچایت کی اپنی کوئی جگہ نہ ہونے کے سبب کچروں کی صفائی نہیں ہوپاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا اگرچہ کہ ہیبلے پنچایت کے پاس کچرا اٹھانے والی گاڑی موجود ہے لیکن کچرا اٹھانے کے بعد اس کو پھینکنا بہت بڑا مسئلہ ہے جس کے لیے پنچایت کے پاس اپنی کوئی جگہ نہیں ہے اس لیے یہ کچرا یہیں رہ جاتا ہے۔ اس سلسلہ میں ہیبلے پنچایت سکریٹری لنگپا نائک نے بھٹکلیس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی پنچایت اس سلسلہ میں کافی دنوں سے فکر مند ہے جس کی وجہ سے پنچایت کی طرف سے کچرا پھینکنے کے لیے حکومت سے الگ جگہ کی مانگ کی گئی ہے جو منظور بھی ہوچکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایک دو مہینوں کے اندر پنچایت کو جگہ مل جائے گی اور یہ مسئلہ ہمیشہ کے لیے حل ہوجائے گا۔ پنچایت سکریٹری نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ اگر میونسپالٹی کی طرف سے تعاون کیا جاتا ہے تو پنچایت ان کا معاوضہ دے کر عارضی طور پر وہاں کچرا پھینکنے کے لیے تیار ہے لیکن ان کا کہنا تھا کہ اس کے لیے کئی بار کوشش کی جاچکی ہے لیکن بھٹکل میونسپال کے ذمہ داران کی طرف سے اب تک اس میں کوئی پہل نہیں ہوئی ہے جس کی وجہ سے یہ معاملہ کٹھائی میں پڑا ہوا ہے اور یہ اسی وقت حل  ہونے کی امید ہے جب پنچایت کو کچرا پھینکنے کے لیے اپنی جگہ مل جائے گی۔ لیکن مقامی عوام کا کہنا ہے کہ مرکزی حکومت سے لے کر ریاستی حکومت اور ضلع انتظامیہ تک ہمیشہ سے صفائی ستھرائی پر بھاشن دیتی ہے اور اس کے لیے مہم بھی چلاتی ہے لیکن اس مسئلہ کو اسسٹنٹ کمشنر اور ڈپٹی کمشنر تک کئی بار لے جانے کے باوجود اب تک کوئی کارروائی نہیں ہوئی ہے۔ عوام کا کہنا تھا کہ انتظامیہ کو صحت کے تعلق سے درپیش مسائل میں بے توجہی نہیں برتنی چاہئے اس طرح کے مسائل کو اولین ترجیح دیتے ہوئے ان کو پہلی فرصت میں ترجیحی بنیادوں پر حل کرنا چاہئے۔