کورونا ویکسین لینے کے بعد بھی ہریانہ کے وزیر داخلہ انل وج کو ہوا کورونا وائرس: ویکسین بنانے والی کمپنی نے دی صفائی
03:30PM Sat 5 Dec, 2020
ہریانہ کے وزیر داخلہ انل وج کورونا وائرس سے متاثر پائے گئے ہیں ۔ اس کے بارے میں انہوں نے خود ہی جانکاری دی ہے ۔ انل وج نے ٹویٹ کرکے کہا کہ میں کووڈ 19 جانچ میں کورونا پازیٹیو پایا گیا ہوں ۔ میں سول اسپتال امبالہ کینٹ میں بھرتی ہوں ۔ یہیں پر میرا علاج چل رہا ہے ۔ ساتھ ہی انہوں نے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ سبھی جو میرے رابطے میں آئے ہیں ، وہ خود کورونا جانچ کروالیں ۔
دراصل گزشتہ 20 نومبر کو دیسی ویکسین کے تیسرے مرحلہ کا پہلا ٹیکہ انل وج کو لگایا گیا تھا ۔ انہیں امبالہ کینٹ کے سول اسپتال میں یہ ٹیکہ لگایا گیا تھا ۔ پی جی آئی روہتک کی ٹیم کی نگرانی میں ہی وزیر داخلہ نے ویکسین کا ٹیکہ لگایا تھا ۔ اس کے بعد آدھے گھنٹے تک نگرانی میں رکھا گیا تھا ۔ اس سے پہلے روہتک پی جی آئی کی ٹیم نے انل وج کا نمونہ لیا تھا ۔
کمپنی کی طرف سے دی گئی صفائی
کورونا وائرس کے خلاف ’کوویکسین‘ کے کلینیکل ٹرائل میں پہلی خوراک لینے کے باوجود ہریانہ کے وزیر داخلہ اور صحت انل وج کورونا پازیٹو ہو گئے ہیں۔ وِج کو ’بھارت بایو ٹیک‘ کے ذریعہ تیار کردہ ’کوویکسین‘ کی خوراک دی گئی تھی۔ وِج کے انفیکشن کا شکار ہونے پر جب ہنگامہ پیدا ہوا تو ’بھارت بایو ٹیک‘ نے ایک بیان جاری کر صفائی دی ہے اور بتایا ہے کہ اسے ’کوویکسین‘ کی ناکامی نہیں کہا جا سکتا۔
’بھارت بایو ٹیک‘ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’کوویکسین‘ کو دو خوراک کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے اور اس کے 14 دن بعد ہی اثرانداز ہوگا۔ کمپنی نے بتایا کہ کوویکسین کلینیکل ٹرائل دو خوراک پر مبنی ہے جو 28 دنوں پر محیط ہے۔ ویکسین کتنی اثردار ہے، یہ دونوں خوراک کے 14 دن کے بعد ہی پتہ چلے گا۔ کمپنی نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ تیسرے مرحلہ کے ٹرائل ڈبل-بلائنڈ اور رینڈمائزڈ ہوتے ہیں، جس میں ٹرائل میں حصہ لینے والے 50 فیصد لوگ ٹیکہ حاصل کرتے ہیں اور 50 فیصد پلیسیبو حاصل کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ ہریانہ کے وزیر صحت و داخلہ انل وِج نے آج خود ٹوئٹ کر اس بات کی جانکاری دی کہ وہ کورونا انفیکشن کے شکار ہو گئے ہیں۔ بتایا گیا کہ کورونا سے حالات بگڑنے کے بعد انھیں انبالہ کینٹ کے سول اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ انل وِج کو انفیکشن ہونا اس لیے حیران کرنے والا ہے کیونکہ نومبر کے آخر میں انھیں ’کوویکسین‘ کا ٹرائل شاٹ دیا گیا تھا۔ وِج نے اس ویکسین کے لیے خود ہی والنٹیر بننے کا فیصلہ کیا تھا۔
غور طلب ہے کہ ہندوستان میں تیار ’کوویکسین‘ کے لیے 25 مراکز پر 26 ہزار والنٹیرس پر ٹرائل ہونا ہے۔ ویکسین کا ٹرائل انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ یعنی آئی سی ایم آر کے ساتھ مشترکہ طور پر ہو رہا ہے۔ جن والنٹیرس کو ویکسین کی خوراک دی گئی ہے، ان سبھی کو آئندہ سال تک نگرانی میں رکھا جائے گا۔ پہلے دو مراحل میں جن لوگوں کو یہ ویکسین دی گئی، ان میں کوئی مضر اثر نظر نہیں آیا۔ کسی بھی والنٹیر کے انفیکشن کا شکار ہونے کی خبر بھی نہیں ہے۔ ایسے میں اس ویکسین سے امید کافی بڑھ گئی تھی، لیکن وِج کے انفیکشن کے شکار ہونے کے بعد اب اندیشے کی حالت پیدا ہو گئی ہے۔