Kerala to ‘Keralam’: Union Cabinet approves changing name of state
05:44PM Tue 24 Feb, 2026
ریاست کیرالہ کا نام سرکاری طور پر ’’کیرالا‘‘ سے بدل کر ’’کیرلم‘‘ کرنے کی تجویز کو مرکزی حکومت نے منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے کے بعد سیاسی، لسانی اور ثقافتی سطح پر نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔ ریاست کی بائیں بازو کی حکومت، جس کی قیادت وزیر اعلیٰ Pinarayi Vijayan کر رہے ہیں، نے یہ تجویز مرکز کو بھیجی تھی جسے وزیر اعظم مودی کی قیادت والی مرکزی کابینہ نے جلد منظور کر لیا۔
یہ فیصلہ محض نام کی تبدیلی نہیں بلکہ زبان، شناخت اور آنے والے انتخابات سے جڑی سیاسی حکمت عملی سے بھی متعلق سمجھا جا رہا ہے۔
عام طور پر جب اپوزیشن کی طرف سے کوئی تجویز مرکزی حکومت کے پاس جاتی ہے تو اس پر طویل بحث ہوتی ہے، کئی بار فائلیں رک جاتی ہیں اور بعض اوقات معاملہ ٹھنڈے بستے میں ڈال دیا جاتا ہے۔ تاہم جب جنوبی بھارت کی اہم ریاست کیرالہ کا معاملہ سامنے آیا تو یہ روایت ٹوٹتی نظر آئی۔
کیرالہ کی بائیں بازو کی حکومت نے ریاست کا نام “Kerala” سے بدل کر “Keralam” کرنے کی تجویز بھیجی تھی، جسے مرکزی کابینہ نے بغیر کسی بڑی تاخیر کے منظور کر لیا۔ اس تیز منظوری کے پیچھے سیاسی اور سفارتی عوامل کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
مرکزی کابینہ نے ریاستی حکومت کی اس سفارش کو بھی قبول کیا جس میں آئین کی پہلی فہرست اور تمام سرکاری زبانوں میں ریاست کا نام ’’کیرلم‘‘ درج کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔
مرکز نے تجویز فوری کیوں منظور کی؟
اس فیصلے پر سب سے زیادہ بحث اس بات پر ہو رہی ہے کہ مرکزی حکومت نے اتنی آسانی سے اس تجویز کو کیوں قبول کر لیا۔ ماہرین کے مطابق اس کے پیچھے سیاسی حکمت عملی اور انتخابی وقت کا خاص کردار ہے۔
اسمبلی انتخابات کا عنصر
کیرالہ میں اپریل۔مئی کے دوران اسمبلی انتخابات متوقع ہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کئی برسوں سے جنوبی بھارت میں اپنی سیاسی موجودگی مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے، اور کیرالہ اس حکمت عملی میں اہم ریاست ہے۔
زبان اور ثقافت کا حساس معاملہ
کیرالہ کے عوام اپنی زبان ملیالم اور علاقائی شناخت کے حوالے سے خاصے حساس ہیں۔ اگر مرکزی حکومت اس تجویز کو مسترد کرتی تو بائیں بازو اور کانگریس اتحاد اسے بڑا انتخابی مسئلہ بنا سکتے تھے۔ فوری منظوری دے کر مرکز نے اس ممکنہ سیاسی دباؤ کو کم کر دیا۔
متفقہ اسمبلی قرارداد
24 جون 2024 کو کیرالہ اسمبلی نے یہ تجویز متفقہ طور پر منظور کی تھی، جس میں حکمران اتحاد اور اپوزیشن دونوں شامل تھے۔ کسی ریاست کی اسمبلی کا متفقہ مطالبہ ہونے کی وجہ سے مرکز کے لیے اسے نظرانداز کرنا مشکل تھا۔
’’کیرلم‘‘ لفظ کا اصل مطلب کیا ہے؟
ملیالم زبان میں ریاست کو صدیوں سے ’’کیرلم‘‘ کہا جاتا رہا ہے۔ یہ کوئی نیا نام نہیں بلکہ تاریخی اور لسانی بنیاد رکھنے والا لفظ ہے۔
نارئیل کی سرزمین
ملیالم میں ’’کیرا‘‘ کا مطلب ناریل کا درخت اور ’’الم‘‘ کا مطلب زمین ہے۔ چونکہ ریاست میں ناریل کے درخت بکثرت پائے جاتے ہیں، اس لیے ’’کیرلم‘‘ کا مطلب ’’ناریل کی سرزمین‘‘ بنتا ہے۔
چیر راج خاندان سے تعلق
تاریخ دانوں کے مطابق اس نام کی جڑیں قدیم ’’چیر‘‘ سلطنت سے بھی ملتی ہیں۔ قدیم دور میں اس علاقے پر چیر حکمرانوں کی حکومت تھی اور وقت کے ساتھ ’’چیرم‘‘ لفظ بدل کر ’’کیرلم‘‘ بن گیا۔
پھر ’’کیرالا‘‘ نام کیسے پڑا؟
1956 میں ریاستوں کی لسانی بنیاد پر تنظیم نو کے دوران مالابار، کوچین اور تراونکور کو ملا کر نئی ریاست بنائی گئی۔ اس وقت انگریزی سرکاری استعمال میں ہونے کی وجہ سے “Keralam” کا انگریزی روپ “Kerala” اختیار کر لیا گیا، جو بعد میں سرکاری نام بن گیا۔
اگرچہ مقامی لوگ اپنی زبان میں ’’کیرلم‘‘ ہی کہتے رہے، لیکن آئینی دستاویزات میں ’’کیرالا‘‘ درج ہو گیا۔ یہی وجہ ہے کہ ریاست کے عوام طویل عرصے سے اصل نام بحال کرنے کا مطالبہ کرتے رہے۔
نام کی تبدیلی اور بھارت میں لسانی شناخت
بھارت میں کئی ریاستوں اور شہروں کے نام مقامی زبان کے مطابق تبدیل کیے جا چکے ہیں، جیسے بمبئی سے ممبئی اور مدراس سے چنئی۔ ان تبدیلیوں کا مقصد مقامی ثقافت اور زبان کو سرکاری شناخت دینا رہا ہے۔ کیرالہ کا ’’کیرلم‘‘ بننا بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی سمجھا جا رہا ہے۔