کثرت ازواج اور نکاح حلالہ پر پابندی کا مطالبہ۔ سپریم کورٹ بنائے گا نئی آئینی بینچ

02:47PM Thu 24 Nov, 2022

سپریم کورٹ نے مسلمانوں میں رائج کثرت ازواج اور نکاح حلالہ کے کیسیز پر غور کرنے کے لیے آئینی بنچ تشکیل دینے پر رضامندی دے دی ہے۔ چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ کی صدارت والی بنچ نے آج کہا کہ وہ ان روایتوں کو چیلنج دینے والی درخواست پر غور کرنے کے لیے نئی آئینی بنچ بنائے گی۔ عدالت عظمیٰ نے کہا کہ نئی بنچ ان معاملوں کی سماعت کرے گی۔ یہ حکم سینئر وکیل اشونی اُپادھیائے کی درخواست پر دیا گیا ہے۔ اُپادھیائے نے درخواست کا آج صبح چیف جسٹس کی بنچ کے سامنے ذکر کیا تھا۔ درخواست میں مسلمانوں کی کثرت ازواج اور حلالہ روایت کو ممنوع قرار دینے کی مانگ کی گئی ہے۔
اُپادھیائے نے بنچ سے کہا کہ دو ججوں جسٹس اندرا بنرجی اور جسٹس ہیمنت گپتا سبکدوش ہوچکے ہیں اور نئی بنچ بنائی جانی ہے۔ اس سے پہلے پانچ ججوں، جسٹس اندرا بنرجی، ہیمنت گپتا، سوریہ کانت، ایم ایم سندریش اور سدھانشو دھولیہ کی بنچ اس معاملے کی سماعت کررہی تھی۔ درخواست میں مانگ کی گئی ہے کہ مسلمانوں میں رائج کثرت ازواج (ایک سے زائد شادیوں) کی روایت اور نکاح حلالہ پر پابندی لگائی جائے۔ یہ غیر قانونی اور غیر آئینی ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ نکاح حلالہ کا رواج ایک طلاق شدہ خاتون کو پہلے کسی اور سے شادی کرنا ہوتی ہے۔ اس کے بعد مسلم پرسنل لا کے تحت اپنے پہلے شوہر سے پھر شادی کرنے کے لیے طلاق لینا پڑتا ہے۔ دوسری جانب، کثرت ازواج ایک ہی وقت میں ایک سے زیادہ بیویوں یا شوہر ہونے کی روایت ہے۔