اردو میڈیم اسکول سے تعلیم حاصل کرنے والی ڈاکٹر مریم عفیفہ انصاری بنی ہندوستان کی پہلی مسلم نیورو سرجن! یہ ہے کامیابی کا سفر
04:15PM Wed 23 Nov, 2022

کامیابی ان لوگوں کو ملتی ہے جو محنت اور لگن پر یقین رکھتے ہیں۔ یہ جملہ مہاراشٹر اسٹیٹ اوپن اسکول کے ریاستی صدر ہے۔ جو کہ ہندوستان میں پہلی مسلم نیورو سرجن ڈاکٹر مریم عفیفہ انصاری (Dr Mariam Afifa Ansari) پر صادق آتا ہے۔ مریم عفیفہ انصاری نے ہمیشہ ڈاکٹر بننے کا خواب دیکھا اور ان کا یہ خواب اس وقت حقیقت بن گیا جب انھوں نے 2020 میں آل انڈیا نیٹ (NEET) کے امتحان میں 137 واں رینک حاصل کیا۔
مریم نے کہا کہ اب میں مس عفیفہ سے ڈاکٹر عفیفہ بن گئی ہوں اور میرا سفید کوٹ پہننے اور اسٹیتھواسکوپ سے مریضوں کا معائنہ کرنے کا خواب پورا ہو گیا ہے۔ اپنے اسکول کے دنوں سے وہ ہمیشہ بہترین صلاحتیوں کا مظاہرہ کرتی رہی ہے۔ مریم نے اپنی ابتدائی تعلیم مالیگاؤں کے ایک اردو میڈیم اسکول میں مکمل کی۔
اردو میڈیم سے تعلیمی سفر کا آغاز:
دسویں جماعت تک اردو میڈیم اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد مریم نے اپنی مسلسل کامیابیوں سے بہت سے لوگوں کو حیران کر دیا ہے۔ مریم نے اپنی ابتدائی تعلیم مالیگاؤں کے ایک اردو میڈیم اسکول سے حاصل کی۔ اس کے بعد وہ حیدرآباد آگئیں۔ انھوں نے حیدرآباد میں پرنسس دروشیور گرلز ہائی اسکول (Princess Durushevar Girls High School) میں دسویں تک تعلیم حاصل کی، جہاں انھوں نے 10 ویں جماعت میں گولڈ میڈل جیتا تھا۔ ایم ایس او مہاراشٹر کے ریاستی صدر نے کہا کہ مریم نے عثمانیہ میڈیکل کالج (Osmania Medical College) سے ایم بی بی ایس کیا اور پھر اسی کالج سے جنرل سرجری میں ماسٹر ڈگری حاصل کی۔
مریم نے اپنے ایم بی بی ایس کورس کے دوران پانچ گولڈ میڈل حاصل کیے۔ 2017 میں اپنا کورس مکمل کرنے کے بعد وہ اسی کالج میں جنرل سرجری کے ماسٹر کورس کے لیے مفت داخلہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی۔ سال 2019 میں انھوں نے انگلینڈ کے رائل کالج آف سرجنز سے اپنی پوسٹ گریجویٹ ڈگری ایم آر سی ایس مکمل کی۔ سال 2020 میں انھوں نے ڈپلومہ آف نیشنل بورڈ کا کورس کیا۔
’میری کامیابی اللہ کا تحفہ‘
یہ ایک خصوصی پوسٹ گریجویٹ ڈگری ہے جو ہندوستان میں ماہر ڈاکٹروں کو دی جاتی ہے۔ نیٹ ایس ایس 2020 امتحان میں اعلیٰ نمبر حاصل کرنے کے بعد انھیں عثمانیہ میڈیکل کالج میں ایم سی ایچ میں مفت داخلہ دیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ میری کامیابی اللہ کا تحفہ ہے اور اب میری ذمہ داری ہے کہ میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کروں۔
کمیونٹی کی خدمت کا مقصد:
مریم نے کہا کہ وہ اپنے پیشے کے ذریعے کمیونٹی کی خدمت کرنے کی کوشش کریں گی۔ مسلم لڑکیوں کو پیغام دیتے ہوئے انھوں نے کہا لہ ہار مت چھوڑیں، کبھی کسی کو یہ نہ کہنے دیں کہ آپ یہ نہیں کر سکتیں! اسے حاصل کر کے انہیں غلط ثابت کریں۔ مریم کی والدہ ٹیچر ہیں۔ انھیں اپنی بیٹی پر فخر ہے۔ مریم پڑھائی کے علاوہ مصوری، خطاطی اور اسلامی تعلیمات میں بھی مہارت رکھتی ہیں۔
مریم کی مسلسل محنت نے انھیں کامیابی کے راستے میں آنے والی ہر رکاوٹ کو عبور کرنے میں مدد کی ہے۔ ڈاکٹر مریم عفیفہ انصاری ہندوستان کی نوجوان نسل کے لیے ایک تحریک بون گئی ہیں۔