کاروار- گوا سرحد پر کرناٹک کے عوام کو ہراساں کیے جانے پر کئی تنظیموں کا احتجاج
04:31PM Sat 29 Aug, 2020
کاروار: 29 اگست، 20 (بھٹکلیس نیوز بیورو) کاروار سے گوا جانے کے دوران کاروار کی ماجالی سرحد پر گوا حکومت کی ایما پر پولس کی جانب سے کرناٹک کی عوام کو ہراساں کرنے کا الزام لگاتے ہوئے آج کئی ایک تنظیموں نے کاروار میں گوا حکومت کے خلاف احتجاج کیا۔
اطلاع کے مطابق گوا حکومت کی طرف سے یہاں سے جانے والوں کے پاس کورونا نگیٹیو سند مانگی جاتی ہے اور نہ ہونے کی صورت میں دو ہزار روپئے دے کر کورونا جانچ کرنے کے لیے کہا جاتا ہے۔
اس موقع پر کرناٹکا رکشنا ویدیکے، ٹیکسی یونین اور دیگر تنظیموں کے اراکین نے کہا کہ یہ حکم مرکزی حکومت کے قوانین کے بالکل ہی خلاف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کرناٹک سے ہر دن کئی مزدور اور دیگر افراد گوا جاتے ہیں اور ایسے میں اگر سرحد بند کرکے پابندیاں لگائی جاتی ہیں تو اس سے ان کو کافی مشکلات پیش آسکتیں ہیں۔
اس موقع پر یکم ستمبر سے پہلے سرحد کو نہ کھولنے پر بڑے پیمانے پر احتجاج کی دھمکی دی گئی ہے۔
اس موقع پر کرناٹکا رکشنا ویدیکے، ٹیکسی یونین اور دیگر تنظیموں کے اراکین نے کہا کہ یہ حکم مرکزی حکومت کے قوانین کے بالکل ہی خلاف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کرناٹک سے ہر دن کئی مزدور اور دیگر افراد گوا جاتے ہیں اور ایسے میں اگر سرحد بند کرکے پابندیاں لگائی جاتی ہیں تو اس سے ان کو کافی مشکلات پیش آسکتیں ہیں۔
اس موقع پر یکم ستمبر سے پہلے سرحد کو نہ کھولنے پر بڑے پیمانے پر احتجاج کی دھمکی دی گئی ہے۔