پٹرول پمپ پر تیل چوری پڑے گی بھاری، گراہک کی شکایت پر منسوخ ہوگا لائسنس، پہلی بار ملا نیا اختیار
01:56PM Sat 25 Jul, 2020
ملک کے پٹرول پمپوں پر اب چپ لگا کر تیل چوری کرنا پٹرول پمپ چلانے والوں پر بھاری پڑنے والا ہے۔ ملک میں روز پٹرول پمپوں پر مشینوں میں چپ لگا کر پٹرول اور ڈیزل کی ناپ تول میں کمی کے معاملے کو دیکھتے ہوئے مودی حکومت نے سخت قدم اٹھائے ہیں۔ گزشتہ 20 جولائی کو نیا صارف تحفظ ایکٹ 2019 نافذ ہو جانے کے بعد پٹرول پمپ مالکان پر نکیل کسنا شروع ہو جائے گا۔
بتا دیں کہ پٹرول۔ ڈیزل کو لے کر صارفین کو ہر روز کئی طرح کے مسائل سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ گراہک کم پٹرول اور ڈیزل کی شکایتوں کو لے کر پریشان رہتے ہیں لیکن اب نئے صارف تحفظ ایکٹ 2019 کے تحت پٹرول پمپ مالکان گراہکوں کو ٹھگ نہیں سکتے۔
اب پٹرول پمپ پر پٹرول یا ڈیزل معیار کے مطابق ملیں گے۔ اگر گراہک شکایت کرتے ہیں تو پٹرول پمپ پر جرمانہ کے ساتھ اس کا لائسنس بھی منسوخ ہو سکتا ہے۔
ملک میں تیل کی چوری کا کھیل چھوٹے شہروں سے لے کر بڑے شہروں اور گاووں تک پھیلا ہے۔ پٹرول پمپ مالکان کئی طرح سے صارفین کو چونا لگاتے ہیں۔ عام آدمی کی گاڑھی کمائی کو پٹرول پمپ کے مالک کئی طرح سے چوستے ہیں۔
عام آدمی اکثر پٹرول۔ ڈیزل لیٹر سے نہیں بلکہ پیسے سے بھرواتے ہیں۔ فکس روپئے، جیسے 100 روپئے، پانچ سو روپئے یا دو ہزار کا تیل دینے کے لئے کہتے ہیں۔ گراہک کو پتہ نہیں ہوتا کہ اس فکس روپئے کے بولنے پر پہلے ہی پٹرول پمپ مالکان کے ذریعہ چپ لگا کر لیٹر گھٹا دیا جاتا ہے۔ اس سے گراہک ٹھگے جاتے ہیں۔
نئے صارف تحفظ ایکٹ 2019 کے مطابق، اب ملاوٹی یا نقلی مصنوعات کی فروخت کے لئے سخت ضوابط طئے کئے گئے ہیں۔ اب اگر گراہک کم تیل ملنے کی شکایت کرتے ہیں تو اس قانون میں کسی عدالت کے ذریعہ سزا کا التزام کیا گیا ہے۔
پہلی بار عدالت میں قصور ثابت ہونے پر پٹرول پمپ مالک کا لائسنس دو سال تک کی مدت کے لئے معطل کیا جا سکتا ہے۔ اگر دوسری یا اس کے بعد بھی پٹرول پمپ مالک کے خلاف شکایت آتی ہے تو مستقل طور پر لائسنس رد کیا جا سکتا ہے۔