Iran's leader Khamenei blames Trump for inciting deadly protests
07:13PM Sat 17 Jan, 2026
تہران: ایران میں ہنگامہ آہستہ آہستہ کم ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ جب سے ٹرمپ نے ایران پر حملہ نہ کرنے کے ارادے کا اعلان کیا ہے، خامنہ ای کی اتھارٹی کو چیلنج کرنے والے سڑکوں سے غائب ہو گئے ہیں۔ ٹرمپ نے اپنی ناک بچانے کے لیے دعویٰ کیا کہ حملہ اس شرط پر ملتوی کیا گیا کہ ایران مظاہرین کی پھانسی روک دے۔ ٹرمپ نے ایک قدم آگے بڑھ کر ایران کا شکریہ بھی ادا کیا۔ تاہم اب ایران کے سپریم لیڈر خامنہ ای نے اب اپنی خاموشی توڑتے ہوئے دو ٹوک الفاظ میں ٹرمپ کو “مجرم” قرار دیا ہے۔
خامنہ ای نے کیا ٹرمپ کو بے نقاب
ہفتے کے روز، خامنہ ای نے اپنا پہلا سخت بیان جاری کرتے ہوئے کہا، “ہم امریکی صدر کو ایرانی قوم کو ہونے والے جانی نقصان، نقصانات اور بدنامی کا قصوروار ٹھہراتے ہیں۔” انہوں نے یہ بیان تہران میں ایک اجتماع سے خطاب کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر پوسٹ کیا۔ خامنہ ای نے کہا کہ “ایران میں بدامنی ایک امریکی سازش تھی، اور امریکہ کا ارادہ ایران کو ہڑپنا ہے۔”
ایران میں امریکہ کی چال
ٹرمپ نے دسمبر 2025 میں ایران میں شروع ہونے والے مظاہروں کے دوران آگ میں ایندھن ڈالا۔ انہوں نے مظاہرین کو ایرانی سرکاری دفاتر پر قبضہ کرنے کے لیے اکسایا۔ انہوں نے امریکہ سے امداد بھیجنے کا وعدہ کرتے ہوئے احتجاج جاری رکھنے پر زور دیا۔ تاہم، یہ صرف زبانی جمع خرچ کے علاوہ کچھ نہیں تھا ، چونکہ کوئی امداد وہاں نہیں پہنچی۔ اس کے بجائے، ٹرمپ کے اکسانے کے بعد، بہت سے غیر مسلح مظاہرین سڑکوں پر مارے گئے۔ ٹرمپ نے ایران پر حملے کی دھمکی بھی دی لیکن جب خلیجی ممالک نے متفقہ طور پر جنگ کے لیے اپنی فضائی حدود فراہم کرنے سے انکار کردیا تو وہ پیچھے ہٹ گئے۔
مٹی پلید ہوئے ٹرمپ کے دعوے
بعد میں ٹرمپ ہمیشہ کی طرح ایران کے حالات سدھارنے کا کریڈٹ لینے پر اتر آئے ۔ امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے ایران کو فون کیا تھا اور واضح طور پر کہا تھا کہ وہ حملہ نہیں کریں گے لیکن اس کے بدلے میں 800 مظاہرین کی پھانسی روکنی ہوگی ۔ ٹرمپ نے اپنے اسٹاف سے بھی بارہا یہ دعویٰ کروایا کہ انہوں نے ایران میں بڑے پیمانے پر قتل عام کو روکوا دیا ہے۔ تاہم ایران نے کبھی اس کی تصدیق نہیں کی۔ اب خامنہ ای نے ٹرمپ کو مجرم قرار دیا ہے۔