Iran denies any talks with Trump, says his pause was a retreat forced by military threats
07:27PM Mon 23 Mar, 2026
مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے پیشِ نظر یہ اندازہ لگایا جا رہا تھا کہ امریکہ ایک دو گھنٹوں کے اندر ہی ایران کے اُن بجلی گھروں کو نشانہ بنا سکتا ہے، جس سے یہ ملک اندھیرے میں ڈوب جائے گا۔ تاہم اس سے پہلے ہی امریکی صدر کا ایک سوشل میڈیا بیان اُن کے مخصوص انداز میں سامنے آ گیا۔ بڑے بڑے حروف میں ڈونلڈ ٹرمپ نے لکھا کہ ایران کے ساتھ اُن کی بات چیت جاری ہے اور وہ اس جنگ کو جلد اور مکمل طور پر ختم کرنے کی سمت میں پیش رفت کر رہے ہیں۔ انہوں نے ایرانی پاور پلانٹس پر حملے کو مزید پانچ دن کے لیے مؤخر کرنے کا بھی اعلان کیا۔
اب باری ایران کی تھی کہ وہ اس پر کیا ردعمل دیتا ہے۔ سب سے پہلے ایران کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے ترجمان ابراہیم رضائی نے کہا کہ جنگ جاری ہے اور یہ شیطان کے لیے ایک اور شکست ہے۔ ان کے مطابق ٹرمپ اور امریکہ ایک بار پھر ناکام ہو گئے ہیں۔ اس کے بعد ایرانی وزارتِ خارجہ نے واضح کر دیا کہ واشنگٹن کے ساتھ کسی بھی قسم کی براہِ راست یا بالواسطہ بات چیت نہیں ہو رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس طرح کے بیانات دے کر ٹرمپ اپنے لئے محض وقت حاصل کرنا چاہتے ہیں اور یہ اُن کی نفسیاتی جنگ کا حصہ ہے۔
“پاور پلانٹس ہمارے تباہ کرنے تھے، وہ خود ڈر گئے”
ایران کی فوجی تنظیم اسلامی انقلابی گارڈ کورپس نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں ہو رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب امریکہ کو یہ معلوم ہوا کہ ہمارے اہداف پورے مغربی ایشیا کے تمام بجلی گھر ہو سکتے ہیں، تو انہوں نے اپنا مؤقف بدل لیا اور پیچھے ہٹ گئے۔ ایران کا کہنا ہے کہ سخت فوجی وارننگ کے بعد امریکی صدر ٹرمپ نے توانائی کے ڈھانچے پر حملے کا فیصلہ واپس لے لیا۔ یاد رہے کہ اس سے قبل خلیجی ممالک بھی امریکہ کو خبردار کر چکے تھے کہ پاور پلانٹس پر حملہ اس کے اتحادیوں کے لیے مشکلات کھڑی کر سکتا ہے۔
اپنے مفاد کے لیے ٹرمپ دے رے بیان؟
ایرانی وزارتِ خارجہ نے یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے ان بیانات کے پیچھے مالیاتی منڈیوں کا دباؤ اور امریکہ سمیت مغربی ممالک کے بانڈ مارکیٹ سے جڑے خدشات بھی کارفرما ہیں۔
ایران کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے تسنیم نیوز ایجنسی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کی نفسیاتی جنگ سے نہ تو آبنائے ہرمز کی صورتحال پہلے جیسی ہو سکتی ہے اور نہ ہی توانائی کی عالمی منڈی معمول پر آئے گی۔
ایرانی موقف کے مطابق ٹرمپ دراصل اپنی دی گئی 48 گھنٹوں کی مہلت کو بڑھا کر پانچ دن کر رہے ہیں اور حملے کے لیے وقت حاصل کر رہے ہیں، جبکہ ایران کا مؤقف بالکل واضح ہے کہ وہ اپنے دفاع کا حق رکھتا ہے کیونکہ جنگ اُس نے شروع نہیں کی ہے۔
کیا ٹرمپ جنگ بندی کا راستہ ڈھونڈ رہے ہیں؟
جنگ کے آغاز سے اب تک مختلف ثالثوں کے ذریعے تہران کو پیغامات بھیجے گئے، تاہم ایران نے دو ٹوک انداز میں جواب دیا کہ وہ اپنی سلامتی کے لیے اس وقت تک جوابی کارروائی جاری رکھے گا جب تک مطلوبہ طاقت حاصل نہ کر لے۔ امریکہ متعدد بار ایران سے بات چیت کے دعوے کرتا رہا ہے، لیکن ایران کا کہنا ہے کہ وہ کسی بھی معاہدے کے لیے تیار نہیں کیونکہ جنگ اس نے شروع نہیں کی۔
ایرانی مؤقف کے مطابق امریکہ اُن تمام افراد کو ہلاک کر چکا ہے جو سرکاری سطح پر رابطے کے اہل سمجھے جاتے تھے، ایسے میں سوال اٹھتا ہے کہ بات چیت آخر کس سے ہوگی؟ اب ٹرمپ یہ کہہ رہے ہیں کہ حالات یکسر بدل چکے ہیں اور اقتدار کی صورتحال بھی تبدیل ہو گئی ہے، تو کیا وہ اس جنگ کو ختم کرنے کا راستہ تلاش کر رہے ہیں کیونکہ معاملہ اب الجھ چکا ہے؟