وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کاروار میں ہندوستانی بحریہ کے پروجیکٹ سی برڈ کا فضائی سروے کیا:  بحریہ سے متعلق بہت سارے منصوبوں کا  لیا جائزہ

02:07PM Thu 24 Jun, 2021

کاروار: 24 جون 21 (بھٹکلیس نیوز بیورو) وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے کاروار میں ہندوستانی بحریہ کے پروجیکٹ سی برڈ کا آج  فضائی سروے کیا اس موقع پر ان کے ہمراہ  نیوی چیف ایڈمرل کرمبیر سنگھ بھی موجود رہے۔ خیال رہے کہ راج ناتھ سنگھ کاروار اور کوچی میں ہندوستان کے بڑے بحری اڈوں کے دو روزہ دورے پر آج کرناٹک آئے ہوئے  ہیں اور ان کے دورے کا آغاز کاروار سے ہوا ہے۔اس سے قبل وہ دہلی سے بذریعے فلائٹ گوا اترے تھے اور وہاں سے کاروار کا رخ کیا تھا۔ اطلاعا ت کے مطابق ہندوستانی بحریہ کاروار میں اپنے اسٹریٹجک اہم نیول بحری اڈے میں توسیع کررہی ہے۔ ایک بار جب یہ اڈہ مکمل طور پر تیار ہوجاتا ہے ، تو یہ ایشیاء کے سب سے بڑے بحری اڈوں میں سے ایک ہوجائے گا۔

پروجکٹ کے  کنٹریکٹرس اور انجینرس سے گفتگو کرتے ہوئے  راجناتھ سنگھ نے کہا کہ  کاروار کا یہ بحری اڈہ  مسلح افواج کی  آپریشنل تیاری  کو مزید تقویت بخشے گا   اور تجارت ، معیشت اور انسانی   امدادی کاروائیوں  کو بڑھانے میں کارگر ثابت ہوگا۔ سی برڈ پروجکٹ جو  11,169 ایکڑ زمین پر تعمیر ہورہا ہے،  اس کے پہلے مرحلے میں گہرا سمندری بندرگاہ  ، بریک واٹرس ، ڈریجنگ ، ٹاون شپ ، ایک بحری اسپتال ، ایک ڈاکیارڈ ، اپلفٹ سینٹر اور  شپ لفٹ  شامل ہے۔ جبکہ دوسرے مرحلے میں  ایک ہوائی پٹی ، ایک ایئر اسٹیشن اور ناول ریسرچ سینٹر  شامل ہیں۔

اس کے بعد  راج ناتھ سنگھ کوچی میں  ہندوستان کے پہلے دیسی طیارہ بردار بحری جہاز (IAC-I) وکرانت کی تعمیر میں پیش رفت کا جائزہ لیں گے۔ دورے کے بارے میں راج ناتھ سنگھ کا ٹویٹ اسی دوران  راج ناتھ سنگھ نے ٹویٹ کیا کہ "کاروار اور کوچی کے دو روزہ دورے پر نئی دہلی سے روانہ ہورہا ہوں۔ میں کاروار میں جاری انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ کے ساتھ ساتھ کوچی میں دیسی ہوائی جہاز کیریئر شپ (IAC) کی تعمیر میں پیش رفت کا بھی جائزہ لوں گا۔ اس دورے کے لئے میں پرجوش ہوں۔ "     واضح رہے کہ وزیر دفاع راجناتھ سنگھ کو وزیر اعظم نریندر مودی کی طرف سے کشمیر کے رہنماؤں سے اہم ملاقات سے عین قبل دو روزہ دورے پر کاروار اور کوچی جانے کے بارے میں بتایا گیا تھا۔ ان کے دورے کے دوران ہندوستانی بحریہ سے جڑے اہم منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ اس میں میری ٹائم تھیٹر کمانڈ اور دیسی طیارے بردار جہاز بھی شامل ہیں۔