منگلورو میں بم دھماکہ پر کرناٹک کے وزیراعلیٰ نے کہا-مشتبہ افراد کاتھا دہشت گردوں سے تعلق، کوئمبتور دھماکہ سے بھی لنک
11:45AM Mon 21 Nov, 2022
کرناٹک کے وزیراعلیٰ بسوراج بوممئی نے اتوار کو کہا کہ منگلورو میں مبینہ طور پر بم دھماکہ کرنے والے مشتبہ کے دہشت گردوں سے تعلق تھے کیونکہ وہ پڑوسی ریاست تمل ناڈو میں کوئمبتور سمیت مختلف مقامات کا سفر کرچکا تھا۔ وزیراعلیٰ نے یہاں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ ایل ای ڈی سے جڑا االہ ہے۔ پولیس تھانے کے پاس ایک آٹو رکشا میں سنیچر شام کو دھماکہ ہوا، جس میں مسافر اور سواری زخمی ہوگئے۔ دونوں کو اسپتال میں بھرتی کرایا گیا ہے۔
آٹورکشا کے انٹیرئیر کو پہنچا بری طرح نقصان
پولیس ذرائع کے مطابق، دھماکہ کے لیے ڈیٹونیٹر، تار اور بیٹری سے لیس کوکر کا استعمال کیا گیا۔ دھماکہ کے بعد آٹو رکشا کا انٹیرئیر بری طرح تباہ ہوگیا۔ بوممئی نے کہا کہ جب مشتبہ ملزم کی گزشتہ زندگی کا جائزہ لیا گیا، تو یہ واضح ہوگیا کہ موقع سے ملے آدھار کارڈ میں نام اس شخص سے الگ تھا، جو اسے لے جارہا تھا۔ مشتبہ کے پاس ڈوپلیکیٹ آدھار کارڈ تھا۔ اس میں ہبلی کا پتہ تھا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ جب پولیس نے مشتبہ کے پتہ اور اس کے ٹھہرنے کے مقام کا پتہ لگایا تو مزید جانکاری سامنے آئی۔
جانچ میں این آئی اے اور آئی بی بھی شامل
بوممئی نے کہا کہ پہلی نظر میں یہ ایک دہشت گردانہ واقعہ ہے۔ کوئمبتور یا دیگر مقامات پر اس نے سفر کیا تھا، جو واضح طور پر اس کے دہشت گردوں سے لنک کی جانب اشارہ کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی تفتیشی ایجنسی (این آئی اے) اور انٹلیجنس بیورو (آئی بی) کے عہدیدار بھی معاملے کی جانچ میں ریاستی پولیس کے ساتھ شامل ہوگئے ہیں۔ این آئی اے کی چار رکنی ٹیم موقع پر پہنچ گئی ہے اور پولیس کے ساتھ مل کر کام کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشتبہ فی الحال اسپتال میں ہے۔ اس کے ہوش میں آنے کے بعد آگے کی جانچ کی جائے گی۔ جانچ سے مزید معلومات سامنے آئے گی۔ ایک بڑا نیٹ ورک ہے، جس کا پردہ فاش کیا جائے گا۔