سری لنکا میں حلال اشیا کے خلاف مہم جاری
03:11PM Tue 19 Feb, 2013
سری لنکا کے ایک سخت گیر سنہالی بدھ مت گروپ نے ملک میں حلال اشیا کے بائیکاٹ کی مہم شروع کی ہے۔
بودو بالا سینا گروہ نے دوسرے مذاہب کا پرچار کرنے والوں سے بھی کہا ہے کہ وہ ایک ماہ کے اندر سری لنکا سے چلے جائیں۔
بودو بالا سینا کے ہزاروں حامیوں نے دارالحکومت کولمبو کے مضافات میں ایک ریلی میں شرکت کی۔
سری لنکا میں حلال اشیا کے خلاف مہم ایسے وقت شروع ہوئی ہے جب ملک میں شدید مذہبی کشیدگی پائی جاتی ہے۔
بی بی سی کے نامہ نگار چارلس ہیویلینڈ نے کولمبو سے بتایا ہے کہ گزشتہ کچھ عرصے سے مسجدوں اور مندروں پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اس کے علاوہ مسلمانوں کےکاروباروں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔
بودو بالا سینا نے حلال گوشت کا بائیکاٹ کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور دکانداروں سے کہا ہے کہ وہ حلال اشیا کے اپنے تمام ذخیروں کو اپریل تک ختم کر دیں۔
ریلی کے نوجوان شرکاء نے ایسی شرٹیں پہن رکھی تھیں جن میں جانوروں کو ذبح کرنے کے مسلمانوں کے طریقے کی مذمت کی گئی ہے۔
بودو بالا سینا کے سیکرٹری جنرل گالابودا گننسارا نے ریلی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سنہالی قوم کو صرف بدھت مت راہب ہی بچا سکتے ہیں۔
بودو بالا سینا کے سیکرٹری نے دعویٰ کیا کہ مسلمان اور عیسائی شدت پسند بدھ مت کے ماننے کو دھمکا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب سینکڑوں بدھ مت لڑنے کے لیے تیار ہیں۔
البتہ بودو بالا سینا نے تردید کہ وہ مسجدوں پر حالیہ حملوں میں ملوث ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ اقلیتوں کے خلاف نہیں ہیں۔
انہوں نےکسی ملک کا نام لیے بغیر کہا کہ کچھ بیرونی ممالک مسلمانوں اور عیسائیوں کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔
سری لنکا کے صدر مہندا راجا پکشے نے بدھ مت راہبوں سے کہا ہے کہ وہ ملک میں مذہبی منافرت پھیلانے سے گریز کریں۔
بی بی سی کے نامہ نگار کو حزب مخالف کے ایک رکن مجیب الرحمٰن نے بتایا ہے کہ سری لنکا میں حالات انتہائی کشیدہ ہیں اور کسی وقت بھی مسلمانوں اور سنہالیوں کے مابین نسلی فسادات چھڑ سکتے ہیں۔
BBC
BBC