بھٹکل میں چند پولس اہلکاروں پر لگا جانور پالنے والے نوجوان اور گھر والوں کی پٹائی کا الزام: نوجوان کے گھر والوں کی طرف سے درج ہوئی ایف آئی آر۔ ڈی ایس پی نے دیا تحقیقات کا حکم
02:31PM Sun 13 Jun, 2021
بھٹکل: 13 جون، 2021 (بھٹکلیس نیوز بیورو) بھٹکل میں ایک نوجوان سمیت اس کے گھر والوں کو جانور گھر میں ہونے کی بنیاد پر پولس کی طرف سے زدو کوب کرنے کا الزام لگاتے ہوئے آج بھٹکل پولس تھانہ میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔یہ معاملہ حلانکہ 8 جون کا ہے لیکن اس سلسلے میں آج ہی ایف آئی آر درج کی گئی ہے ۔
اطلاع کے مطابق بندر روڈ ففتھ کراس میں رہنے والے عبدالمقسط شنگیری کے گھر میں بہت سے پالتو جانور ہیں جن میں بیل اور گائے بھی ہیں جن کو کئی سالوں سے ان کے گھر میں پالا پوسا جاتا ہے ۔ 8 جون کی صبح ان کا جانور گھر سے بھاگ گیا تھا جس کےبعد کچھ دوستوں کی مدد سے اس نے جانور کو قابو میں کر لیا تھا اور گھر کے کمپاؤنڈ میں باندھ ہی رہا تھا کہ کچھ پولس اہلکار بغیر نوٹس دیے ان کے گھر میں داخل ہوئے اور جانور کے کاغذات پوچھتے ہوئے جانور کو لے کر چلنے لگے ۔ جب عبدالمقسط نے اس بارے میں سوال کیا تو اس کی پٹائی کرتے ہوئے اسے پولس جیپ پر بٹھا دیا گیا تاہم جب ان کے بھائی نے پولس سے وجہ جاننے کی کوشش کی تو ان کے ساتھ بھی بد تمیزی کی گئی اور پولس انہیں بھی اپنے ساتھ لے گئ۔جس کے بعد پولس واپس پھر ایک بار گھر پہنچ کر گھر میں موجود ان کے بھانجے محمد سالم (16) اور شفیع اللہ (18) کو بھی تھانہ لے گئی ۔
عبدالمقسط کے بھائی عبدالمقیت کے مطابق ان سبھی کی پولس نے خوب دھلائی کی اور بہت زیادہ ٹارچر کیا اور شام کے وقت ان سبھی کو رہا کردیا گیا۔ تاہم عبدالمقسط کی حالت بہت زیادہ ہی خراب ہونے کی وجہ سے انہیں سرکاری اسپتال سے مزید علاج کے لیے مینگلورو روانہ کیا گیا ۔
مینگلورو میں زیر علاج عبدالمقسط کا کہنا ہے کہ پولس نے ان سے جانوروں کے کاغذات کا مطالبہ کیا تھا ۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے گھر میں ایک زمانے سے جانور پالنے کا سلسلہ چلا آرہا ہے۔ ایسے میں اگر پولس گھر میں پلے جانوروں کے کاغذات کا مطالبہ کرتی ہے تو کاغذات کیسے مہیا کرائے جا سکتے ہیں؟۔
پولس کے اعلیٰ افسران نے اس وقعہ پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے علم میں یہ بات آئی ہے اور انہوں نے سرکل انسپکٹر دیواکر کو اس کی تحقیقات کرکے رپورٹ سونپنے کا حکم بھی دیا ہے۔
اس تعلق سے بھٹکل کے عوام میں کافی غصہ پایا جارہا ہے اور پولس کی اس حرکت پر سخت کارروائی کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔