سنئیر صحافی اور سہارا کے سابق مارکٹنگ منیجر جمشید حسن کا انتقال، میت ابائی وطن سیوان روانہ

03:50PM Sun 22 Aug, 2021

ممبئی: ملک کے مشہور اردو روزنامہ سے ایک عرصہ تک وابستہ رہے اور پھر ملک کے مختلف اردو اخبارات میں مارکیٹنگ ہیڈ کے طور پر اپنی خدمات انجام دینے والے جمشید حسن نے آج صبح 6 بجے جنوب وسطیٰ ممبئی کے ٹاٹا میموریل اسپتال میں داعی اجل کو لبیک کہا۔ ذرائع کے مطابق وہ بلڈ کینسر کا شکار تھے اور گزشتہ ایک ماہ سے زیر علاج تھے۔ پسماندگان میں بیوہ ایک بڑی بیٹی ثناء حسن اور دو بیٹے ثاقب حسن اور انجم حسن ہیں، ان کی عمر 61 سال تھی۔
ممبئی میں ان کے چھوٹے صاحب زادے محمد انجم حسن نے مطلع کیا کہ ا ن کی نعش کو صبح 10 بجے آبائی وطن سیوان بہار بذریعہ ایمبولنس روانہ کر دیا گیا۔ ان کے ساتھ بڑے بھائی اور رشتہ دار ہیں۔ جبکہ دیگر اہل خانہ بذریعہ ہوائی جہاز روانہ ہوگئے ہیں۔ سیوان میں ان کے آبائی گاؤں میں تدفین عمل میں آئے گی۔ واضح رہے کہ امسال مارچ سے وہ علیل تھے اور ایک ماہ سے ٹاٹا اسپتال ممبئی میں زیر علاج تھے۔
جمشید حسن ٹائمز آف انڈیا سے سہارا میں آئے تھے، اُردو اخبارات میں ان کی قسم کے مارکیٹنگ منیجر نہیں ہوتے تھے۔ سہارا کے بعد چند سال روزنامہ انقلاب سے وابستہ رہے اور پھر سید فیصل علی کے ساتھ روزنامہ سچ کی آواز میں کام کرنے لگے، لیکن گزشتہ سال ستمبر میں انہوں نے الحباب اخبار دہلی سے شروع کیا تھا۔ سہارا میں بھی ان کے مضامین ہمیشہ شائع ہوتے تھے۔
سابق گروپ ایڈیٹر روزنامہ راشٹریہ سہارا، عزیز برنی نے جمشید حسن کے انتقال پر گہرے رنج وغم کا اظہار کیا ہے اور انہوں نے کہا کہ دونوں کا تعلق ایک عرصہ تک رہا۔ اردو اخبارات کو اشتہارات کے ذریعہ مالی طور پر مستحکم کرنے کے لیے ان کی خدمات کو یاد رکھا جائے گا۔ سنئیر صحافی جاوید جمال الدین نے بھی تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے سہارا میں تقریباً دس سال ایک ساتھ کام کیا۔ سنجیدہ اور سلجھے ہوئے انسان تھے اور اپنے کام کو بہتر طور پر انجام دیتے تھے۔ ماتحت عملے سے بہتر سلوک کرتے تھے اور نرم گفتار تھے۔
معروف اردو نیوز چینل نیٹ ورک 18 کے روح رواں تحسین منور نے گہرے غم کا اظہار کیا اور کہا کہ مرحوم ایک نفیس انسان تھے، غالباً ٹائمز آف انڈیا سے سہارا میں آئے تھے، اُردو اخبارات میں ان کی قسم کے مارکیٹنگ منیجر نہیں ہوتے تھے۔ انہوں نے اپنی ایک الگ شناخت بنائی تھی۔ وہ خود کو ایک ایگزیکٹیو کی طرح پیش کرتے تھے۔ خوش لباسی اُن کی پسند تھی۔ قد و قامت اور پھر اس پر شرافت، کل ملاکر محنتی انسان تھے۔ اللہ ان کی مغفرت فرمائے اور ان کے درجات بلند کرے اور لواحقین کو صبر و قرار ملے۔ انا للّٰہ وانا الیہ راجعون، اللہ تعالیٰ مغفرت فرمائے اور جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے۔ آمین