مولانا دریابادی ؒ کے عاشق ، ایک شریف النفس انسان کی موت (۲)۔۔۔ تحریر: عبد المتین منیری۔ بھٹکل

08:10AM Sun 7 Feb, 2021

طالب علمی کے اس دور میں آپ کو عثمان حسن جوباپو جیسے نیک سیرت اور باذوق  ساتھیوں کی رفاقت ملی، عثمان حسن گریجویشن کی تکمیل کے لئے اسمعیل یوسف کالج  میں داخل ہوگئے تھے، جہاں انہیں  مولانا نجیب اشرف ندوی اور ڈاکٹر  ابراہیم ڈار جیسے محققین  کی شاگردی نصیب ہوئی ، سعید صاحب کو یہاں پر مولانا شریف محی الدین اکرمی مرحوم کی شاگردی بھی نصیب ہوئی ،  اس زمانے میں قاضی عطاء اللہ مرگھے ممبئی کے سرقاضی تھے، لیکن عملی طور پر اکرمی صاحب ہی قضاء کی جملہ ذمہ داریاں سنبھالے ہوئے تھے، فقہ اور قانون پر آپ کی دسترس کا یہ عالم تھا کہ اے ، اے ، اے فیضی (عطیہ فیضی کے عزیز)   جیسے نامور قانون دان اور وکیل آپ سے مشورے لینے آتے تھے،  اس زمانے میں محی الدین منیری مرحوم انجمن اسلام شعیب ہائی اسکول میں تدریس سے وابستہ تھے،  یہ آپ کی نوجوانی کا  دورتھا، عثمان و سعید کے ایک رفیق ظفر علی معلم مرحوم ( سابق جنرل سکریٹری انجمن حامی مسلمیں بھٹکل) بتاتے تھے کہ منیری صاحب کے پاس اس زمانے میں وسائل نہ ہونے کے باوجود  ممبئی میں اعلی تعلیم کے خواہشمند غیرمستطیع بھٹکل کے نوجوانوں کی ہمت افزائی کرتے ، اور ان کی  کفالت، کھانے پینے کے انتظامات کے لئے اہل خیر سے   رابطہ کرتے  تھے، اس طرح وہ ان نوجوان نسل سے مربوط رہتے، اور ان کی ہمت افزائی کرتے تھے، ان نوجوانوں میں مطالعہ کا ذوق پیدا کرنے کے ممبئی میں آپ کی سرپرستی میں ایک  حلقہ قائم ہوا تھا، جس میں باقاعدہ طور پر مولانا عبد الماجد دریابادی کی معرکۃ آراء  کتاب مردوں کی مسیحائی  کا اجتماعی مطالعہ بھی  کروایا گیا تھا، اس  کے نتیجے میں   سعید صاحب اور ان کے رفقاء میں کتب بینی کا شوق پیدا ہوا، آپ کی رہائش گاہ کے قریب میمن لائبریری  واقع تھی، یہاں سے ان حضرات کو خوب کتابوں کا مطالعہ کرنے اور اپنے علم کی پیاس بجھانے کا موقعہ ملا۔

مولانا دریابادی سے آپ کی محبت کی داغ بیل یہیں سے پڑی، پھر ایسا ہوا کہ تقسیم ہند کے ہنگامہ خیز دور میں جب کہ پور ا ملک فرقہ وارانہ فسادات میں جھلس رہا تھا، اور ملک کے عرض وطول میں مسلمان  خانماں برباد ہورہے تھے، لیکن اردو اخبارات میں یہ خبریں نہیں  ہوسکتی تھیں، ان پر ایک طرح سے پابندی تھی، سعید صاحب بتاتے تھے کہ صدق جدید میں ان کی رپورٹیں انگریزی اور غیر ملکی اخبارات کے حوالے سے آتی تھیں، لہذا انہیں یہ پرچہ انتظار کرکے پڑھنے کی عادت ہوگئی، مولانا دریابادی کی تحریروں سے آپ کے عاشقانہ تعلق پیدا ہونے کا  ایک باعث یہ بھی تھا۔

اسکول میں تعلیم کے دوران ہی آپ   ڈی اے ابو بکر اینڈ اسماعیل کمپنی   میں ملازمت سے منسلک ہوگئے، اس وقت کے لحاظ سے کمپنی کی برآمدات  زوروں پر تھی، عدن وغیرہ م مال جاتا تھا، خلیجی ممالک سے عربوں کی آمد کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا تھا،   یہاں کے شیوخ بھی دکان پر آتے تھے، دبی کے شیخ راشد بن سعید آل مکتوم رحمہ اللہ  وغیرہ بھی وقتا فوقتا  یہاں آتے تھے ، اور عام لوگوں کی طرح آکر یہاں بیٹھتے تھے۔ اس طرح سعودی عرب کے سفیر شیخ فوزان مرحوم بھی آیا کرتے تھے، چونکہ سعید صاحب پڑھے لکھے تھے  اکسپورٹ کے انتظامات اور کاغذی کاروائی  وغیرہ جملہ ذمہ داریاں  آپ ہی کے ذمہ ہوا کرتی، جس سے آپ کو اس میدان میں اچھا خاصا تجربہ  حاصل ہوگیا،گھر کی ذمہ داریاں بڑھ رہی تھیں، لیکن تنخواہ ابھی محدود تھی،  اور پچاس روپئے  ماہوار سےآگے نہیں بڑھ رہی تھی، لہذا آپ نے اور  آپ کے تین ساتھیوں عبد الحمید دامودی،  اسماعیل دامودی اور محمد سعید دامودی  کے  ملازمت سے ۱۹۶۰ء میں  علحدہ ہونے  کا فیصلہ کیا۔ اللہ نے برکت دی، اب تک   محدود پیمانے پر بالواسطہ اکسپورٹ کا کاروبار کرتے آرہے تھے، تو اس زمانے میں دبی کے ایک تاجر عبد الوہاب طاہری نے انہیں براہ راست اکسپورٹ کرنے کا مشورہ دیا، ایک اور تاجر احمد بن سعید الملا نے   تعاون کا ہاتھ بڑھاتے ہوئے برٹش بنک آف میڈل ایسٹ میں اپنی ضمانت پر آپ کا  کھاتہ کھول دیا۔ ۱۹۶۲ء میں آپ کے پارٹنر محمد سعید دامودی نے  پہلی مرتبہ دبی ، بحرین اور کویت کا دورہ کیا تاکہ یہاں پر پھنسی ہوئی رقم  کی واپسی کا کوئی نظم کیا جاسکے، اس زمانے میں  رحمت اللہ روڈ پر مسجد اسٹریٹ کے نکڑ پر  دو دوکانیں چھوڑ کر ابوبہار ، اور ابو کو کے نام سے کاروبار اور برآمدات کے لئے دکان اور آفس قائم ہوئے۔

اسی سال سعید حسین دامودی صاحب پانی  جہاز سے  دبی  تشریف آئے، ا اس وقت الراس اور اس کے بالمقابل بر دبی  پر  پختہ حد بندیاں اور سڑکیں نہیں تھیں،  نہر کو لگ کر ریتیلا ساحل تھا،  دور ساحل  سمندر کے قریب آپ کا جہاز لنگر انداز ہوا، وہاں سے  مانجھی  (بڑی کشتی)  انہیں  بر دبی کے کنارے وہاں لے آئی جہاں اب  ہیچ ایس بی سی بنک کی عمارت ایستادہ ہے، اور ریت کنارے آپ کو اتار دیا،  وہاں سے نہر پار کرکے  دیرہ  ، چار آنہ عبرہ کے پاس  کویا ہوٹل میں آکر   آپ ٹہر گئے، جب یہاں کے تاجر عبد الرحیم زرعونی کو اس کی اطلاع ملی  تو آپ کو اپنے گھر لے گئے، پھر یہاں کے تاجروں عبد العزیز بن  فارس، اور عبدالرحمن بن فارس نے بھی آپ کا خیال رکھا،  کچھ روز گزرنے کے بعد  جہاں الراس میں  اب سینٹ جارج ہوٹل واقع ہے اس کے قریب  سلطان بن عویس کے خالی بڑے وسیع مکان میں تنہا ٹہر نے کا انتظام ہوا، کچھ دنوں بعد  یہاں سے منتقل ہو کر کویتی مسجد کے قریب ایک فلیٹ کرائے پر لیا،  اس زمانے میں مسجد کا یہ علاقہ ٹہرنے کے قابل نہیں تھا، کچھ دنوں بعد سلطان بوشالات نے آپ کو سبخہ میں رہنے کے لئے ایک مکان دلایا،  اس طرح دبی میں  تجارت یا تلاش معاش کے لئے اقامت پذیر کسی پہلے بھٹکلی  نے یہاں پر قدم جمائے، اور پھر  ان کی آمد کا ایک سلسلہ چل پڑا اور اس دوران ہزاروں  بھٹکلیوں کی اس شہر سے روزی روٹی وابستہ ہوئی، اور بھٹکل نے دوبارہ   خوشحالی کے دن دیکھے، اللہ دبی اور  امارات کو تا قیامت شاد وآباد رکھے ۔

ممبئی میں  آپ کو علمی و ادبی شخصیات سے ملنے   کے مواقع نصیب ہوئے، منیری صاحب  یہاں کے علمی و سماجی حلقوں سے مربوط ،ماہر القادری اور دوسری علمی و ادبی شخصیات  یہاں تشریف لاتیں تو آپ کو بھی  اپنے  ساتھ ان کی نجی مجلسوں میں لے جاتے، آپ کے ساتھ  بارہا سفر  کا  بھی انہیں موقعہ ملا تھا، کہتے تھے کہ منیری صاحب بھٹکل سے ممبئی کے لئے نکلتے تو راستے میں ، کمٹا، سرسی ، ہبلی ، اور پونے میں اترتے، یہاں کے اعیان قوم آپ کی آمد پر جلسے اور تقریروں کے پروگرام رکھتے اور ان کی پوری خاطر تواضع  کا اہتمام کرتے ،پونے آتے تو یہاں   تاجر چار بھائی بیڑی والے آپ کے اعزاز و اکرام  کا خاص خیال رکھتے تھے،  جب جامعہ اسلامیہ بھٹکل کے قیام کا ارادہ کرکے بانیان جامعہ  ممبئی وارد ہوئے تو ایک مشاورتی جلسہ ڈی اے ابوبکر و اسماعیل صاحبان کی رہائش گاہ واقع ابراہیم رحمت اللہ روڈ بمئی میں ۱۹ شوال ۱۳۸۱ھ مطابق ۲۶ مارچ ۱۹۶۲ء کی شب میں جناب محی الدین صاحب منیری کی صدارت میں منعقد ہوا۔۔۔۔  بانی جامعہ ڈاکٹر ملپا علی صاحب   کے مطابق ((حاضرین جلسہ نے جناب محی الدین منیری سے جامعہ کیلئے فورا بلاتاخیر کام شروع کردینے کی تاکید کی اور کام کی شروعات کیلئے ساڑے تین ہزار روپئے کا اسی وقت انتظام کردیا۔۔۔۔جناب ڈی اے ابو بکر صاحب اور ڈی اے اسماعیل صاحب سے تعلق رکھنے والے بچوں عبد الحمید دامودی ، اسماعیل دامودی، محمد سعید محی الدین دامودی، محمد سعید حسین داموی نے مل کر جو گھڑی کے فرم میں کام کرتے اور تین روز سے دینی تعلیم کے چرچے چلتے پھرتے سنتے تھے، دینی جوش وجذبے سے متاثر ہوکر  اپنی طرف سے بالکل اپنی جیب خاص سے مبلغ ایک ہزار روپیہ دینے کا  اعلان کیا، اور بلا ترغیب و فرمائش کے خود بخود رقم پیش کی۔ (روداد اجلاس اول ۔ صفحہ ۴۶) ۔ ان ساتھیوں میں سے ایک جناب عبد الحمید دامودی صاحب نے ہم سے فرمایا تھا، کہ  ڈی اے کمپنی چھوڑنے کے بعدتجارت سے  ہونے والی یہ  ان کی پہلی کمائی تھی، اور بعد کی زندگی میں اللہ تعالی نے انہیں جس طرح مالامال کیا یہ اسی کی برکت کا نتیجہ ہے۔ واضح رہے جس وقت  یہ ہزار روپئے دئے گئے تھے اس وقت آٹھ گرام سونے کی گنی پچاس روپئے میں بکتی تھی۔  آج کے حساب سے اس سونے کی   مالیت  سات لاکھ روپئے بنتی ہے۔

 آپ کے دبی آنے کے ابتدائی سات آٹھ سال  تک تو بھٹکلی احباب کا یہاں اپہنچنے کا سلسلہ بہت ہی محدود تھا، لیکن جب ۱۹۶۹ء کے آس پاس لوگوں کے آنے کا سلسلہ   شروع ہوا، اور بھٹکل و اطراف کے کئی ایک فکر مند نوجوان  یہاں جمع ہوگئے جن میں  جناب ماوڑ عبد الحمید صاحب(بیندور)  ، محمد حسین مصباح ، صدیق محمد جعفری وغیرہ مرحومین کانام سرفہرست ہے تو اپنے علاقے کی افراد پر مشتمل   اجتماعی نظم کی ضرورت محسوس ہوئی ، اور نوائط گلف ایسو سی ایشن کے نا م سے آپ کی رہائش گاہ پر ایک پلیٹ فارم تشکیل پایا، جس کے آپ صدر منتخب ہوئے،   یہاں کی بھٹکل مسلم جماعت اسی کا تسلسل ہے۔

  سعید صاحب ابتدا سے قومی اداروں انجمن ، تنظیم ، جماعت المسلمین وغیرہ سے وابستہ رہے، ۱۹۶۹ء میں  تنظیم کی تشکیل نو کے لئے منیری صاحب کو ایڈمنسٹریٹر مقرر کیا گیا، تو آپ کی سرپرستی میں تنظیم کے  حسابات کی جانچ   پڑتال کے عمل میں بھی ابتدا میں شریک رہے۔  ۱۹۷۴ ء میں جب مستورات کی تعلیم کے لئے جامعۃ الصالحات کی جب بنا ڈالی گئی ، تو اس کام میں آپ آگے آگے رہے۔  آج سے بیس سال قبل جب مولانا سید ابو الحسن اکیڈمی کی بنا رکھی گئی تو وہ اس میں شریک رہے،اور اپنا مکان صدیق نشیمن اس کی سرگرمیوں کے لئے دیا، اس طرح علی  پبلک اسکول  کے وہ تاسیسی رکن رہے، اور اس کے لئے بڑھ چڑھ کر تعاون پیش کیا۔ وہ مولانا دریابادی کے عاشق زار تھے، تفسیر ماجدی ، محمد علی ذاتی ڈائری کے چند اوراق اور مولانا کی کئی کتابوں کی اشاعت کے اخراجات برداشت کئے ، اور ابھی آخر میں اس ناچیز کی درخواست پر سچ ، صدق ،صدق جدید کے آغاز ۱۹۲۵ سے نصف صدی سے زیادہ عرصہ پر پھیلے،اس کےکالم سچی باتیں کو  لائبریریوں سے کنگھال کر اسے ٹائپ کروانے کے لئے  ابتدائی تعاون پیش کیا، لیکن  اس عظیم پروجکٹ کے پایہ تکمیل تک پہنچنے سے پہلے ہی  آپ  نے آنکھیں بند کرلیں، کنڑی زبان میں قرآن مجید  کے پہلے ترجمہ  دیویا قرآن کی اشاعت میں تعاون کا سہرا بھی آ پ کو جاتا ہے۔ مرحوم نے اپنے ذاتی مال سے خیر کے کاموں میں ہمیشہ دست تعاون بڑھایا۔ ان کے نیک کام بہت ہے، جن میں سے بعض معروف ہیں، اور زیادہ تر پردہ خفا میں چھپے ہوئے، اس غفار ورحیم کی ذات سے امید ہے کہ ان کی لغزشوں اور گناہوں پر پردہ ڈال کر، ان کے نیک اعمال کو قبولیت حاصل ہوگی۔ اور انشاء اللہ اعلی علیین میں آپ  کو شامل کیا جائے گا۔اللہم اغفر لہ وارحمہ۔

2021-02-06

http://www.bhatkallys.com/ur/author/muniri/