متحدہ عرب امارات کا مریخ کو مسخر کرنے کے لیے بھیجا گیا مشن اُمیدِ تحقیق گذشتہ منگل کو کامیابی سے اس سیارے کے مدار میں داخل ہوگیاتھا۔یو اے ای سرخ سیارے پر پہنچنے والا پہلا عرب ملک ہے۔ دبئی میں واقع یو اے ای کے خلائی مرکز میں اس مشن کے کنٹرولروں کے مطابق امل (امید) نامی بغیرانسان خلائی گاڑی نے مریخ کے مدار تک پہنچنے کے لیے قریباً سات ماہ تک سفرطے کیا ہے اور اس نے 48 کروڑ کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا ہے۔ یادرہے کہ امریکا ، چین اور متحدہ عرب امارات نے جولائی 2020ء میں اپنے اپنے خلائی مشن مریخ کی جانب بھیجے تھے۔ان میں یو اے ای کا مشن سب سے پہلے مریخ پر پہنچنے میں کامیاب ہوا ہے۔وہ ان پانچ ممالک کی صف میں شامل ہوگیا ہے جن کے خلائی مشن مریخ پر پہنچ چکے ہیں۔ واضح رہے کہ اس سے پہلے دنیا کے مختلف ممالک کی جانب سے مریخ کو مسخر کرنے کے لیے بھیجے گئے مشنوں میں سے 60 فی صد ناکام رہے تھے اور وہ مریخ کے پیچیدہ کڑے ماحول میں داخل نہیں ہوسکے تھے۔وہ ٹوٹ کر بکھر گئے یا وہاں جل کرراکھ ہوگئے۔اسی وجہ سے مریخ کو بہت سے خلائی مشنوں کا قبرستان بھی کہا جاتا ہے۔ یو اے ای کی خلائی گاڑی مریخ کی موسمیاتی حرکیات کی تحقیقات کے لیے بھیجی گئی ہے۔یہ مشن مریخ کے ایک مکمل سال تک مدار میں موجود رہے گا۔ایک مارشین سال 687 زمینی دنوں کے برابر ہے۔