سپریم کورٹ نےمرکزسے کہا۔۔کل تک الیکشن کمشنرارون گوئل کی تقرری کی فائلیں کریں پیش
01:39PM Wed 23 Nov, 2022
سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت سے کہا ہے کہ وہ جمعرات (24 نومبر) کو الیکشن کمشنر ارون گوئل کی تقرری سے متعلق فائل عدالت میں پیش کرے۔ عدالت نے یہ ہدایت چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمشنرز کی تقرری کو مزید شفاف بنانے کے مطالبے کی سماعت کے دوران دی ہے۔ ججوں نے کہا کہ حالیہ تقرری سے انتخاب کے جاری عمل کی بہتر بنانے میں مد د ملے گی ۔
19 نومبر کو سابق آئی اے ایس ارون گوئل کو الیکشن کمشنر مقرر کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا۔ درخواست گزار کے وکیل پرشانت بھوشن نے کہا کہ آئینی بنچ نے 17 نومبر سے سماعت شروع کی تھی۔ بنچ کو درخواست پر بھی غور کرنا پڑا، جس میں فیصلہ آنے تک الیکشن کمیشن کی تقرریوں کو روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے، لیکن پھر بھی حکومت نے نئے الیکشن کمشنر کی تقرری کر دی ہے۔
'فائل دکھانے پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے'
جسٹس کے ایم جوزف کی سربراہی میں کیس کی سماعت کرنے والی 5 رکنی بنچ نے اس بات پر اتفاق کیا کہ نئی تقرری کی فائل کو دیکھنا ضروری ہے۔ اٹارنی جنرل آر وینکٹرامانی نے اسے غیر ضروری قرار دیا لیکن ججوں نے کہا کہ اگر اس تقرری میں کوئی کمی نہیں ہے تو حکومت کو فائل دکھانے پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہئے۔
'سی جے آئی، وزیر اعظم اور اپوزیشن لیڈرالیکشن کمشنروں کا انتخاب کریں'
درخواست گزار انوپ بارنوال نے 2015 میں الیکشن کمیشن کی تقرری کو مزید شفاف بنانے کی درخواست دائر کی تھی۔ اس عرضی میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ الیکشن کمشنروں کے انتخاب کا کام سپریم کورٹ کے چیف جسٹس، وزیر اعظم اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر کو سونپا جائے۔ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ اس وقت الیکشن کمشنرز کی تقرری حکومت کرتی ہے۔ اس نظام کو بدلنے کی ضرورت ہے۔