FIR lodged against Cockroach Janata Party over anti-national activities after massive Delhi protest
09:23PM Sat 6 Jun, 2026
دارالحکومت نئی دہلی کے جنتر منتر میں ہفتے کے روز ہونے والے ایک بڑے احتجاجی مظاہرے کے بعد نوجوانوں کی مقبول طنزیہ تنظیم کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے خلاف مبینہ طور پر ’’ملک مخالف سرگرمیوں‘‘ کے الزامات پر ایک شکایت درج کرائی گئی ہے۔
شکایت میں الزام لگایا گیا ہے کہ تنظیم کو بیرونِ ملک سے مالی معاونت حاصل ہو رہی ہے اور اس کے بانی ابھیجیت دیپکے نے امریکہ سے واپسی کے فوراً بعد دہلی میں احتجاج کا انعقاد کیا۔ یہ مظاہرہ NEET-UG 2026 کے پرچہ لیک ہونے اور سی بی ایس ای (CBSE) کے آن اسکرین مارکنگ (OSM) نظام میں بے ضابطگیوں کے خلاف منعقد کیا گیا تھا۔
ہفتے کے روز ہزاروں افراد ہاتھوں میں بینرز، پلے کارڈز اور مطالبات پر مبنی پوسٹرز اٹھائے جنتر منتر پہنچے۔ اس احتجاج کی قیادت کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے کر رہے تھے۔ پولیس سے باقاعدہ اجازت حاصل کرنے کے بعد منعقد ہونے والے اس اجتماع میں بڑی تعداد میں اسکول اور کالج کے طلبہ، نوجوان پیشہ ور افراد اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے نوجوان شریک ہوئے۔
سونم وانگچک بھی احتجاج میں شریک
معروف ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک بھی احتجاج میں شرکت کے لیے دہلی پہنچے۔ انہوں نے اس سے قبل اعلان کیا تھا کہ اگر 5 جون تک متعلقہ معاملات پر کوئی مؤثر کارروائی نہ ہوئی تو وہ احتجاج میں شامل ہوں گے۔
احتجاج سے قبل ابھیجیت دیپکے نے اپنے حامیوں سے اپیل کی تھی کہ وہ مکمل طور پر پرامن انداز میں احتجاج کریں۔ انہوں نے کارکنوں کو ہدایت دی کہ وہ پولیس اہلکاروں کے ساتھ احترام کا رویہ اختیار کریں اور ان کا استقبال پھول پیش کرکے کریں۔
جنتر منتر اور دہلی میں سکیورٹی کے سخت انتظامات
کاکروچ جنتا پارٹی کی جانب سے احتجاج کے اعلان کے بعد دہلی میں سکیورٹی کے غیرمعمولی انتظامات کیے گئے۔ پولیس نے اندرا گاندھی بین الاقوامی ہوائی اڈے (IGI Airport)، دہلی کی سرحدی چیک پوسٹوں اور دیگر حساس مقامات پر اضافی نفری تعینات کی۔
اطلاعات کے مطابق ایک ہزار سے زائد پولیس اہلکار نئی دہلی اور دیگر اہم علاقوں میں تعینات کیے گئے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹا جا سکے۔
دوسری جانب کاکروچ جنتا پارٹی نے بھی اپنے حامیوں کے لیے خصوصی ہدایات جاری کیں تھی، جن میں زور دیا گیا تھاکہ احتجاج مکمل طور پر عدم تشدد پر مبنی ہو اور کسی بھی قسم کی محاذ آرائی یا اشتعال انگیزی سے گریز کیا جائے۔۔
حکام کی جانب سے نجی ٹیکسی سروسز جیسے اولا (Ola) اور اوبر (Uber) پر بھی نظر رکھی گئی تھی، تاکہ جنتر منتر کی جانب غیرمعمولی نقل و حرکت کا جائزہ لیا جا سکے۔ اس کے علاوہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی نگرانی بھی بڑھا دی گئی تھی، تاکہ امن و امان کی صورتحال برقرار رکھی جا سکے۔
کاکروچ جنتا پارٹی کی تیزی سے بڑھتی مقبولیت
کاکروچ جنتا پارٹی کا آغاز دراصل گزشتہ ماہ ایک عدالتی سماعت کے دوران چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس سوریہ کانت کے بعض متنازع ریمارکس کے ردعمل میں کیا گیا تھا۔ سماعت کے دوران انہوں نے بعض افراد کے لیے ’’کاکروچ‘‘ اور ’’پیراسائٹس‘‘ جیسے الفاظ استعمال کیے تھے، جس کے بعد سوشل میڈیا پر طنزیہ انداز میں اس تنظیم کی بنیاد رکھی گئی۔
چند ہی ہفتوں میں یہ گروپ غیرمعمولی مقبولیت حاصل کرنے میں کامیاب رہا اور سوشل میڈیا پر اس کے فالوورز کی تعداد تقریباً 2 کروڑ 20 لاکھ (22 ملین) تک پہنچ گئی۔
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے، جو بوسٹن یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم ایک سیاسی مہم کار بتائے جاتے ہیں، نے اس تحریک کا آغاز نوجوانوں کے مسائل اجاگر کرنے کے مقصد سے کیا۔ تنظیم کے منتظمین نے سوشل میڈیا کے ذریعے ہزاروں افراد کو ہفتے کے روز ہونے والے مارچ میں شرکت کی دعوت دی۔
مظاہرین نے NEET اور OSM سے متعلق تنازعات کے حوالے سے مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ بھی کیا اور امتحانی نظام میں شفافیت یقینی بنانے پر زور دیا۔
اس دوران درج کی گئی شکایت کے بعد اب یہ معاملہ ایک نئی سیاسی اور قانونی بحث کا موضوع بن گیا ہے، جبکہ حکام کی جانب سے الزامات کی جانچ اور احتجاج کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔