بڑھ سکتی ہیں ڈاکٹر کفیل خان کی مشکلات ، ہائی کورٹ کے حکم کے خلاف سپریم کورٹ پہنچی یوگی حکومت

03:01PM Sun 13 Dec, 2020

اترپردیش کی یوگی حکومت نے ڈاکٹر کفیل خان کی این ایس اے کے تحت نظربندی کو خارج کرنے کے ہائی کورٹ کے فیصلہ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے ۔ ڈاکٹر کفیل خان کو اشتعال انگیز بیان دینے کے معاملہ میں این ایس اے کے تحت نظربند کیا گیا تھا ۔ اس معاملہ میں الہ آباد ہائی کورٹ سے راحت ملنے کے بعد ڈاکٹر کفیل کو رہا کردیا گیا تھا ۔ ڈاکٹر کفیل خان گورکھپور میڈیکل کالج میں ڈاکٹر تھے ۔ یوگی سرکار نے سپریم کورٹ میں ڈاکٹر کفیل پر لگے الزامات کو انتہائی سنگین بتایا ہے ۔ سپریم کورٹ میں یوپی سرکار نے کہا ہے کہ الہ آباد ہائی کورٹ نے ڈاکٹر کفیل خان پر لگے الزامات کا پورا جائزہ نہیں لیا ۔ بتادیں کہ شہریت ترمیمی قانون اور این آر سی کو لے کر اشتعال انگیز تقریر کرنے کے الزام میں ڈاکٹر کفیل خان کو گرفتار کیا گیا تھا ۔ یکم ستمبر 2020 کو الہ آباد ہائی کورٹ نے خان پر لگائے گئے این ایس اے کو غلط بتاتے ہوئے ہٹادیا تھا اور فورا رہائی کا حکم دیا تھا ۔ الہ آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس گووند ماتھر اور جسٹس سومیتر دیال سنگھ کی بینچ نے کفیل خان کو فورا رہا کرنے کا حکم دیا تھا ۔ قابل ذکر ہے کہ گزشتہ سال اگست میں کفیل خان کو گرفتار کیا گیا تھا ۔ ڈاکٹر کفیل پر علی گڑھ میں اشتعال انگیز بیان دینے کا الزام لگا تھا ۔ ڈاکٹر کفیل اگست 2017 میں گورکھپور میڈیکل کالج میں مبینہ طور سے آکسیجن کی کمی سے بڑی تعداد میں مریض بچوں کی موت کے معاملہ سے سرخیوں میں آئے تھے